Code : 2668 14 Hit

فریج میں بند قیدی

فلسطینی قیدیوں کی سزا گرفتاری اور پوچھ گچھ کے لمحہ سے ہی شروع ہوتی ہے جس کے لیے صیہونی حکومت مختلف طریقوں کا استعمال کرتی ہے جن میں قیدیوں کو منجمد کرنا اور ان کے سروں پر گرم اور ٹھنڈا پانی ڈالنا شامل ہے۔

ولایت پورٹل:رای الیوم اخبار کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی قیدیوں کے  تحقیقاتی مرکز کےڈائریکٹر رافت ہمدونہ نے بتایا کہ فلسطینی قیدی اور صیہونیوں کے  زیر حراست افراد تباہ کن حالت میں ہیں، صیہونی جیلوں میں  انھیں ہر طرح کی نفسیاتی اور جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے،ہمدونہ نے مزید کہا کہ صہیونی حکومت واحد حکومت ہے جو تشدد کو قانونی حیثیت دیتی ہے اور اس کی جیلوں میں  اذیت کے ایسے طریقے استعمال ہوتے ہیں جو بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہیں،انہوں نے مزید بتایا کہ قیدیوں پر تشدد ان کے حراست میں لیے جانے کے فورا بعد شروع ہوجاتے ہیں  ، ان سے سروں پر گندے تھیلے چڑھائے جاتے ہیں  انھیں سونے نہیں دیا جاتا،علاج نہیں کروایا جاتا، ریفریجریٹرزمیں بند کیا جاتاہے ، طویل عرصے تک کھڑے رکھا جاتا ہے،  اسیروں سے قرار لینے کے لیے ان کے درمیان جاسوس چھوڑے جاتے ہیں ،ان کے سروں پر نہایت گرم اور ٹھنڈا پانی ڈالا جاتا ہے،بہت تیز آواز میں میوزک بجائی جاتی ہے،  بیت الخلا جانے پر پابندی لگائی جاتی ہے ، شدید مار پیٹ اور سر میں شدید لرزش دی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں وہ فالج کاشکار ہوجاتے ہیں،ہمدونہ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور انسانی حقوق کی دیگر  تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ قیدیوں پر تشدد بند کرنے کے لئے صہیونی حکومت پر دباؤ ڈالیں،مذکورہ فلسطینی عہدہ دار  نے تمام فلسطین کی  تمام سرکاری اور غیر سرکاری  جماعتوں سے بھی مطالبہ کیا  ہےکہ وہ فلسطینی قیدیوں پر صیہونی حکومت کے غیر انسانی تشدد کو بے نقاب کریں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین