Code : 4894 5 Hit

اسلامی تہذیب کے اصول(2)

اس بناء پر اسلامی تہذیب ایک فعال و متحرک اور تعمیری تہذیب ہے جو ہمیشہ انسان کو ذہنی انقلاب و ارتقاء کے مختلف اطراف و جوانب میں ترقی و پیش قدمی کے لئے اشتیاق دلاتی رہتی ہے اور ہر نئی ایجاد و جدید انکشاف اور فطرت کے اسرار و رموز کی شناخت کو صرف انسانی تخلیق اور اس کے فضل و کمال کا مقصد سمجھتی ہے اور اسلامی تہذیب کی لغت و اصطلاح میں اسرار فطرت و رموزِ قدرت کی پردہ گشائی اور معرفت الٰہی کا نام دیا گیا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے کوشش کو عبادت الٰہی اور تقرب خدا کے مترادف سمجھا گیا ہے اور انسانی فضل و کمال کے لئے لازم و ضروری قرار دیا گیا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! گذشتہ کچھ مصامین سے ہماری یہ پیہم کوشش ہے کہ ہم آپ کی خدمت میں اسلامی تہذیب و ثقافت کے صحیح خد و خال پیش کر سکیں تاکہ ہر مسلمان اپنے ماضی کے آئینے میں اپنے حال اور مستقبل کا چہرہ دیکھ سکتا ہے۔ ہم  نے اسی سلسلہ کے پہلے مضمون میں اسلامی تہذیب کے کچھ  اہم اصول کا تذکرہ کیا تھا ، ایک بار پھر کچھ ان اصول کو بیان کرنے کا ارادہ ہے کہ جن کے بغیر ایک اسلامی تہذیب اور دینی ثقافت وجود میں نہیں آسکتی ، آئیے اس سلسلہ کے پہلے مضمون کا مطالعہ کرنے کے لئے ذیل میں دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:
اسلامی تہذیب کے اصول(1)
گذشتہ سے پیوستہ :قارئین کرام ! ہم نے پچھلے مضمون میں  اسلامی تہذیب کے کچھ بنیادی اصول اور اساسی ارکان کا تذکرہ کیا تھا ، مزید کا تذکرہ ملاحظہ فرمائیں:
د) فعّال و متحرِک اور تعمیری تہذیب
انسان کلی مفاہیم کے ایک تقاضے کی بناء پر زمیں پر ’’پروردگار عالم کی جانشینی اور خلافت الٰہیہ ‘‘ کے بلند مقام کا مالک ہے اور اس نے یہ مقام و مرتبہ علم و یقین اور عزم و ارادہ سے حاصل کیا ہے۔ اس واقعے کو قرآن مجید اس طرح نقل کررہا ہے:’’وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَۃِ إِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الأَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِیْہَا مَن یُفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاء  وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّیْ أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ۔وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَائَ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلاَئِکَۃِ فَقَالَ أَنبِئُونِیْ بِأَسْمَاء  ہَـؤُلٓائِ  إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ۔ قَالُواْ سُبْحَانَکَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّکَ أَنتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ۔ قَالَ یَا آدَمُ أَنبِئْہُم بِأَسْمَآئِہِمْ فَلَمَّا أَنبَأَہُمْ بِأَسْمَآئِہِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّکُمْ إِنِّیْ أَعْلَمُ غَیْْبَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا کُنتُمْ تَکْتُمُونَ۔وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلآئِکَۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِیْسَ أَبَی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ‘‘۔(سورۂ بقرہ:۳۰ تا ۳۴)
(یعنی اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین پر (اپنا ایک نائب)خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں تو فرشتوں نے (تعجب سے)کہا کہ کیا تو زمین پر ایسے شخص کو پیدا کرے گا جو اس میں فساد برپا کرے گا اور خوں ریزیاں کرتا پھرے گا حالانکہ ہم تیری حمدوثنا اور تسبیح و تقدیس کرتے ہیں۔تب پروردگار نے فرمایا بیشک جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے پھر آدم کو تمام چیزوں کے نام(حقائق)سکھادیئے پھر انھیں فرشتوں کے سامنے پیش کردیا اور فرمایا کہ (اگر تم اپنے دعوائے استحقاق خلافت میں) سچے ہو تو مجھے ان چیزوں کے نام بتائو۔ تب فرشتوں نے کہا کہ تو (ہر عیب سے)پاک و پاکیزہ ہے ہم تو جو کچھ تو نے ہمیں بتادیا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتے بیشک تو بڑا جاننے والا اور مصلحتوں کو پہچاننے والا ہے۔ اس وقت خدا نے آدم کو حکم دیا کہ تم ان فرشتوں کو ان سب چیزوں کے نام (حقائق) بتادو۔ پس جب آدم نے فرشتوں کو ان چیزوں کے نام(حقائق) بتادیئے تو خدا نے فرشتوں سے کہا کہ کیا میں تم سے نہ کہتا تھا کہ میں آسمانوں اور زمینوں کے چھپے ہوئے رازوں کو جانتا ہوں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو وہ سب بھی جانتا ہوں اور جب ہم (خدا) نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب کے سب سجدے میں جھک گئے مگر شیطان نے انکار کردیا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔
یہاں پر کسی کو کوئی غلط فہمی نہ ہو کیونکہ خلیفہ کا مفہوم اس معنی کے علاوہ ہے جو کسی وسیلے اور ذریعے یا کسی پیمانے و اوزار سے سمجھا جاتا ہے۔مثلاً جو روشنائی لکھنے والے (کاتب) کی انگلیوں کے بیچ لگ جاتی ہے اس میں اس کے شعور و عقل اور قصد وارادے کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتایا وہ کاتب جو کسی دوسرے کی گفتگو یا تقریر کا حرف بحرف بغیر کسی تصرف و تحریف کے املا لکھتا ہے وہ اس میں اپنا کوئی استقلال و اختیار نہیں رکھتا۔ مگر ’’خلیفہ‘‘ یا دوسرے الفاظ میں نمائندہ وہ شخص ہوتا ہے جو مستقل اور اختیاری طور پر اپنے قصد و ارادے کے ساتھ کسی شخص کے ارادوں اور منصوبوں کو مقررہ پروگرام کے مطابق حکیمانہ اختیارات و تصرفات اور مخصوص آشنائی و واقفیت کے ذریعے پورے اعتماد اور بھروسے کے ساتھ نافذ کرے اور عمل میں لائے۔
یہ بات بالکل صاف اور واضح ہے کہ اس مقام کی تحقیق خارج میں تصرفات میں مکمل آزادی کے ساتھ کی جانی چاہیئے (وہی آزادی کہ جس سے آسمان کے فرشتے خوفزدہ تھے اور انھوں نے یہ تاکید کی تھی کہ یہ انسان اپنی اس حالت و کیفیت کی وجہ سے کہ اس کے لئے خیرو شر کے راستے کھلے ہوئے ہیں آئندہ فتنہ و فساد کی جڑ اور سفاکی وخونریزی کا سبب بن جائے گا)۔
لیکن صرف اختیار و ارادے کی آزادی انسان کے لئے عظمت و فضیلت کا ذریعہ اور فضل و شرف کا موجب نہیں بن سکتے بلکہ انسان کی تمام فضیلت و کرامت اس بات پر منحصر ہے کہ وہ خیر و صواب اور حق و صداقت کا راستہ اختیار کرے اور اس راستے پر چلنا صرف علم ہی کے ذریعے ممکن ہوسکتا ہے۔ وہی علم و دانش جو زمین پر انسان کے ’’خلافت الٰہیہ اور نمائندگیٔ خدا‘‘کے مقام و مرتبے کا بنیادی رکن اور اصلی عنصر ہے۔
اس لئے اس عظیم ترین انسانی مرتبے بلند ترین بشری مقام تک پہنچنا اور فطرت میں تصرف نیز اس کی طاقتوں کی تسخیر یا تو اسباب و علل کی شناخت کی صورت میں ممکن ہے یا قرآنی اصطلاح میں ’’  تُعلِّمُ اسماء‘‘کے ذریعے ممکن ہے اور حقائق کی معرفت اور قوانین فطرت کی تلاش و جستجو میں اٹھنے والا ہر قدم اس مقدس منزل اور متبرک مقصد کی طرف بڑھنے والا قدم ہے جو انسان کے لئے بنایا گیا ہے اور فضل و کمال کے اس انتہائی درجے اور آخری مرتبے کو حاصل کرنے کی جدّوجہد ہے جو انسان کے لئے وجود میں لائی گئی ہے غرض کہ یہ اس ذمہ داری کی انجام دہی ہے جس کا قلادہ زندگی کے معاشرے نے اس کے گلے میں ڈال دیا ہے اور خدا وند عالم نے اس راہ پر چل کر انسانی کمال اور بشری معراج کی منزل تک پہنچنے کے لئے انسان کو تین وسائل و ذرائع ’’فطرت، دعوتِ انبیاء اور مصائب و آلام‘‘ کی طرف متوجہ ہونے کا حکم دیا ہے۔
اس بناء پر اسلامی تہذیب ایک فعال و متحرک اور تعمیری تہذیب ہے جو ہمیشہ انسان کو ذہنی انقلاب و ارتقاء کے مختلف اطراف و جوانب میں ترقی و پیش قدمی کے لئے اشتیاق دلاتی رہتی ہے اور ہر نئی ایجاد و جدید انکشاف اور فطرت کے اسرار و رموز کی شناخت کو صرف انسانی تخلیق اور اس کے فضل و کمال کا مقصد سمجھتی ہے اور اسلامی تہذیب کی لغت و اصطلاح میں اسرار فطرت و رموزِ قدرت کی پردہ گشائی اور معرفت الٰہی کا نام دیا گیا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے کوشش کو عبادت الٰہی اور تقرب خدا کے مترادف سمجھا گیا ہے اور انسانی فضل و کمال کے لئے لازم و ضروری قرار دیا گیا ہے۔
قرآن کریم نے ’’خشیت‘‘ کی صفت کو (جو کہ خوف و ہراس کے علاوہ ایک الگ مفہوم رکھتی ہے اور ایمان کی علامت و نشانی ہے۔(۱)صرف اہل علم و دانش اور صاحبان عقل و خرد کے لئے مخصوص کیا ہے۔
یعنی خدا اور فرشتوں اور اہل علم نے گواہی دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود قابل پرستش نہیں ہے جو عد ل و انصاف کے ساتھ (کارخانۂ عالم کا) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو کہ ہر چیز پر غالب اور صاحب علم و حکمت ہے۔
چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ:’’اِنَّمَا یَخْشِیَ اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلْمَآءُ‘‘۔(سورۂ فاطر:۲۸)
یعنی بے شک اللہ کے بندوں میں اس کا خوف رکھنے والے تو بس صرف علماء ہی ہیں۔
بنابریں کہ کچھ بیان کیا گیا اسلام کی ابدی و دائمی اور ہمہ جانبہ تہذیب جو کہ خداشناسی(عرفان الٰہی) کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے بذات خود تعمیر و ترقی کی خاصیت رکھتی ہے۔
ھ)اسلامی تہذیب کی وحدت و یکجہتی
اور یہ خصوصیت جو اسلامی تہذیب کی اہم ترین خصوصیت ہے اس معنی و مفہوم میں ہے کہ ہر وہ تہذیبی کوشش و کاوش جو تمام اطراف و جوانب میں کی جائے وہ تمام کوششوں اور کاوشوں سے ہماہنگ و مشابہ ہونی چاہیئے۔ تاکہ وہ انسان کے کانوں میں جہانِ ہستی کے نغمے سے رس گھولنے لگے۔ ایسا نغمہ جو تمام موجوداتِ عالم کی تسبیح و تقدیس کے ہمراہ و ہم آواز ہو۔
اجنبی تہذیبوں کے مقابلے میں اسلام کا موقف:
ہم نے ’’اجنبی اور بیرونی تہذیبوں کے مد مقابل اسلام کے موقف کا مختصر جائزہ لیتے ہوئے ایسے قانون کا استخراج کریں گے جس سے کہ بیسویں صدی کی جدید تہذیب (Modern Culture)کے ساتھ اسلام کا موازنہ قابل استفادہ ثابت ہوسکے‘‘۔
پہلی صدی ہجری کے اواخر میں ایک فرمانروا نے اسکندریہ کے دانشوروں کی ایک جماعت کے تعاون سے علم کیمیا پر لکھی گئی کتابوں کا ترجمہ کیا۔ یہ پہلا ثقافتی کارنامہ تھا جو غیر عربی اور غیر اسلامی ماخذوں سے انجام دیا گیا اور پھر اس کے بعد ’’ثقل و ترجمہ‘‘ کی ایک زبردست تحریک کا آغاز ہوا اور دوسری صدی ہجری کے وسط سے یہ تحریک اپنے اوج کمال پر پہنچ گئی اور عربوں اور مسلمانوں نے حیرت انگیز سرعت کے ساتھ بیرونی اور غیر ملکی زبانوں سے آشنائی حاصل کرکے تالیف و ترجمہ کے کاموں میں مشغول ہوگئے۔
اس مقام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ کتابوں اور ان کے مؤلفوں کے نام معتبرماخذوں سے نقل کرتے چلیں۔
’’استیفان قدیم‘‘ وہ پہلا شخص تھا جس نے پہلی بار علم کیمیا کی کتاب کا عربی ترجمہ کیا۔(۲)
اور ’’ماسر جیس‘‘ نے ایک کتاب ’’غذائوں کے فوائد و نقصانات‘‘ کے متعلق اور ایک دوسری کتاب ’’پیڑپودوں کے فوائد و نقصانات‘‘ کے بارے میں لکھی۔ اور ’’عیسیٰ بن ماسر جیس‘‘ نے ایک کتاب ’’غذا اور اس کی خوشبو ‘‘ سے متعلق اور ایک دوسری کتاب ’’رنگوں‘‘ کے بارے میں لکھی۔ ’’یتوفیل رہاوی‘‘ نے ’’جالینوس‘‘ کی کچھ کتابوں کا ترجمہ کیا اور منصور دوانیقی کے مخصوص طبیب ’’جور جیس بن بختیشوع‘‘ اسی طرح اس کے بیٹے بختیشوع اور اس کے بھائی ’’جبرائیل‘‘ نیز اس کے شاگرد’’ عیسیٰ بن شہلانا‘‘ ہر ایک نے علم طب سے متعلق کتابیں لکھیں۔
’’ابن مقفع‘‘ اور اس کے بیٹے ’’محمد‘‘ نے منطق و فلسفہ کی کتابوں کا فارسی سے عربی میں ترجمہ کیا اوریونانی فلسفہ کو اسلامی معاشرے میں داخل کیا۔
’’نوبخت خاندان۔(۳) علم نجوم کی کتابوں کے مترجمین تھے اور ’’ابوزکریا یوحنای ماسویہ‘‘ نے جو تیسری صدی ہجری کے اوائل میں بغداد کے ’’بیت الحکمۃ‘‘ کے سربراہ تھے، علم طب میں بہت سی کتابیں تصنیف کیں اور ’’مغکۂ ہندی‘‘ و’’ابن دھن‘‘ ایسے ہندی مترجمین ہیں جنھوں نے علم طب اور علم نجوم کی کتابوں کے ترجمے کئے۔
ان جملہ لوگوں میں کہ جنہوں نے دوسری غیر ملکی زبانیں سیکھیں اور مختلف علوم و فنون میں سیکڑوں کتابیں تصنیف و تالیف کیں ’’عمر بن فرحات‘‘(نجومی و فلسفی) اور اس کا بیٹا’’محمد‘‘ اور ’’علی بن زیادتمیمی‘‘ ہیں یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے ’’رصدگاہوں‘‘سے متعلق کتابوں کا ترجمہ کیا ابو یحییٰ بطریق، و محمد بن ابراہیم فرازی، اور خاندانِ حنین (اس خاندان کا مورثِ اعلیٰ مشہور و معروف، بلند پایہ و عظیم المرتبت دانشور’’حنین بن اسحٰق‘‘ ہے)۔(۴)
اور ’’قسطابن لوقائی بعلبکی‘‘وہ عظیم دانشور جس نے علم طب و فلسفہ اور علم نجوم و ہندسہ میں متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ اور ’’باکندی‘‘ اپنے عہد کا پہلا عرف فلسفی تھا۔ اور ’’ابن ندیم‘‘ جس کو ’’دانش‘‘ حنین پر ترجیح دیتا ہے اور اس نے اپنی مشہور و معروف کتاب ’’الفہرست‘‘ میں مذکورہ بالا علوم سے متعلق ترجمہ و تالیف اور شرح و تفسیر کے ضمن میں اس کی ۵۴ کتابوں کا ذکر کیا ہے اور’’جیش اعصم دمشقی‘‘و ’’عیسی‘‘ جو کہ ’’یحییٰ بن ابراہیم‘‘ کا بیٹا اور ’’حنین بن اسحٰق‘‘کا شاگرد تھا اور ’’حجاج بن مطر‘‘و ’’سرجیس راسی‘‘ (جو صوریا بعلبک کا رہنے والا تھا) اور ’’ثابت بن قرہ حرانی‘‘ (جس کے اہل خاندان آل ثابت کے نام سے مشہور تھے)اور ’’عیسیٰ بن اسید‘‘ و’’موسیٰ ابن خالد‘‘ جو ترجمان کے نام سے مشہور تھا، اور ’’سعید بن یعقوب دمشقی‘‘ و ’’ابراہیم بن ضلت‘‘و’’قویری‘‘ (خاندان کرخی(اس خاندان کا مورث اعلیٰ شہدی نام کا ایک شخص تھا)اور ’’ابن بکوی عشاری‘‘و’’یحییٰ بن عدی منطقی‘‘ اوربھی بہت سے لوگ جن کا ذکر ہم اختصار کے پیش نظر چھوڑ رہے ہیں۔(۵)
ان کے علاوہ بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بغداد میں ایک بہت بڑا ادارہ ’’بیت الحکمہ‘‘۔(۶) کے نام سے قائم تھا جس میں اہل علم و دانش حضرات جمع ہوتے تھے اور ان کے لئے نقل و ترجمہ اور تصنیف و تالیف کے لئے تمام وسائل مہیا رہتے تھے۔ ان اداروں نے اس زمانے میں تہذیبی ترقیوں اور تمدنی و معاشرتی ارتقاء میں بہت ہی گہرے اور دیرپا نقوش چھوڑے ہیں۔
’’بیت الحکمہ‘‘ کو تاریخوں نے ہارون الرشید کے زمانے میں ذکر کیا ہے اور کوئی ایسا صحیح اور معتبر ماخذ نہیں ہے جو یہ ثابت کرسکے کہ یہ ہارون الرشید سے پہلے قائم ہوا ہو۔(العلوم و المدنیّۃ فی الاسلام‘‘تالیف ڈاکٹر سید حسین نصر)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔’’شَھِدَ اللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ وَالْمَلَائِکَۃُ وَاُوْلُوْالْعِلْمِ قَائِماً بِالْقِسْطِ ط لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘‘۔(سورۂ آل عمران:۱۸)
۲۔جرجی زید ان اس سلسلہ میں لکھتا ہے کہ پہلا ترجمہ جو بیرونی اور غیر ملکی علوم سے کیا گیا وہ خالد بن یزید بن معاویہ کے ذریعے انجام پایا جس کو ’’حکیم آل مروان‘‘ کہا جاتا ہے۔ مروان بن حکم سے شکست کھانے اور خلافت کے خاندانِ ابو سفیان سے خاندان مروان میں منتقل ہونے کے بعد جب خالد خلافت سے بالکل مایوس اور ناامید ہوگیا تو وہ تحصیل علم میں مشغول ہوگیا۔ اس زمانے میں مدرسۂ اسکندریہ میں علم کیمیا (Chemistry) بہت رائج تھا۔ خالد اس مدرسے سے فارغ التحصیل طلباء کی ایک جماعت کو شام لایا تاکہ وہ اس کو علم کیمیا کی تعلیم دیں۔ جب خالد اس علم کی تحصیل سے فارغ ہوگیا تو اس نے علم کیمیا کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کرنے کا ارادہ کیا اور ’’استیفان قدیم‘‘ خالد کے حکم سے اس کام کے لئے مامور ہوا اور اس نے ان ترجموں کا کام انجام دیا۔
۳۔اس خاندان کا سلسلۂ نسب زردشتی خاندان سے ملتا ہے جو منصور کے عہد میں اسلام لایا تھا۔ نوبخت ستاروں کی چالوں سے واقف تھا اور چونکہ منصور اس موضوع سے دلچسپی رکھتا تھا اس لئے ہر جگہ نوبخت کو اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔ آخر میں نوبخت بڑھاپے کی وجہ سے خلیفہ کی خدمت و ملازمت سے معذور ہوگیا تو اپنے منھ بولے بیٹے ’’ابو سہل نوبخت‘‘ کو خلیفہ کی خدمت میں ملازم رکھوادیا۔ خاندان نوبخت کے لوگ چونکہ اہل علم اور دانشور تھے اس لئے ان لوگوں نے اسلاف کے علوم میں تحقیقات کرکے اپنے نظریات کا اضافہ کیا۔(تاریخِ تمدن اسلام، ج:۳،ص:۲۹)
۴۔حنین جو کہ ’’شیخ المترجمین‘‘ کے لقب سے مشہور تھا ۱۹۴ ہجری میں حیرہ میں پیدا ہوا اور ۲۶۴ ہجری میں فوت کرگیا۔
۵۔ملاحظہ فرمائیے کتاب ’’الفہرست‘‘تالیف ابن ندیم اور کتاب’’تاریخ علوم عقلی در ایران‘‘تالیف ڈاکٹر ذبیح اللہ صفا‘‘۔
۶۔’’بیت الحکمہ‘‘ یا ’’دارالحکمہ‘‘۸۳۰ء میں بغداد میں قائم ہوا یہ مرکز علمی اکاڈمی، کتابخانہ اور ایک دارالترجمہ پر مشتمل تھا جس کا بنیادی مقصد یونان کے قدیم کلاسیکی علمی و فلسفی آثار کے ترجمے کی خدمات انجام دینے کا کام تھا۔ جیسے سقراط و جالینوس اور افلاطون و ارسطو کے آثار کے ترجمے کئے گئے۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین