Code : 4893 11 Hit

اسلامی تہذیب کے اصول(1)

اسلامی تہذیب اپنی ان تمام ممتاز و منفرد خصوصیات کے ساتھ تمام انسانی ادراکات و محسوسات کے لئے پسندیدہ غذا ہے۔ ایک ایسی تہذیب ہے جو اس خدائے یکتا و یگانہ پر ایمان کی بنیاد پر قائم ہے۔ جو افرادِ عالم اور موجوداتِ کائنات میں سے کسی ایک کے ساتھ کوئی خاص نسبت و تعلق اور رشتہ و رابطہ اور کوئی مخصوص قرابت و دوستی نہیں رکھتا۔ یہ ایک ایسی تہذیب ہے جو ساری دنیا کو اس کی تمام خصوصیات اور موجودات کے ساتھ ’’علّت ومعلول‘‘اور ’’مشیت پروردگار‘‘ کے قانون کا حلقہ بگوش و فرمانبردار بندہ سمجھتی ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! گذشتہ کچھ مصامین سے ہماری یہ پیہم کوشش ہے کہ ہم آپ کی خدمت میں اسلامی تہذیب و ثقافت کے صحیح خد و خال پیش کر سکیں تاکہ ہر مسلمان اپنے ماضی کے آئینے میں اپنے حال اور مستقبل کا چہرہ دیکھ سکتا ہے آج ہم آپ کی خدمت میں اسلامی تہذیب کے اصول لیکر حاضر ہوئے ہیں ، آئیے مضمون شروع کرنے سے پہلے ایک نظر اسی سے مرتبط پہلے مضامین پر ڈالتے ہیں:
اسلام کا مخصوص عالمی نظریہ اور ایک زندہ تہذیب کا سنگ بنیاد
قرآن مجید اور سنت و سیرت نبوی(ص) اسلامی تہذیب کے دو علمی ستون
قارئین کرام ! ہم نے پچھلی فصل میں اسلامی تہذیب کی ’’تعلیمات‘‘ اور ’’جہاں بینی‘‘ کے بارے میں اشارہ کیا تھا اور اب ہم اس تہذیب کے بنیادی اصول اور اساسی ارکان کا مطالعہ کرتے ہیں:
الف) خدا کی معرفت
اسلامی تہذیب کی اولین بنیاد اور اس کا سب سے پہلا رکن خدا شناسی اور اس کی معرفت ہے اور اپنی اس انفرادی خصوصیت اور امتیازی صفت کے ذریعے اسلام جہانِ ہستی کے تمام ذرّات و موجودات کے مابین ایک مضبوط و مستحکم ربط کا قائل ہے اور اس کی یہی خصوصیت فرد اور سوسائٹی کو پروردگار عالم کے ساتھ مربوط و متصل بناتی ہے۔
اسلامی تہذیب اپنی ان تمام ممتاز و منفرد خصوصیات کے ساتھ تمام انسانی ادراکات و محسوسات کے لئے پسندیدہ غذا ہے۔ ایک ایسی تہذیب ہے جو اس خدائے یکتا و یگانہ پر ایمان کی بنیاد پر قائم ہے۔ جو افرادِ عالم اور موجوداتِ کائنات میں سے کسی ایک کے ساتھ کوئی خاص نسبت و تعلق اور رشتہ و رابطہ اور کوئی مخصوص قرابت و دوستی نہیں رکھتا۔ یہ ایک ایسی تہذیب ہے جو ساری دنیا کو اس کی تمام خصوصیات اور موجودات کے ساتھ ’’علّت ومعلول‘‘اور ’’مشیت پروردگار‘‘ کے قانون کا حلقہ بگوش و فرمانبردار بندہ سمجھتی ہے۔ ایک ایسی مشیت جو تمام موجودات کو اپنی رحمت کے ارادہ و اختیار اور قبضہ و قدرت میں لئے ہوئے ہے اور کسی وقت بھی اسباب کے مسبّبات کے ساتھ ارتباط اور علّت کی معلول کے اندر اثر و تاثیر سے مانع نہیں ہوتی۔یہ بات جو حدیث میں کہی گئی ہے بے سبب نہیں ہے کہ:’’اَبَی اللّٰہُ اَنْ یَجْرِی الْاُمُوْرَ اِلَّا بِاَسْبَابِھَا‘‘۔(اصول کافی،ج۱، ص ۱۸۳)
یعنی مشیتِ پروردگار نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ دنیا کے تمام امور ومعاملات اسباب وعلل کے ذریعے عمل میں آئی ہیں اور جیسا کہ قرآن مجید بھی ارشاد فرمارہا ہے :’’إِنَّ اللّٰہَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ‘‘۔(سورۂ رعد:۱۱)
ترجمہ: خدا کسی بھی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔ یہ بقول اکبر الہ آبادی:
                                                    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
                                                   نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
یہ بھی ارشاد ہوتا ہے کہ:’’ظَہَرَ الْفَسَادُ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیْ النَّاسِ لِیُذِیْقَہُم بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ‘‘۔(سورۂ روم:۴۱)
ترجمہ :لوگوں کی اپنے ہی ہاتھوں کی کارستانیوں کی بدولت خشکی اور دریا میں فساد برپا ہوگیا تاکہ جو کچھ یہ لوگ کرچکے ہیں خدا ان کو ان میں سے ان کے کرتوتوں کاضرور مزہ چکھادے تاکہ شاید یہ لوگ اب بھی ان سے باز آجائیں۔
اس مقام پر بھی قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ:’’وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاہَا  فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا قَدْ أَفْلَحَ مَن زَکَّاہَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاہَا‘‘۔(سورۂ والشمس:۷ تا ۱۰)
یعنی اور قسم ہے جان کی اور جس نے اسے درست و منظم کیا، اور پھر اس کو اس کی بدکاری و پرہیزگاری کا الہام کیا، بتحقیق کہ اس نے نجات و فلاح پائی جس نے اپنی جان کو گناہوں سے پاک و پاکیزہ رکھا اور محدود نامراد رہ گیا وہ جس نے گناہ کرکے اسے تباہ و برباد کردیا۔
ہاں! ایسی ہی تہذیب اپنے انھیں اصلی امتیازات اور حقیقی خصوصیات کے ساتھ انسان کو اس بات کے لئے مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی عقل سلیم کا استعمال کرکے دنیا اور اس کے حوادث، موجودات اور عاقلانہ زندگی کا مطالعہ کرے اور اس کے مختلف مراحل اور گوناگوں منازل کے بارے میں غور و فکر اور تحقیق کرے۔
خداوند عالم اسی اسلوب و انداز کی بنیاد پر اپنے پیغمبروں کے ساتھ روش اور طرز سلوک اختیار کرتا ہے اور معجزات کے موضوع کے علاوہ جو کہ ماورائے فطرت اور ان کے دعوے کے گواہ کی حیثیت رکھتے ہیں، کبھی بھی اپنے پیغمبروں کی خواہش اور ان کی امتوں کے ایمان لانے کی وجہ سے فطرت کے قوانین کو نہیں بدلا بلکہ اس نے مصمم ارادہ کرلیا کہ انبیاء وہ پہلے افراد ہوں گے جو اسی اساس و بنیاد پر ایمان لائیں اور اس کے بعد دوسروں کو اس کی طرف دعوت دیں اور اس راہ میں ان تمام مشکلوں اور پریشانیوں کو برداشت کریں جنھیں برداشت کرنے کی طاقت و قوت پہاڑ بھی نہیں رکھتے۔
اور پھر روئے سخن اسی عقلی و منطقی بنیاد کی طرف ہوجاتا ہے کہ خداوند کریم تقلیدی اور موروثی ایمان کو قبول نہیں کرتا بلکہ عقیدے کے معاملے میں عمیق غوروخوض اور گہرے تدبر و تفکر کا حکم دیتا ہے۔(۱)
ب)اسلامی تہذیب کی ابدیت
اس میں کوئی شک نہیں کہ جب اسلامی تہذیب کی کشش موجوداتِ عالم اور ان کے پروردگار عالم کے ارتباط کے حدود و مراحل تک وسعت رکھے گی توفطری طور پر اس کا دامن ابدیت کی حدوں تک پھیلا ہوا ہوگا اور اس کا سلسلہ دائمی و ابدی منزل گاہ پر منتہی ہوگا اور اپنی اسی خصوصیت کی بناء پر یہ ایک ایسی قائم و دائم اور لافانی و جاودانی تہذیب ہے جس کو زمانے کی آندھیاں اور حادثات کے طوفان اپنی جگہ سے نہیں ہلاسکتے اوروہ کبھی بھی تغیر و تبدل سے دوچار اور تباہی و برباد کا شکار نہیں ہوسکتی ہے۔
اسلامی تہذیب کے ثبات و دوام کی خصوصیت اور اس کی ابدیت و دوام کی خاصیت نے مذہب کے تمام اطراف و جوانب مثلاً عقائد و اعمال اور احکام و اخلاق پر بھرپور روشنی ڈالی ہے اور پیغمبر اکرم(ص)کے عالمگیر پیغام کے مقاصد کو یقینی بنانے کے سلسلے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ یہاں تک کہ انسان کے لامحدود جذبات و خواہشات کی تسکین، اس کے ارادے کی تقویت، اس کی روح کے آرام اور اس کے دل کے اطمینان و سکون کا سبب اور ذریعہ بنتی ہے اور اس کو کامیابی و کامرانی کی تحریک و تحریص اور رغبت و اشتیاق دلاکر عام اس سے کہ وہ اپنے مقصد تک پہنچے یا اس میں کامیابی حاصل کرنے سے پہلے ہی اس کی موت آپہنچے اور اس کی زندگی کی بساط لپیٹ دے، اور چاہے وہ صحیح راستہ طے کرلے چاہے کبھی وہ اس میں غلطی کر بیٹھے اور غلط راستے پر چل پڑے۔غرض کہ کامیابی و کامرانی حاصل کرنے کے لئے وہ اپنی امکانی کوشش کرے چاہے وہ اس سلسلے میں نام آوری پیدا کرے اور ایسا مشہور و معروف ہوجائے کہ اس کا نام لوگوں کی نوکِ زبان بن جائے اور چاہے گوشۂ گمنامی اور کنج بے اعتنائی ہی میں رہ جائے۔
البتہ اس بنیادی مقصد اور مطلب کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے کہ اسلام کی لافانی و جاودانی الٰہی تہذیب اپنے دوام و ابدیت کی اس امتیازی خصوصیت کے ساتھ ہی اجتہاد و آزادیٔ فکر سے بھی مانع نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ اس کا دامن اس قدر وسیع ہے کہ افلاک و ملکوت کی بلندیوں اور زمین کی گہرائیوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے پھر بھی اس نے دنیا کے عام اور ناقال مل تبدیل اصول و قوانین کی بنیاد پر کمال و ترقی میں ’’اجتہادو آزادیٔ فکر‘‘ کا دروازہ بالکل کھلا چھوڑ رکھا ہے۔
یہاں پر ہم اپنے مطلب کو واضح کرنے کے لئے ایک علمی مثال پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
یہ ایک ایسا حسّاس اور بذاتِ خود اتنا دقیق و باریک مطلب ہے جس سے ذرّہ برابر بھی انحراف ممکن ہے کہ دین میں بدعت کرنے کا سبب بن جائے اور ضلالت و گمراہی کا باعث ہوجائے اور وہ یہ ہے کہ اسلام کے فقہاء و مجتہدین اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ جدید تحقیقات و تشریحات اور نئے نئے خیالات و نظریات کو اسلام کے عمومی و دائمی اور مضبوط مستحکم اصولوں سے مطابقت کریں اور اس طرح سے وہ مختلف فروع اور گوناگوں موضوعات کے بارے میں اپنے اجتہادات و تحقیقات اور آراء و نظریات کو مستند اور مستحکم بنائیں۔
اس کی توضیح و تفصیل یہ ہے کہ جس وقت کوئی مجتہد کسی جدید موضوع سے دوچار ہوتا ہے اور اس کے بارے میں اجتہاد کرنا چاہتا ہے تو وہ اس سلسلے میں اسی صورت میں اپنے خیال کا اظہار کرسکتا ہے کہ اس کی رائے اور اس کا نظریہ تفصیلی دلیلوں اور کلی اصولوں کی روشنی میں معتبر و مستند ہو مثلاً سیرت و سنّتِ رسول(ص) اور روش و رفتارِ پیغمبر اکرم(ص) جو کہ تفصیلی دلائل میں سے ہے اور اس کا اعتبار نصِّ قرآن مجید سے ثابت ہوچکا ہے وہ ایسے موضوع سے متعلق فقیہ کے خیال ،مجتہد کے اجتہاد اور مفتی کے فتوے کے لئے مستند و معتبر ہوسکتی ہے۔
اس لئے مجتہد کبھی کسی حالت میں بھی کوئی نیا قانون نہیں بناتا اور نہ ہی صرف ظن و گمان کی بنیاد پر کوئی فتویٰ دیتا ہے۔
کیونکہ قرآن مجید کی تصریح کے مطابق کہ:’’وَاِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئاً‘‘۔(سورۂ والنجم: آیت۲۸)
یعنی گمان( یقین کے مقابلے میں )حق کا کوئی ایک گوشہ بھی واضح اور نمایاں نہیں کرسکتا۔
بلکہ ایک مجتہد علم و یقین کی بنیاد پر کوئی فتویٰ دیتا ہے یا پھر علمی دلائل کی بنیاد پر اظہارِ خیال کرتا ہے۔(۲)
دوسرے الفاظ میں فقہاء و مجتہدین نے احکام دین کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے:
۱۔واقعی احکام
۲۔ظاہری احکام
واقعی احکام وہ احکام ہیں جو شریعت اسلام میں واقعی طور پر اور حقیقی حیثیت سے موجود ہیں اور کبھی بھی کسی تغیر و تبدل کے قابل نہیں ہیں اور ظاہری احکام وہ ہیں جن کے ذریعے سے واقعی احکام تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
احکام ظاہری فقہاء و مجتہدین کے اجتہاد و نظریات کا وہ نتیجہ ہے کہ حقیقت میں ان کو حاصل کرلینے سے وہ ان احکام واقعی تک پہنچتے ہیں جو کہ خود ان کے اور ان کے مقلدین کے حق میں احکام پروردگار ہیں۔(۳)
یہ مختصر سی مثال اس بات کو واضح اور روشن کردیتی ہے کہ اسلامی تہذیب کے مختلف مراحل اور گوناگوں معاملات و مسائل کے بارے میں تحقیق و تجزیہ کا دائرہ کتنا وسیع و عریض ہے اور وہ بذاتِ خود مضبوط و مستحکم الٰہی و آسمانی اصول و قوانین کے ایک سلسلے کی حفاظت و نگہبانی میں کس طرح اور کس حد تک کامیاب ہے۔
ج) ہمہ گیر و ہمہ جہت تہذیب
اگرچہ اسلامی تہذیب کے دائرے کی وسعت اور اس کے باہمی ارتباط و ہم آہنگی کے بیان کے بعد اب اس امتیاز و خصوصیت کی ضرورت نہیں تھی کہ اسلامی تہذیب ہمہ گیر و ہمہ جہت اور جامع الصفات ہے۔ لیکن چونکہ ایک مغربی دانشور نے اسلام کے بارے میں اپنی غلط معلومات کی بناء پر اسلامی تہذیب کے سلسلے میں غلط اور نامناسب فیصلہ کیا ہے، ہم نے ضروری سمجھا کہ اس کے کلام کو نقل کرکے اس کے جواب میں اسلامی تہذیب کی تیسری خصوصیت کی مختصر طور پر وضاحت کردیں۔
یہ شخص جس کا نام ’’ژوپ‘‘ ہے اور جو آکسفورڈ یونیورسٹی کا مشہور پروفیسر ہے اپنی کتاب ’’اسلام کے بارے میں جدید نظریات‘‘ میں لکھتا ہے کہ:’’مشرقی طرزِ فکر عموماً اور اسلامی طرزِ فکر خصوصاً ہمہ گیر و ہمہ جہت نہیں ہے او روہ اس بے اعتنائی و بے توجہی اور عدم تناسب کی وجہ سے جو کہ اس طرزِ فکر میں نظر آتی ہے تالیف و ترکیب اور یگانگت و ہماہنگی کی قدرت و صلاحیت نہیں رکھتا‘‘۔
ہم اس کے جواب میں صرف اسی پر اکتفا کرتے ہیں جو الجزائر کے مشہور و معروف محقق مالک بن بنی نے اپنی کتاب ’’وَاجِھَۃُ العَالِمَ الْاِسْلَامِیْ‘‘ میں نقل کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’وہ عظیم و شاندار، تہذیبی میراث جس کو اسلامی تمدن نے ایجاد کیا اور انسانیت کو تحفے کے طور پر پیش کیا ایسے ناقابل انکار دلائل و شواہد کی مالک ہے کہ یہ تہذیب مسلمانوں کے سنہرے اور درخشاں دور میں اسلامی طرز فکر سے مکمل طور پر ہم آہنگ اور کامیاب و کامراں تھی اور اسی وجہ سے اس کے مقابلے اور اس کی ترقیاں ہمیشہ اور ہر موقع پر ایک قسم کے قانونی احساس کے ساتھ رہی ہیں‘‘۔(۴)
اس بناء پر ایک ایسی تہذیب جو کہ اپنے تمام شعبوں میں قانونی بنیادوں کی حامل رہی ہے، اور ایک ہی جگہ سے ایک ہی طرز فکر کے سر چشمے سے سیراب و فیضیاب ہوتی رہی ہے فطری طور پر اس کے تمام اطراف و جوانب آپس میں ایک دوسرے سے مربوط و ہم آہنگ ہوں گے اور کسی طرح بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ تہذیب ہمہ گیر و ہمہ جہت نہ ہو اور ترکیب و تالیف اور ترتیب و تنظیم کی قدرت و صلاحیت نہ رکھتی ہو۔
جس وقت ’’روم کے قوانین‘‘ غیر مربوط اور منتشر و پراگندہ قوانین کی ایک کڑی کے علاوہ کچھ اور نہیں تھے اس وقت قانون سازی کی تاریخ میں پہلی مار اسلامی شریعت کی بنیاد اساسی طرز پر رکھی گئی تھی اور اس کے قوانین بہت باریک بین فلسفی نظام کی بنیاد پر بنائے گئے تھے۔
علم الافلاک میں اسلامی ماہر فلکیات ’’ابوالوفاء‘‘۔(۵) کی تحقیقات اور چاند کی  ناموزوں اور مختلف حرکت کی تبدیلی (حرکت غیر متشابہ) کے موضوع پر اس کے انکشاف اور اسی طرح ’’علم تاریخ‘‘ میں ’’ابن خلدون‘‘ کی تحقیقات اور اس کا وہ استنباط جو اس نے پہلی بار تاریخی قوانین اور اس کی تفسیر و تشریح جو کہ عظیم اجتماعی اور معاشرتی تحقیقات پر مبنی تھی ہمارے اس مطلب کے واضح اور روشن نمونے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔خداوند عالم ان لوگوں کی سرزنش کے طو رپر جن لوگوں نے پیغمبروں کی نافرمانی کے سلسلے میں اپنے باپ دادا کی تقلید و پیروی کو بہانا بنایا ہے، اس طرح فرماتا ہے کہ ’’وَکَذَلِکَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِکَ فِیْ قَرْیَۃٍ مِّن نَّذِیْرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوہَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاء نَا عَلَی أُمَّۃٍ وَإِنَّا عَلَی آثَارِہِم مُّقْتَدُوْنَ‘‘۔
یعنی اے رسول اسی طرح ہم نے تم سے پہلے بھی کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا (پیغمبر)نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادائوں کو ایک طریقے پر پایا اور اب یقینا ہم بھی انھیں کے نقش قدم پر(ان کے قدم بہ قدم) چلے جارہے ہیں۔)’’مترجم ‘‘(فارسی)۱؎  سورۂ زخرف، آیت:۲۳۔
۲۔ علماء علم اصول کی اصطلاح میں ’’علمی دلائل‘‘اس ظنی دلیل سے عبارت ہے جو مسلّم اور ثابت شدہ دلیل پر منتہی ہوتی ہے۔ کفایۃ الاصول، محقق خراسانی۔
۳۔ مُقَلِّد مفتی کے ہر فتوے پر صرف یہی ایک کلّیہ قائم کرکے اس پر عمل کرے گا کہ ’’ھٰذَا مَا اَفْتٰی بِہِ الْمُفْتِیْ وَکُلُّ مَا اَفْتٰی بِہِ الْمُفْتِیْ فَھُوَ حُکْمُ اللّٰہِ فِیْ حَقِّیْ‘‘۔یعنی یہ وہ فتویٰ ہے جو مفتی نے دیا ہے اور جو فتویٰ بھی مفتی دیتا ہے وہ میرے حق میں خدا کا حکم ہے۔
۴۔ اس معنی میں کہ وہ عظیم تہذیبی انقلاب جو دنیا میں مسلمانوں کے ذریعے برپا ہوا اور تاریخی ثبوت و شہادت کے مطابق جس نے تمام انسانی علوم و معارف کا احاطہ کرلیا اتفاقیہ نہیں تھا بلکہ وہ شریعتِ مقدسہ کی بیشمار تعلیمات و تاکیدات کا نتیجہ اور اس کے اصلی مواد کا اثر تھا جنھوں نے مکمل طور پر اسلامی طرزِ فکر کی تخلیق کی اور تہذیبی انقلاب کی بنیاد پر قائم ہوئیں۔
۵۔سماعیل ابوالوفانورجانی اسلام کے وہ بلند پایہ وعظیم المرتبہ مشہور و معروف ریاضی داں ہیں جو سن ۹۴۰ء سے ۹۹۸ء تک زندہ رہے اور انہوں نے بہت سی کتابیں تصنیف و تالیف کیں ابوالوفا نے ’’ہر زمانے میں چاند کی منزلوں‘‘کا تعین کرنے کے لئے ایک پیمائشی آلہ ایجاد کیاجس کا نام’’پیمانۂ سرعت‘‘رکھا۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ چاند کی حرکت ورفتار یکساں اور متشابہ نہیں ہے کیوں کہ جس وقت وہ اپنے نقطۂ عروج کے حدود میں پہنچتا ہے تو اس کی حرکت و رفتار کند ہوجاتی ہے۔ جس قدر وہ نیچے کی سمت جھکتا ہے اس کی حرکت و رفتار تیز ہوتی جاتی ہے اس سے یہ معلوم ہواکہ چاند کی حرکت ورفتار مساوی زمانوں میں غیر مساوی ہے۔ یہ بات جسے عربی اصطلاح میں ’’غَیْرُمُتَسَاوِیَۃُ الثَّانِیہ‘‘اور فارسی اصطلاح میں ’’حرکت غیر یکنواخت‘‘ کہتے ہیں اسی دانشور کے انکشاف اور اس کی ایجاد ہے۔

جاری ہے ۔ ۔ ۔ 




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین