حاملہ خواتین بھی جیل میں؛انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کی مجرمانہ خاموشی

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر  انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی خواتین کے دکھ درد کو ختم کرنے کے لئے کچھ کریں۔

ولایت پورٹل:روس ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی قیدیوں کے امور کی نگراں تنظیم نے اعلان کیا کہ 8 مارچ کو دنیا  خواتین کا عالمی دن  منا رہی ہے جبکہ کو 11 حاملہ خواتین سمیت 35  خواتین اسرائیلی جیلوں میں ہیں،اس تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل 1948 سے ہی فلسطینی خواتین کو پکڑ رہا ہے اور انھیں حراست میں لے رہا ہے ، بیان میں کہا گیاہے کہ اسرائیل نے فلسطینی انتفاضہ کے آغاز سے ہی فلسطینی خواتین کو نشانہ بنایا اور انھیں حراست میں لیا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل فلسطینی خواتین قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرتا ہے ،  طبی غفلت یا جسمانی اور نفسیاتی ایذائیں پہنچاتا ہے نیز وقتا فوقتا انھیں سفاکانہ حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے،ان کے ساتھ جارحانہ زبان ، جسمانی حملوں اور دھمکیوں کا استعمال کیا جاتا ہے نیز انھیں تعلیم سے محرومی رکھا جاتا ہے۔
 انہوں نے زور دے کر کہا کہ الدمون حراستی مرکز میں خواتین قیدی اب بھی مشکل حالات سے دوچار ہیں۔ خفیہ کیمرے خواتین قیدیوں کی نقل و حرکت  کو کم اور ان کی رازداری کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، جیل کے بیت الخلا خستہ حال ہیں اور قیدیوں کو دیے جانے والے بہت سے کھانوں کی میعاد ختم ہوچکی ہوتی ہے، انہوں نے مزید کہاکہ  کورونا کے پھیلنے کے آغاز اور قیدیوں کی صفوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافے کے بعد سے ، اسرائیلی حراستی مراکز کی انتظامیہ نے فلسطینی خواتین قیدیوں کی طرف توجہ نہیں دی ، جراثیم کشی ، صفائی اور جراثیم کش افراد کو خارج کردیا گیا ہے۔
 اس تنظیم نے اپنے بیان کے اختتام پر  انسانی حقوق کی تنظیموں اور خواتین کے حقوق کے محافظوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی خواتین کے خلاف اسرائیلی تشدد کا خاتمہ کریں اور ان کی رہائی کے لئے کام کریں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین