Code : 3186 48 Hit

کرونا وائرس سے حفاظت کی کچھ احتیاطی تدابیر

ماہرین صحت کے مطابق باقاعدگی سے ہاتھ دھونا، ماسک کا استعمال، کھانسی اور چھینک کے وقت ٹشو پیپر یا رومال کا استعمال یا عدم دستیابی کی صورت میں کہنی سے ناک کو ڈھانپ لینا اس وائرس سے انسان کو محفوظ بناتا ہے۔کرونا وائرس کے مشتبہ مریض سے بغیر حفاظتی اقدامات یعنی دستانے یا ماسک پہنے بغیر ملنے سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق گوشت اور انڈوں کو اچھی طرح پکانا بھی حفاظی تدابیر میں شامل ہے۔ نزلہ اور زکام کی صورت میں بھیڑ والی جگہوں پر اکھٹا ہونے سے اجتناب اور ڈاکٹر سے تفصیلی طبی معائنہ کرانا بھی اس مرض سے بچاؤ کے لئے فائدہ مند ہے۔

ولایت پوٹل: کرونا وائرس سے چین سمیت مختلف ممالک میں ہونے والی سیکڑوں ہلاکتوں کے بعد دُنیا بھر میں احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔یہ وائرس ہندوستان،پاکستان افغانستان سمیت دنیا کے ۱۲۷ ممالک میں اپنے پاؤں پھیلا چکا ہے۔ اگرچہ جب سے یہ دنیا آباد ہے آج تک نہ جانے بنی نوع انسانی پر کتنی مصیبتیں آئیں اور کتنے وبائی امراض نے جنم لیا لیکن یہ وائرس اپنی نوعیت کی ایک الگ وبا ہے چونکہ جہاں ایک طرف اس کے بارے میں صحیح معلومات ملنا مشکل ہورہی ہے تو وہیں دوسری طرف ہر آدمی خوف میں زندگی بسر کررہا ہے آئیے اس کے بارے میں کچھ چیزیں آپ کے سامنے رکھتے ہیں:
کرونا وائرس کی علامات کیا ہیں؟
کرونا وائرس کی علامات عام فلو کی طرح ہی ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق بخار، کھانسی، زکام، سردرد، سانس لینے میں دُشواری کرونا وائرس کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔لیکن ضروری نہیں کہ ایسی تمام علامات رکھنے والا مریض کرونا وائرس کا ہی شکار ہو۔ البتہ متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں یا مشتبہ مریضوں سے میل جول رکھنے والے افراد میں اس وائرس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اگر بیماری شدت اختیار کر جائے تو مریض کو نمونیہ ہو سکتا ہے۔ اور اگر نمونیہ بگڑ جائے تو مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق انفیکشن سے لے کر علامات ظاہر ہونے تک 14 روز لگ سکتے ہیں۔ لہذٰا ایسے مریضوں میں وائرس کی تصدیق کے لئے اُنہیں الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔
یہ وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
صحت مند افراد جب کرونا وائرس کے مریض سے ہاتھ ملاتے ہیں یا گلے ملتے ہیں تو یہ وائرس ہاتھ اور سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس انتہائی سرعت کے ساتھ ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو گھر میں رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔اور اسی سبب اس وائرس میں مبتلا مریضوں کا علاج کرنے والے طبی عملے کو بھی انتہائی سخت حفاظی اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔
کرونا وائرس اور احتیاطی تدابیر
ماہرین صحت کے مطابق باقاعدگی سے ہاتھ دھونا، ماسک کا استعمال، کھانسی اور چھینک کے وقت ٹشو پیپر یا رومال کا استعمال یا عدم دستیابی کی صورت میں کہنی سے ناک کو ڈھانپ لینا اس وائرس سے انسان کو محفوظ بناتا ہے۔کرونا وائرس کے مشتبہ مریض سے بغیر حفاظتی اقدامات یعنی دستانے یا ماسک پہنے بغیر ملنے سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق گوشت اور انڈوں کو اچھی طرح پکانا بھی حفاظی تدابیر میں شامل ہے۔ نزلہ اور زکام کی صورت میں بھیڑ والی جگہوں پر اکھٹا ہونے سے اجتناب اور ڈاکٹر سے تفصیلی طبی معائنہ کرانا بھی اس مرض سے بچاؤ کے لئے فائدہ مند ہے۔
کیا کرونا وائرس قابل علاج ہے؟
کرونا وائرس سے کے لئے عالمی سطح پر ویکسین کی تیاری پر کام جاری ہے۔ کیونکہ یہ نیا وائرس ہے لہذٰا فی الحال اس کا علاج روایتی طریقوں سے کیا جا رہا ہے۔
ادویات کے ذریعہ مریض کے مدافعتی نظام کو فعال رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاکہ مدافعتی نظام ہی وائرس کا مقابلہ کر لے اور مریض صحت یاب ہو جائے۔
البتہ ماہرین صحت توقع ظاہر کر رہے ہیں کہ اس سال کے اختتام تک وائرس کی اس نئی قسم کے سدباب کے لئے ویکسین دریافت ہو جائے گا۔ تاہم اس سے قبل اس خطرے سے نمٹنے کے لیے طبی ماہرین روایتی طریقہ علاج کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق جن افراد کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔ اُنہیں یہ وائرس زیادہ متأثر کر سکتا ہے۔ البتہ اس وائرس سے اموات کی شرح بہت کم ہے۔ البتہ یہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔
کرونا وائرس کس حد تک خطرناک ہے؟
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ وائرس کی ایک نئی قسم ہے۔ لہذٰا دستیاب معلومات میں کمی کے باعث اس حوالے سے افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔البتہ، ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ حالیہ جائزوں کے مطابق کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی شرح محض دو سے تین فی صد ہے۔ جو دیگر وبائی امراض مثلاً برڈ فلو 40 فی صد، مرس کرونا وائرس 35 فی صد اور ایبولا وائرس جس میں اموات کی شرح 40 فی صد ہے کہ مقابلے میں بہت کم ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے حال ہی میں اسے عالمی وبائی مرض قرار دیدیا ہے۔جس کے سبب عالمی کاربار بہت متأثر ہے اور دنیا کو بہت بڑا نقصان کا سامنا ہے۔


1
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम