نماز برائی سے روکتی ہے

نماز ایک ایسی عبادت ہے کہ جس کے ذریعہ انسان دنیا و آخرت دونوں میں فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔ خود دنیا میں انسان نماز کے ذریعہ بے حیائی اور برے کاموں سے باز رہ سکتا ہے اور اس دنیا کے بعد یہی نماز انسان کو خیر و عافیت کے ساتھ حشر کے میدان تک لے جاتی ہے اور ہر جگہ انسان کے کام آتی ہے۔ اب جو لوگ بھی نماز کی لذت سے بہرہ ور ہوتے ہیں وہ اپنے محبوب خالق اور پیارے پروردگار کی مخالفت کا چشم زدن میں بھی تصور نہیں کرسکتے ہیں۔انس بن مالک نے رسول اسلام سے روایت کی ہے کہ ’’جو نماز نمازی کو فحشاء و منکر سے نہیں روکتی وہ اللہ سے دوری کا سبب ہے‘‘۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! نماز کے جہاں بہت سے دیگر فواید و برکات ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ نماز انسان کو حقیقت میں انسان بنا دیتی ہے، نماز انسان کو برائی سے روکتی ہے، نماز لوگوں کو گناہوں سے باز رکھتی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:’’اُتْلُ مَا اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتَابِ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشآئِ وَالْمُنْکَرِ‘‘۔(سورۂ العنکبوت، آیت :۴۵)
اے رسول !جو کتاب تمہارے پاس نازل کی گئی ہے اس کی تلاوت کرو اور پابندی سے نماز پڑھو بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے باز رکھتی ہے اور خدا کی یاد یقیناً بڑا مرتبہ رکھتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا جانتا ہے۔ اس آیت سے بھی نماز کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے اور صریحی طور سے آیت میں نماز کی پابندی کرنے کو کہا جارہا ہے اور نماز کے ادا کرنے کا فائدہ بھی بتایا جارہا ہے کہ نماز سے کیافائدہ ہے۔ انسان کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ نماز کے ادا کرنے سے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ نماز ایک ایسی عبادت ہے کہ جس کے ذریعہ انسان دنیا و آخرت دونوں میں فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔ خود دنیا میں انسان نماز کے ذریعہ بے حیائی اور برے کاموں سے باز رہ سکتا ہے اور اس دنیا کے بعد یہی نماز انسان کو خیر و عافیت کے ساتھ حشر کے میدان تک لے جاتی ہے اور ہر جگہ انسان کے کام آتی ہے۔ اب جو لوگ بھی نماز کی لذت سے بہرہ ور ہوتے ہیں وہ اپنے محبوب خالق اور پیارے پروردگار کی مخالفت کا چشم زدن میں بھی تصور نہیں کرسکتے ہیں۔ تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ نما ز کا بے حیائی اور بر ے کاموں سے روکنا ایسا ہے جیساکہ کوئی کسی کو زبان کے ذریعہ منع کرے کیونکہ نماز میں اللہ کی کبریائی کی گواہی دیتے ہوئے اللہ اکبر کہنا ،اس کی تسبیح کا زبان پر جاری کرنا، اس کی الوہیت کا اقرار کرنا، قرأت کرنا اور پھر رکوع و سجود و قیام و تشہد کے حالات میں تبدیل ہونا ایسے حالات ہیں جن سے کشف کیا جاسکتا ہے کہ یہ شخص اٹھتے بیٹھتے جھکتے اور کھڑے ہوتے اللہ کے امر کا مکمل پابند ہے اور اس کا ہر عضو محو اطاعت پروردگار ہے اور روزانہ کم از کم پانچ اوقات میں اس حالت کا بار بار اعادہ (کرنا)اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ جلوۂ جمال تو حید کا پروانہ ہے اور اس طرح نماز کے انتظار میں بیتاب ہے جس طرح کوئی محب اپنے پیارے محبوب کا منتظر ہو اور ایسی یکسوئی سے اس کے ساتھ محو مناجات ہوتا ہے جس طرح مدت کا بچھڑا ہوا دوست سے مل کر یا کوئی محب اپنے محبوب سے مل کر پیار محبت کے لہجے میں بات کرتا اور سنتا ہے۔ نماز کی ظاہری کیفیت جو اعضاء پر طاری ہوتی ہے وہی اگر نمازی کے دل پر طاری رہے تو وہ کسی وقت بھی غلط کاری کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتا ہے، جس طرح کوئی محب خلوت و جلوت میں کبھی اپنے محبوب کی رضا کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتا ہے۔
ابن عباس سے منقول ہے کہ جو نماز نمازی کو گناہوں سے نہ روکے وہ قرب الٰہی کے بجائے اللہ سے دوری کا سبب ہوتی ہے۔ اور اسی طرح انس بن مالک نے رسول اسلام سے روایت کی ہے کہ ’’جو نماز نمازی کو فحشاء و منکر سے نہیں روکتی وہ اللہ سے دوری کا سبب ہے‘‘اور ابن مسعود سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ ’’اس شخص کی نماز نماز نہیں ہے جو نماز کی اطاعت نہ کرے‘‘ تو لوگوں نے سوال کیا کہ نماز کی اطاعت کیا ہے؟ آپؐ نے جواب دیا کہ نماز کی اطاعت یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو بے حیائی سے روکے اور بدکاری سے بچائے۔ یعنی نماز کی حالت اور اس کے اذکار جو زبان مقال سے معبود کے ساتھ عبد کے وصال کی خبر دیتے ہیں وہ زبان حال سے نمازی کو مخالفت پروردگار سے باز رہنے کی دعوت بھی دیتے ہیں۔ پس جو شخص نماز پڑھے اور گناہوں کو ترک نہ کرے تو اس کی نماز وہ نماز نہیں ہے جس کی خدا نے یہ صفت بیان کی ہے پس اگر کسی وقت توبہ کرلے اور گناہوں کو ترک کردے تو اس سے پتہ چلے گا کہ نمازی کو نماز نے فائدہ پہنچایا اور آخر کار اپنا مطالبہ نماز نے نمازی سے منوالیا خواہ کافی عرصے کے بعد ہی توبہ کیوں نہ کرے۔ انس بن مالک سے ہی ایک روایت یہ ہے کہ ایک انصاری نوجوان جو کہ ہمیشہ مسجد نبوی(ص) میں حضور کے پیچھے نماز پڑھا کرتا تھا اس کے باوجود بدکاری کیا کرتا تھا، لوگوں نے حضور(ص) سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا کہ ایک دن نماز اس کو بدکاری سے روک لے گی اور اسی طرح جناب جابر سے روایت ہے کہ ’’ایک شخص دن کا نمازی اور رات کا چور تھا تو لوگوں نے حضور سے اس کی بھی شکایت کی، تو آپ(ص)نے فرمایا کہ اس شخص کو بھی نماز ایک دن برائی اور چوری سے روک لے گی۔ یعنی نماز میں اس قدر کشش ہے کہ انسان کو برائی سے روک کر اچھائی کی طرف مائل کردیتی ہے اسی لئے تو کہا گیا ہے کہ نماز کو ترک نہ کرو چاہے تم جس جگہ ہو اس لئے کہ نماز کا ترک کرنا انسان کا اپنے خدا سے رابطہ منقطع کرنا ہے اور جب خدا سے رابطہ منقطع ہوجائے تو اس کے بدلے میں دنیا و آخرت میں تلخ نتائج پیدا ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں موجود ہے کہ جب اہل بہشت اہل دوزخ سے سوال کریں گے کہ تمہیں جہنم میںکس چیز نے پہنچایا؟ تو ان کے جوابوں میں ایک جواب یہ بھی ہوگا کہ ہم تارک الصلوٰۃ تھے۔
پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا کہ تارک الصلوٰۃ اسلام و کفر کے درمیان ہوتا ہے اور پیغمبر اسلام(ص) پھر فرماتے ہیں کہ نماز کو جو عمداً ترک کرے وہ کافر ہے۔ اور مولا علیؑ فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز کو ضائع کرتا ہے وہ دیگر چیزوں کو نماز سے زیادہ ضائع کرتا ہے۔ نماز سے پہلو تہی کرنے والا سب سے بڑا چور ہے۔ رسول اسلام(ص) فرماتے ہیںکہ جو افراد نماز کو ضائع کرتے ہیںوہ روز قیامت قارون و ہامان کے ساتھ کھڑے کئے جائیں گے اور وائے ہو ان افراد پر جو اپنی نماز کی حفاظت نہیں کرتے۔ اور جو شخص نماز کو سبک سمجھتا ہے اس کی عمرو مال سے خدا برکت اٹھا لیتا ہے۔اور اس کے نیک کاموں کا بھی اجرضائع ہوجاتا ہے اس لئے کہ ہر عمل کے قبول ہونے کی شرط نماز کا قبول ہونا ہے اور پھر دعا بھی مستجاب نہیں ہوتی اور مرتے وقت بھوک پیاس کے احساس کے ساتھ دنیا چھوڑتا ہے اور برزخ میں اسے عذاب ہوگا اور روز قیامت اس سے سخت سوال ہوگا۔رسول اسلام(ص) یہاں تک فرماتے ہیں کہ جو نماز کو خفیف سمجھے وہ میری امت میں سے نہیں ہے اور امام جعفر صادقؑ کا آخری فرمان قبل از وفات آپ نے اپنے فرزندوں اور اقرباء کو جمع کیا اور فرمایا’’جو نماز کو سبک سمجھے وہ قیامت کے دن ہماری شفاعت سے محروم رہے گا‘‘۔




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین