یورپ کو ایٹمی جنگ کا ممکنہ خطرہ

روس کے صدر نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی خطرے کا سخت ترین جواب دیں گے۔

ولایت پورٹل:روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار عوامی رضاکاروں کے متحرک ہونے کا اعلان کیا جبکہ روس کے پاس تباہی کے مختلف ہتھیار ہیں، جن میں سے کچھ نیٹو سے زیادہ جدید ہیں،300000 ریزرو فورسز کی بھرتی کا اعلان کرتے ہوئے، کریملن کے سربراہ نے دھمکی دی کہ اگر ان کے ملک کی علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جو ہمارے خلاف جوہری بلیک میلنگ کا استعمال کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب طوفان آتا ہے تو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، پیوٹن نے اپنی تقریر میں یوکرین کے بحران کے پرامن حل کو مغربی ممالک کے لیے بے معنی قرار دیا اور کہا کہ روس کے پاس جواب دینے کے لیے بہت سے ہتھیار ہیں اور یہ کوئی بلف نہیں ہے۔
واضح رہے کہ یورپ میں امریکی افواج کے سپریم کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دینے والے سابق امریکی جنرل بین ہوجز کا کہنا ہے کہ پیوٹن کے ذخائر توپ کا چارہبن جائیں گے جبکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی تیسری جنگ عظیم کے بارے میں خبردار کر چکے ہیں، 2018 میں انہوں نے پینٹاگون کے سینیئر حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں امریکی فوج کو عالمی جنگ کی تیاری کا حکم بھی دیا،انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں یہاں تک کہا کہ ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے روس کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہیے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین