Code : 1265 25 Hit

بچوں پر ٹیلویزن دیکھنے کے مثبت و منفی اثرات

ٹی وی پر بچوں کے بے ترتیب اور غیر منظم پروگرام ان کے جذبات کو ڈٹھیس بھی پہونچا سکتے ہیں اور ان کی سیکھنے اور بڑھنے اور ترقی کرنے کے جذبہ کو نقصان بھی پہونچ سکتا ہے۔یہاں پر والدین کی ذمہ داری بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے اور اب یہ والدین کا فریضہ بنتا ہے کہ اپنے بچوں کو یہ شعور دیں کہ انہیں کون سا پروگرام دیکھنا اور کب دیکھنا ہے لہذا یہ موقوف ہے خود والدین کے شعور،ذوق اور فکر پر، اگر خود والدین کے پاس اچھا ذوق اور بلند شعور ہے تو وہ اپنے بچوں کی صحیح رہنمائی کریں گے اور اگر خود شعور کی دولت سے خالی ہونگے تو وہ اپنے بچوں کی صحیح رہنمائی نہیں کرسکتے

ولایت پورٹل: آج ہمارے گھروں میں دوسرے سامان زندگی کے ساتھ جو چیز سب سے اہم سمجھی جارہی ہے وہ ٹیلیویزن کا وجود ہے اور بہت سے گھروں میں ٹی وی کا نہ ہونا یعنی جیسے زندگی کی کوئی اہم چیز مفقود ہوگئی ہو البتہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آج سب گھروں میں ٹی وی ہے ہی لیکن ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک تو چھوڑیئے آج بر صغیر خاص طور پر ہندوستان و پاکستان میں جھونپڈ پٹی اور ریلوے ٹریک کے کنارے رہنے والے لوگوں کے یہاں اگرچہ زندگی کی ابتدائی ضروری سامان تو نہیں ہوتے لیکن ان کے گھروں میں ٹی وی اور جھونپڑی پر رکھی ہوئی ڈش ضرور نظر آجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اس چیز کو اپنی زندگی میں بہت اہمیت دیتے ہیں اور جہاں گھر کے بڑے ٹی وی دیکھنے کے شوقین ہوتے ہیں وہاں آج کل کے بچے ٹی وی کا کوئی منظر نظروں سے اوجھل ہونے ہی نہیں دیتے۔
آج مارکیٹ میں بھی عجیب عالم ہے ٹی وی کی خرید میں ایک طرح کا کمپٹیشن دکھائی دیتا ہے پہلے صرف سادے ٹی وی سے کام چل جاتا تھا آج ٹی وی نئی ٹکنالوجی کے ساتھ کہیں ایل سی ڈی اور ایل ای ڈی شکل اختیار کرگیا ہے اور ٹی وی بنانے والی کمپنیاں بھی ہر روز اس کمپٹیشن کو کلئیر کرنے اور اپنے خریداروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے ہر روز نئی چیزیں پیش کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔
ہم اس حقیقت سے تو انکار نہیں کرسکتے کہ آج سبھی کے گھروں میں ٹی وی رکھے ہوئے ہیں اور نہ ہی ہم کسی کو ٹی وی دیکھنے سے روک سکتے لہذا ہم خاص طور پر ان والدین سے گذارش کریں گے جن کے گھروں میں چھوٹے بچے ہیں وہ اپنے بچوں کی تربیت پر خاص توجہ دیں چنانچہ آج معاشرے میں ٹی وی کے ذریعہ بہت سی خراب عادتیں بچوں میں پنپ رہی ہیں جیسا کہ سادگی کو چھوڑ فیشن کے دلدادہ ہوجانا۔بازار میں آنے والی ہر نئی چیز کا مطالبہ کرنا یا مختلف کمپنیوں کے اسراف پر مشتمل منفی اشتہاروں کو دیکھ کر قناعت کرنے سے گریز کرنا اور کافی رات گئے تک جاگنا اور پھر صبح اسکول سے غیر حاضر رہنا  وغیرہ۔
لہذا آج والدین کی ذمہ داری بہت سنگین ہے انہیں اپنے بچوں پر خاص توجہ کی ضرورت ہے اور بچوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ٹی وی سے تمہاری زندگی میں رونق نہیں آسکتی بلکہ تمہیں زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیئے تاکہ اچھے برے کی تمییز آئے تمہارا شعور بلند ہو۔
قارئین ! جیسا کہ ہم نے بتایا کہ اگر حد سے زیادہ ٹی وی کا استعمال کیا جائے تو بہت سے نقصان ہوسکتے ہیں اور بہت سی مشکلات وجود میں آسکتی ہیں ویسے ہی اگر حد اعتدال میں  ٹی وی کا استعمال کیا جائے اور اس کا صحیح استعمال کیا جائے تو  اس کے کچھ فوائد بھی انسان کو ہوسکتے ہیں۔چونکہ ٹی وی سے بہت سے مفید تجربے بچوں کو ملتے ہیں لہذا ہم یہ نہیں کہتے کہ ٹی وی سے ملنے والی تمام معلومات بری ہوتی ہیں چنانچہ یہ بات تو کہی جاسکتی ہے کہ ٹی وی جہاں بچوں کو بہت سی مفید معلوامات فراہم کرنا کا ذریعہ ہے کہ اگر ٹی وی نہ ہو تو شاید یہ معلومات انسان تک نہ پہونچے۔
البتہ تربیتی میدان کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹی وی دیکھنے سے بچوں پر مثبت اثرات کم اور منفی اثرات زیادہ پڑتے ہیں اور ٹی وی دیکھنا اسی وقت مفید واقع ہوسکتا ہے جب اس کا صحیح استعمال کیا جائے آج پروگرامز اور چینلز کی بھر مار ہے اس پر اچھے برے ہر طرح کے شو اور سریل آتے ہیں بچوں کو خود تو یہ تمییز اور شعور تو نہیں ہوتا کہ وہ یہ پہچان سکیں کہ کس پروگرام سے کیسے استفادہ کرنا ہے اور کس سے نہیں لہذا یہاں پر والدین کی ذمہ داری بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے اور اب یہ والدین کا فریضہ بنتا ہے کہ اپنے بچوں کو یہ شعور دیں کہ انہیں کون سا پروگرام دیکھنا اور کب دیکھنا ہے لہذا یہ موقوف ہے خود والدین کے شعور،ذوق اور فکر پر، اگر خود والدین کے پاس اچھا ذوق اور بلند شعور ہے تو وہ اپنے بچوں کی صحیح رہنمائی کریں گے اور اگر خود شعور کی دولت سے خالی ہونگے تو وہ اپنے بچوں کی صحیح رہنمائی نہیں کرسکتے۔چونکہ اگر والدین نے اپنے بچوں کی صحیح رہنمائی نہ کی تو بچوں کے خالی اذہان پر ٹی وی اپنا اثر تو چھوڑے گا ہی چونکہ جتنا بچے کی عمر تھوڑی ہوگی اس پر تاثیر بھی اتنی ہی زیادہ اور شدید ہوگی اور ٹی وی ممکن ہے بچے کے علم، یقین اور فکر پر اثر انداز ہو اور اپنے اطراف میں موجود دیگر اشیاء کے متعلق اس کے احساسات اور جذبات ہی کو تبدیل کردے۔
بس خلاصہ  گفتگو یہ ہے کہ ٹی وی پر بچوں کے بے ترتیب اور غیر منظم پروگرام ان کے جذبات کو ڈٹھیس بھی پہونچا سکتے ہیں اور ان کی سیکھنے اور بڑھنے اور ترقی کرنے کے جذبہ کو نقصان بھی پہونچ سکتا ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम