ایٹمی جنگ سے پہلے مذاکرات کر لو؛پوپ فرانسس کا روس اور یوکرین کو مشورہ

دنیا بھر کے کیتھولک عیسائیوں کے رہنما نے روس اور یوکرین سے کہا کہ وہ ایٹمی تنازع شروع ہونے سے پہلے مذاکرات کی میز پر واپس آجائیں۔

ولایت پورٹل:دنیا بھر کے کیتھولک عیسائیوں کے رہنما پوپ فرانسس نے ایک بیان جاری کیا جس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن سے کہا گیا کہ وہ جنگ بندی کا اعلان کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کشیدگی میں مزید اضافہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا باعث بن سکتا ہے جس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق پوپ نے یوکرین میں جنگ کو انسانیت کے لیے ایک خوفناک اور ناقابل تصور زخم قرار دیا جس کا بظاہر بھی کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا،انہوں نے کہا کہ کچھ اعمال کبھی بھی جائز نہیں ہوتے، کبھی نہیں،یہ استدلال کرتے ہوئے کہ جنگ کبھی بھی حل نہیں ہے، پوپ فرانسس نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے متحارب فریقوں پر زور دیا کہ اس جنگ کا ایسا حل نکالا جائے جو طاقت کے ذریعے مسلط نہ ہو بلکہ متفقہ، منصفانہ اور مستحکم ہو، انہوں نے ہر ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے حقوق کے احترام کی اہمیت پر بھی زور دیا، ان کے مطابق جنگ کا جاری رہنا جوہری تنازعات میں شدت کا باعث بن سکتا ہے جس کے ممکنہ طور پر نہ صرف اس میں ملوث فریقوں کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین