اردنی بادشاہ اور ولی عہد کے قتل کے منصوبے کا انکشاف

اردن کی انٹیلی جنس سروس کے ایک باخبر ذرائع نے ایک اور سازش کی نشاندہی کرنے کا اعلان کیا جسے کچھ مقامی بکے ہوئے فوجیوں کے ذریعہ کچھ علاقائی انٹیلی جنس خدمات کے تعاون سے انجام دیا جاناتھا۔

ولایت پورٹل:اردن کی انٹیلی جنس سروس کے ایک باخبر ذرائع نے انکشاف کیا کہ جب ایک طرف شاہی خاندان کے قریبی لوگوں اور کچھ قبائل کے سربراہوں کے ہاتھوں بغاوت کی کوشش کی جارہی تھی  تودوسری طرف  اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور ولی عہد شہزادہ حسین بن عبد اللہ کو راستے سے ہٹانے کے لئے ایک اور منصوبہ بنایا گیا۔
 ذرائع کے مطابق معاملے کی حساسیت کی وجہ سے ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے کہاکہ تحقیقات جاری ہیں اور شاہی عدالت اور اس کی سکیورٹی ٹیم کے متعدد افراد نیز شہزادے کے محافظوں سمیت کچھ سکیورٹی اہلکاروں کو طلب کیا گیا ہے یا تفتیش کے لئے گرفتار کیا گیا ہے، ذرائع نے انکشاف کیا کہ موصولہ اطلاع کے مطابق قاتلانہ ٹیم اردن کے متعدد اشرافیہ، فوجی دستوں اور ایک بڑے قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد پر مشتمل تھی ، یہ لوگ بادشاہ کے ملک کےکسی جنوبی کسی علاقے میں دورے کے دوران اور ولی عہد شہزادہ کی موجودگی کی صورت میں انھیں قتل کرنا چاہتے تھے۔
 ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ولی عہد شہزادہ کے یروشلم کے دورے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کرنے کی ایک وجہ اسرائیلی فریق کی درخواست بھی تھی کہ وہ یروشلم جانے والے شہزادہ حسین کے محافظوں اور ساتھیوں کی تعداد کو کم کریں اور مسجد اقصی کا دورہ کریں جبکہ  ان کےقتل کی سازش کا امکان تھا جس کے بعد اردن کی انٹلی جنس سروس کے مشورے پر یہ سفر منسوخ کردیا گیا ، ان ذرائع کے مطابق ، انٹلی جنس ایجنسی نے قدس شہر میں اپنے انٹیلی جنس ایجنٹوں کی محتاط تفتیش کے ذریعے شہزادے کو قتل کرنے کے سازش کے بارے میں اشارہ حاصل کیا تھا، ذرائع نے زور دے کر کہا کہ اب تک میڈیا میں قاتلوں کے منصوبے کا عدم انکشاف عوامی تحفظ کے ماحول میں خلل کو روکنے کے لئے ہوسکتا ہے ، حالانکہ حالیہ دنوں میں ہونے والی گرفتاریوں اور تحقیقات نے ایسے منصوبوں کو ثابت کیا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین