Code : 2247 165 Hit

پُل صراط سے برق رفتاری کے ساتھ گذرنے والے لوگ

قرض کے طور پر دی جانے والی رقم کی واپسی پر صبر کرنا،جیسا کہ حدیث میں کہ اللہ تعالیٰ قرض میں دیئے جانے والے ہر درہم کے بدلے احد، رضویٰ اور طور سینا جیسے پہاڑوں کے برابر نیکی اس کے اعمال نامہ میں لکھے گا اور قرض کی واپسی کی تاریخ پر اگر وہ واپس نہ کرپا رہا ہے تو وہ صبر کرتے ہوئے اسے مہلت دیدے تو قیامت میں حساب کتاب کے دن عذاب سے محفوظ رہے گا اور پل صراط سے آسانی کے ساتھ گذر جائے گا‘‘۔

ولایت پورٹل: صراط سیدھے راستے کو کہتے ہیں اور صراط جہنم کے اوپر کے بنے ہوئے پُل کو بھی کہا جاتا ہے جس کے اوپر سے ہر انسان کو گذرنا ہوگا لیکن ہر انسان کے گذرنے اور اس کے حساب و کتاب کا طریقہ میں ہوگا۔
چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:’’پُل صراط سے گذرنے کا ہر کسی کا الگ طریقہ ہوگا ،کچھ لوگ برق رفتاری سے گذر جائیں گے کچھ کا گذر ہوا کی طرح ہوگا اور کچھ لوگ ڈگمگاتے اور گرتے پڑتے  اس طرح گذر رہے ہونگے کہ ان کے جسموں میں آگ لگی ہوئی ہوگی‘‘۔(امالی شیخ صدوق،ص107۔بحار الانوار، ج8، ص 64)
ان اعمال کا بیان جن کے سبب انسان پل صراط سے برق رفتاری سے گذر جائے گا:
وہ شخص جو امام علی علیہ السلام کی ولایت کو قبول کرتے ہوئے ان کی پیروی کرے گا وہ قیامت میں پُل صراط سے برق رفتاری سے گذر جائے گا۔(ترجمہ فضائل الشیعہ،ص5)
اسی طرح پیغمبر اکرم(ص) کی ایک اور حدیث میں ملتا ہے کہ’’جو بھی پُل صراط سے ہوا جیسی رفتار میں گذرنا چاہتا ہے اس کو میرے جانشین میرے مددگار اور میرے خلیفہ سے صادقانہ محبت کرنی چاہیئے اور جو جہنم کی آگ میں جلنا چاہتا ہے اسے علی علیہ السلام کی ولایت کا انکار کردینا چاہیئے‘‘۔(شواہد التنزیل،ص 42)
اسی طرح حضرت زہرا(س) کے بارے میں بھی حدیث موجود ہے کہ آپ کے چاہنے والے پُل صراط سے برق رفتاری سے گذر جائیں گے‘‘۔(ثواب الاعمال،ص505)
ہر حالت اور ہر طرح کی سختی میں نماز جماعت کو اہم اور ضروری سمجھنا چاہیئے اور جو نماز کے پابند ہیں انہیں اپنے آپ کو باجماعت نماز پڑھنے کا پابند بنانا چاہیئے کیونکہ جو بھی نماز کو جماعت کے ساتھ پابندی سے ادا کرتا ہے وہ قیامت میں بجلی کی رفتار سے پُل صراط سے گذر جائے گا۔(پاداش نیکی ھا و کیفر گناھان،ص 746 اور ثواب الاعمال و عقاب الاعمال،شیخ صدوق،ص673)
نماز کو اس کے اول وقت پر پڑھنے کی اہمیت و فضیلت کے سلسلہ میں ایک صحابی سے رسول اللہ کی حدیث نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا:’’جو شخص بھی اول وقت نماز پڑھے گا اللہ تعالیٰ اسے ان 9 چیزوں سے نوازے گا:
1۔وہ اللہ کا محبوب بندہ کہلائے گا۔
2۔ اس کا بدن قبر میں بھی صحیح سلامت رہے گا۔
3۔فرشتے اس کی حفاظت کریں گے۔
4۔ اس کے گھر برکتیں نازل ہونگی۔
5۔ اس میں نیک بندوں کے صفات پیدا ہوجائیں گی۔
6۔ اس کا دل نرم ہوجائے گا۔
7۔پُل صراط سے بجلی کی رفتار سے گذر جائے گا۔
8۔ جہنم کی آگ سے بچا رہے گا۔
9۔قیامت میں وہ ایسے لوگوں کے ساتھ رہے گا جنہیں نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ کسی طرح کا غم ۔(النصائح،ص296)
پیغمبر اکرم(ص) کا ارشاد ہے:’’ جو شخص حلال طریقہ سے رزق کما کر کھائے گا وہ پُل صراط سے آسانی کے ساتھ گذر جائے گا‘‘۔(الحیاۃ،ج5،ص432)
اس حدیث کی روشنی میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اس کے نیک بندے پُل صراط سے آسانی کے ساتھ گذر جائیں اسی وجہ سے اس نے بہت چھوٹی چھوٹی سی چیزوں پر اتنا بڑا ثواب رکھا ہے۔ نیز یہ بھی ذہن نشین رہے کہ حلال کمائی سے وہی شخص رزق حاصل کرپائے گا جس کے پاس تقوا ہوگا۔
بیماری پر صبر کرنے سے بھی پُل صراط پر گذرنے میں آسانی ہوگی جو شخص پورے دن کسی بیماری کی تکلیف کو برداشت کرے اور اپنی تکلیف کی شکایت کسی کے سامنے نہ کرے اسے اللہ قیامت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ محشور کرے گا اور وہ پُل صراط سے بجلی سے بھی تیز رفتار میں گذر جائے گا‘‘۔(من لا یحضرہ الفقیہ،ج5،ص 305)
قرض کے طور پر دی جانے والی رقم کی واپسی پر صبر کرنا،جیسا کہ حدیث میں کہ اللہ تعالیٰ قرض میں دیئے جانے والے ہر درہم کے بدلے احد، رضویٰ اور طور سینا جیسے پہاڑوں کے برابر نیکی اس کے اعمال نامہ میں لکھے گا اور قرض کی واپسی کی تاریخ پر اگر وہ واپس نہ کرپا رہا ہے تو وہ صبر کرتے ہوئے اسے مہلت دیدے تو قیامت میں حساب کتاب کے دن عذاب سے محفوظ رہے گا اور پل صراط سے آسانی کے ساتھ گذر جائے گا‘‘۔(ثواب الاعمال،ص 667)



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम