Code : 4403 3 Hit

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی خواتین قیدیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا انکشاف

فلسطین میں سماجی کارکنوں اور عینی شاہدین نے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی خواتین قیدیوں کے ساتھ گھناؤنے سلوک اور جنسی ہراسانی کی اطلاع دی۔

ولایت پورٹل:اناتولی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق تقریبا 4300 فلسطینی قیدیوں کی صورتحال کے بارے میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی بین الاقوامی تنقید اور انتباہ جاری ہے جبکہ عینی شاہدین نے اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی اطلاع دی ہے،رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی خواتین کا کہنا ہے کہ وہ دوران تفتیش اسرائیلی مرد انٹیلی جنس ایجنٹوں کے ہاتھوں ناروا سلوک کا شکار ہوتی ہیں۔
اناتولی کے مطابق دینا الکرمی  ایک 41 سالہ فلسطینی خاتون جس نے اسرائیلی جیل میں 16 ماہ گزارے ہیں ، انھوں نے جیل میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی دل دہلا دینے والی کہانی سنائی اس انداز میں سنائی کہ  رات کے وقت اسرائیلی مرد انتیلی جنس آفیسر کے ذریعہ کی جانے والی تفتیش کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کے جسم پر کئی بار لرزہ طاری ہوا، انھوں نے کہا کہ ہر بار تفتیش کے دوران انھیں ذلیل و خوار اور سخت جنسی ہراساں کیا گیا۔
اناتولی نیوز ایجنسی نے مزید لکھا کہ الکرمی جیسی بہت ساری فلسطینی خواتین نے اسرائیلی جیلوں میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی اطلاع دی ہے جس میں سخت اور غیر اخلاقی جسمانی تلاشی بھی شامل ہے، دینا الکرمی کے مطابق "عسقلان" کے صہیونی حراستی مرکز میں حراست کے دوران دو دن تک ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی،انھوں نے مزید کہا کہ "جب میں نے اپنے کپڑے اتارنے سے انکار کیا تو ، جیل کے گارڈ نے مجھ پر حملہ کیا اورمیرے کپڑے پھاڑ دیے اور مجھے شرمناک جسمانی تلاشی کا نشانہ بنایا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی اہلکار فلسطینی قیدیوں اور نظربند افراد پر دباو ڈالنے کے لیےخاص طور پر تفتیش کے دوران جنسی طور پر ہراساں کرنے کا استعمال بطور اوزار کرتے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین