Code : 4285 10 Hit

امیرالمؤمنین(ع) کی وصیت کے تناظر میں مظلوم و ظالم کے مقابل ہماری ذمہ داری

اس وصیت کی روشنی میں یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اس فریضہ کے صرف ایک رکن کو انجام دے ، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص مظلوم کی حمایت و مدد تو کرے لیکن ظالم سے نفرت و بیزاری نہ کرے اور اس کے اس عمل قبیح کی مذمت نہ کرے تب بھی یہ فرض ادا نہیں ہوتا ۔ اور اسی طرح کوئی ظالم کے ظلم کی مذمت تو کرے لیکن مظلوم کی مدد و نصرت کرنے کی کوشش نہ کرے تو وہ بھی اپنے فرض سے سبکدوش نہیں ہوسکتا ۔ لہذا حضرت کی وصیت میں بیان کردہ فرض اپنے دونوں ارکان کی بجا آوری سے ہی پایہ تکمیل تک پہونچتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام ! دین اسلام نے اپنے پیروکاروں سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہمیشہ کہیں بھی اور کسی جگہ بھی اگر کسی شخص پر یا پورے معاشرے پر ظلم ہورہا ہے اس کی مخالفت کریں اور مظلوم سے ۔ چاہے وہ کوئی بھی ہو ۔ اپنی ہمدردی کا اظہار کریں۔ چنانچہ حضرت امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے امام حسن اور امام حسین (ع)  سے فرمایا:’’كُونَا لِلظَّالِمِ خَصْماً، وَلِلْمَظْلُومِ عَوْناً‘‘۔ہمیشہ ظالم کے دشمن بنو اور مظلوم کے مددگار بنو۔(نہج البلاغہ، مکتوب ۴۷)
مولا(ع) کی اس وصیت کی روشنی میں دین اسلام کی نظر اتنی وسیع ہے کہ ظالم سے نفرت و بیزاری اور مظلوم کی حمایت و ہمدردی کو کسی خاص قوم، قبیلہ، دین، مذہب اور گروہ میں محدود نہیں کیا، بلکہ  جس طرح دنیا کے ہر مظلوم کی مدد ، حمایت و ہمدردی کرنا فرض ہے اسی طرح دنیا کے ہر ظالم سے نفرت ،بیزاری و برأت کرنا بھی ہر مسلمان کا فرض ہے۔
نیز اس وصیت کی روشنی میں یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اس فریضہ کے صرف ایک رکن کو انجام دے ، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص مظلوم کی حمایت و مدد تو کرے لیکن ظالم سے نفرت و بیزاری نہ کرے اور اس کے اس عمل قبیح کی مذمت نہ کرے تب بھی یہ فرض ادا نہیں ہوتا ۔ اور اسی طرح کوئی ظالم کے ظلم کی مذمت تو کرے لیکن مظلوم کی مدد و نصرت کرنے کی کوشش نہ کرے تو وہ بھی اپنے فرض سے سبکدوش نہیں ہوسکتا ۔ لہذا حضرت کی وصیت میں بیان کردہ فرض اپنے دونوں ارکان کی بجا آوری سے ہی پایہ تکمیل تک پہونچتا ہے۔
اسی طرح اس وصیت سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ظالم سے نفرت کرنا اور اس کا مقابلہ کرنا اور اس کے مظالم کے سامنے تسلیم نہ ہونا اور مقاومت کرنا اس شخص یا قوم کی ہی ذمہ داری نہیں ہے جس پر ظلم ہو رہا ہے بلکہ انسان ہونے کے ناطے سب لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آگے آئیں اور مظلوم کو ظالم کے ظلم سے نجات دلائیں۔
نیز اس حدیث سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ جو ظالم ہم پر ظلم کررہا ہے ہم صرف اسی سے مقابلہ نہ کریں بلکہ اس ظالم سے بھی بیزاری کریں اور مقابلہ کا لائحہ عمل تیار کریں جو دوسروں پر بھی ظلم کر رہا ہے ۔اور اگر خدا نخواستہ ہم نے ظالم کے ظلم سے کسی مظلوم کو نہ بچایا تو حقیقت میں ہمارا شمار بھی ظلم کرنے والوں میں کیا جائے گا ۔
مظلوم کی حمایت کے مختلف طریقہ ہو سکتے ہیں ایک تو یہ ہے کہ انسان خود میدان مقابلہ میں کود جائے اور ظالم کو آگے بڑھنے اور تجاوز کرنے سے روکے لیکن اگر ایسا نہ ہو جیسا کہ آج کی دنیا میں فلسطین، افغانستان یا دیگر ممالک میں ظلم ہورہا ہے تو کم از کم ہمارا فریضہ بنتا ہے کہ ہم ان کے لئے اپنی آواز اٹھائیں کبھی احتجاج کی صورت تو کبھی سوشل میڈیا پر تاکہ کہیں ظالم یہ نہ سمجھ لے کہ یہ مظلوم اکیلا ہے ۔ چونکہ اگر ہم نے مناسب وقت و موقع پر مظلوم کی حمایت میں آواز بلند نہ کی تو ظالم یہ گمان کرے گا کہ مظلوم اکیلا ہے لہذا جتنا ہو سکے اس پر ظلم کرو لیکن جب ہر طرف سے اس مظلوم کی حمایت میں آواز بلند ہوگی اور ظالم سے نفرت کا اظہار ہوگا تو ظالم کے قدموں کے لئے ہم سب کی یہ اٹھتی ہوئی آوازیں زنجیر پا بن جائیں گی ۔اور اگر آج کسی ایک مظلوم کی حمایت نہ کی گئی تو کل ظالم میں یہ جسارت پیدا ہوجائے گی کہ وہ کسی اور کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنائے گا۔ لہذا یہ بہت حساس مرحلہ ہے اس پر سنجیدگی سے  غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین