یا وزیر اعظم یا کال کوٹھری؛نیتن یاہو کا مستقبل

اسرائیل میں اہم پارلیمانی انتخابات کے موقع پر وہائٹ ہاؤس سے بنیامین نیتن یاہو کے سب سے اہم اتحادی کی رخصتی سے صیہونی وزیر اعظم کو شدید دھچکا لگا ہے دریں اثناء  ان کی سیاسی منزل مقصود بدعنوانی کے الزامات کے باعث خطرے میں پڑ گئی ہے،اگر وہ اپنے ملک کی اگلی حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہے تو بدعنوانی کے ممکنہ الزامات اور عدالت میں سزا سنائے جانے کے سبب انھیں جیل بھیج دیا جاسکتا ہے

ولایت پورٹل:بجٹ پر اختلاف رائے اور پارلیمنٹ کی تحلیل کے سبب اسرائیلی اتحادی حکومت کا خاتمہ ، مارچ کے مہینے میں ہونے والے انتخابات ، لیکوڈ میں داخلی تقسیم اور وزیر اعظم کے سامنے بدعنوانی سے متعلق سماعتوں کی وجہ سے سیاسی میدان میں بنیامین نیتن یاہو  کی آخری موجودگی سمجھا جا رہا ہے، مسٹر نیتن یاہو دو سالوں میں اپنی چوتھی انتخابی مہم کے لئے اس حالت میں تیاری کرنے والے ہیں کہ  لیکوڈ پارٹی کے ممبروں کے درمیان ان کی کارکردگی کے بارے میں اختلافات غیر معمولی سطح پر بڑھ گئے ، اس کے  علاوہ مغربی کنارے کے حصوں کو صیہونی علاقوں میں جوڑنے اور شہری ترقی سمیت ان کے توسیع طلبانہ منصوبے دکھائی دےرہے ہیں لیکن ان سب سے بڑھ کر ان کے بہترین دوست اور حلیف  ڈونلڈ ٹرمپ  بھی نہیں ہیں جو ان کی حمایت کریں گے ۔
یادرہے کہ  23 مارچ کے انتخابات کے نتائج نیتن یاہو کے لئے بہت اہم ہیں کیونکہ اگر وہ اپنے ملک کی اگلی حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہے تو بدعنوانی کے ممکنہ الزامات اور عدالت میں سزا سنائے جانے کے سبب انھیں جیل بھیج دیا جاسکتا ہے، ایک ایسا مسئلہ جو ان کے سیاسی کیریئر پر خاتمہ کی مہر لگا سکتا ہے، اگرچہ کچھ سروے کے نتائج اسرائیل میں آئندہ پارلیمانی انتخابات میں لیکوڈپارٹی کی فتح کی نشاندہی کرتے ہیں  لیکن حکومت سازی کی کامیابی اس ریاست میں ابھی بھی بحث و قیاس آرائیوں کا باعث ہے۔
واضح رہے کہ  اسرائیل میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے دائیں اور بائیں بازو کی پارٹیوں  کے مابین روایتی جھگڑوں کے علاوہ نیتن یاھو کو اب دائیں بازو کی جماعتوں کے اندربھی  اپنے نئے سیاسی حریفوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین