Code : 4114 8 Hit

امام معصوم کو اکیلا چھوڑ دینے کا نتیجہ معاشرہ میں ظلم و ستم کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوتا

سنت الہی یہ ہے کہ جب جب لوگ ولی خدا اور اس کی حجت کو چھوڑ کر کسی ایسے کے پیچھے جائیں کہ جسے اللہ نے معین نہ کیا ہو تو انہیں سختیوں اور دشواریوں کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا یعنی آخرت میں خسارہ و نقصان کے ساتھ ساتھ انہیں اس دنیا میں بھی مشکلات و صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

ولایت پورٹل: اللہ تعالیٰ نے سن ۱۰ ہجری یعنی پیغمبر اکرم(ص) کی زندگی کے آخری برس آخری حج سے لوٹتے ہوئے یہ حکم دیا کہ اے میرے رسول ! آپ اپنے چچازاد بھائی اور داماد  علی علیہ السلام کو لوگوں کے سامنے اپنے جانشین اور امام کے طور پر تعارف کروا دیجئے۔ چنانچہ سرکار(ص) ارکان حج کو انجام دینے کے بعد  جب مقام غدیر خم پر پہونچے آپ نے تمام حاجیوں کو اکھٹا کر علی(ع) کی خلافت بلا فصل اور ولایت و امامت کا اعلان عام فرمادیا اور اس پر ان سب سے بیعت بھی لی لہذا اس طرح حضرت علی(ع) رسمی طور پر مسلمانوں کے خلیفہ اور پیغمبر اکرم(ص) کے جانشین مقرر ہوگئے۔
لیکن ابھی  کچھ زیادہ عرصہ بھی نہ گذرا تھا کہ ادھر سرکار رسالتمآب(ص) نے رحلت فرمائی ادھر لوگوں نے سب کچھ بھلا کر انہیں اکیلا چھوڑ دیا اور آپ کی جگہ پر ایک دوسرے شخص کی بیعت کر اسے اپنا خلیفہ تسلیم کرلیا ۔ اور اس طرح صدر اسلام میں ہی حضرت علی(ع) کو اس خلافت سے کہ جو آپ کا مسلّم حق تھا دستبردار کردیئے گئے اور جس کا خلافت میں کسی طرح کا کوئی حصہ نہ تھا مسلمانوں کا خلیفہ بن بیٹھا ۔اور اس طرح مدینہ کے اشراف اور سر بر آوردہ لوگوں نے علی کا ساتھ چھوڑ دیا اور صرف یہی نہیں کہ ان لوگوں نے پہلے مرحلہ میں ہی ایسا کیا ہو بلکہ پہلے نے دوسرے کو اور دوسرے نے تیسرے کی خلافت کے لئے میدان ہموار کردیا اور تمام بڑے اور سر بر آوردہ لوگ علی (ع) سے دور رہے ۔
حقیقی خلیفہ اور حجت خدا کے منصب حق سے دور رہنے کا سبب یہ ہوا کہ اسلامی معاشرہ میں اونچ نیچ، بے عدالتی پھیل گئی اور معدودے چند لوگوں کے ہاتھوں میں سارے عالم اسلام کی دولت آگئی اور اس طرح اکثر لوگ فقر، غربت و افلاس میں گذر بسر کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ اور ماجرا صرف یہی پہ ختم نہیں  ہوا بلکہ معاویہ کہ جو خلیفہ دوم کی طرف سے شام کا حاکم مقرر ہوا تھا اس نے اس جگہ ۔ اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کرتے  ایک چھوٹی سی بادشاہت کی بنیاد ڈال دی جس کے سبب بیت المال کا سارا پیسہ قلعہ اور محل تعمیر کرنے اور عیش و نوش پر خرچ ہونے لگا ۔
تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان کے دور خلافت میں تو طبقاتی اونچ نیچ کے فرق اور پارٹی بازی کا منحوس سایہ پوری اسلامی مملکت پر اس قدر دراز ہوا کہ اس نے اپنے تمام رشتہ داروں کو اسلامی حکومت میں موجود بڑے بڑے مناصب پر فائز کردیا اور باقی سب لوگ اس کھلے عام ظلم کو اپنی آنکھوں سے  دیکھتے رہ گئے اور کسی کی اعتراض کرنے کی جرأت نہ ہوئی اور جب بات حد سے گذر گئی اور پانی سر سے اونچا ہوگیا اور ہر طرف اموی حکام جنگلی درندوں کی طرح عوام کا خون پینے لگے تو لوگوں میں عثمان اور اس کے کارندوں کے خلاف ایک جذبہ بیدار ہوا اور انہوں نے علم بغاوت بلند کردیا اور دور دراز علاقوں سے لوگ اکھٹا ہوکر مدینہ پہونچ گئے اور آکر عثمان کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور آخر کار اس ظلم  و ستم کے تاوان میں اسے قتل کردیا گیا۔
اسی طرح لوگوں نے علی(ع) کے بعد آپ کے فرزند ارجمند امام حسن مجتبیٰ (ع) کی بھی حمایت نہ کی جس کے سبب معاویہ خلیفہ بن بیٹھا اور پھر ایک نئی بے راہ روی اور بے عدالتی اسلامی معاشرہ میں پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ آگے بڑھنے لگی اور اسی طرح جب یزید تخت خلافت پر ویراج مان ہوا   اور لوگوں نے اس کی حمایت جاری رکھی تو امام حسین (ع) کو تنہا کربلا کے میدان میں شہید کردیا گیا جس کے نتیجہ میں خانہ کعبہ کو آگ لگائی گئی اور تین دنوں تک مدینہ رسول (ص) کی بے حرمتی ہوتی رہی اور یہی لوگ تماشائی بنے تماشا دیکھنے میں مشغول تھے ۔
پس اسی طرح ہر زمانہ میں  لوگ ہمیشہ ظالم حکومتوں سے خوف یا لالچ کے باعث مرعوب رہے جس کے نتیجہ میں ابن زیاد، حجاج بن یوسف، ہارون ، متوکل، مہدی، مامون جیسے سفاک ترین حاکم، اسلامی معاشرے پر حکومت کرتے اور سادہ لوح عوام کا خون پیتے رہے اور اس طرح اللہ کی زمین پر ظلم کے پودے اگتے رہے ۔
قارئین کرام! سنت الہی یہ ہے کہ جب جب لوگ ولی خدا اور اس کی حجت کو چھوڑ کر کسی ایسے کے پیچھے جائیں کہ جسے اللہ نے معین نہ کیا ہو تو انہیں سختیوں اور دشواریوں کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا یعنی آخرت میں خسارہ و نقصان کے ساتھ ساتھ انہیں اس دنیا میں بھی مشکلات و صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
نیز یہ بھی خدا کی سنت ہے کہ جب اللہ کے معین کردہ عادل حکمرانوں کو ان کے منصب سے ہٹایا جائے گا تو وہ ان پر ایسے ظالم و سفاک لوگوں کو مسلط کردے گا کہ جو ان پر کسی طرح رحم نہ کریں ۔ یعنی آخرت میں بازپرس تو اپنی جگہ پر ہوگی ہی صحیح انہیں اس دنیا میں بھی ہر قدم پر سختیوں میں رہنا ہوگا چونکہ جو خدا اور ولی خدا کو چھوڑ کر کسی دوسرے کا سہارے تلاش کرتے ہیں وہ عذاب الہی کے دوسروں سے زیادہ حقدار ہوتے ہیں ۔
ظالم حکومتوں میں عام لوگوں کے حصہ میں سختیاں ہی آتی ہیں بس معدودے چند لوگ ہی حکومتوں کی قربت سے فائدہ اٹھا پاتے ہیں ۔البتہ یہ بھی یاد رہے کہ امام معصوم اور ولی خدا کی ہمراہی و معیت بھی کبھی کبھی سخت و دشوار ہوتی ہے چونکہ دشمنان دین ہر آن اس فراق میں رہتے ہیں کہ کس طرح معاشرے میں نا امنی ایجاد کی جائے اور لوگوں کو معصوم کی اتباع و پیروی سے روکا جائے ۔ لہذا وہ کبھی آپس میں جھگڑا کرواتے ہیں کبھی خارجہ دشمن بن کر حملہ آور ہوجاتے ہیں لہذا یہ وہی موقع ہے کہ جب مؤمنین کو مقاومت کرنا چاہیئے اور اپنے امام کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیئے تاکہ وہ ایک مثالی اسلامی معاشرہ میں زندگی کی لذتوں سے بہرمند ہوسکیں ۔
چنانچہ جب علی(ع) ظاہری طور پر خلافت تک پہونچے دشمنوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا اگر لوگ علی(ع) کی نسبت اپنی حمایتوں  سے دریغ نہ کرتے تو انہیں وہ مقصد ضرور حاصل ہوجاتا جس کے سبب اللہ نے علی(ع) کا اس منصب خلافت کے لئے انتخاب کیا تھا ۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین