امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کی مغربی پٹی کے الحاق کی مخالفت

امریکی سینیٹ انتخابات میں آٹھ ڈیموکریٹک امیدواروں نے صہیونی حکومت کے مغربی پٹی پر قبضے کے منصوبے کی مخالفت کی ہے۔

ولایت پورٹل:ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز امریکی سینیٹ انتخابات میں آٹھ ڈیموکریٹک امیدواروں نے علیحدہ بیانات میں صہیونی حکومت کے مغربی پٹی پر قبضے کی مخالفت کی۔
واضح رہے کہ جیسے جیسے صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو مغربی پٹی کے الحاق کے آغاز کے قریب پہنچ رہے ہیں ویسے ویسے ریاستہائے متحدہ میں  ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین  کی جانب سے اس منصوبے کی مخالفت میں شدت آتی جارہی ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل نے لکھا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے آٹھ امیدوار جو رواں سال سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لینے والے ہیں،اس منصوبے کی مخالفت کررہے ہیں۔
گذشتہ روز ان امیدواروں نےاپنے علیحدہ علیحدہ بیانات میںاسرائیل کے مغربی پٹی پر قبضے کے منصوبے کی سختی سے مخالفت کی۔
امریکی حزب اختلاف کے ایک امیدوار ایمی میک گراٹ نے کہاکہ میں یکم جولائی 2020 کو مغربی پٹی کو الحاق کرنے کے فیصلے کے مخالف ہوں۔
انھوں نے کہا کہ یہ کوئی دانشمندانہ سفارتی اقدام نہیں ہے بلکہ ایسا اقدام ہے جو اسرائیل کے ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کو ہمیشہ کے لئے روک سکتا ہے۔
ٹائم آف اسرائیل نے مزید لکھا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی  کی جانب سےتل ابیب کی خودمختاری میں توسیع کے نیتن یاہو کے منصوبے کو قبول نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ اس معاملے پر یہ  پارٹی متحد ہے  جبکہ ری پبلکن پارٹی یا تو خاموش رہی ہے یا اس اقدام کی حمایت کرتی ہے۔
واضح رہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن ، ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے 28 سینیٹ اراکین نے حالیہ ہفتوں میں اس منصوبے کی مخالفت کی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ دسمبر 2019 میں امریکی ایوان نمائندگان نے ایک بل منظور کیا جس میں مغربی کنارے پر قبضے کی مخالفت کی گئی تھی اور "دو ریاستی حل" کی حمایت کی گئی تھی۔


 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین