Code : 4349 2 Hit

بحرینی متعدد انجمنوں اور اداروں کی صیہونیوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت

بحرین کی 17 انجمنوں اور اداروں نے ایک مشترکہ بیان میں صیہونی حکومت کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کو معمول پر لانے کی مخالفت کی۔

ولایت پورٹل:عربی21 کی رپورٹ کے مطابق بحرین کی 17 انجمنوں اور تحریکوں نے ایک بیان میں  صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حکام کو مسئلۂ فلسطین کے سلسلہ میں بحرین کے آئین پر عمل پیرا ہونے کے لیےزور دیا گیا جس کے مطابق صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا جرم ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ ممالک اور صیہونی حکومت کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کی تمام اقسام میں کوئی امن قائم نہیں ہوا ہےاور نہ ہی اس اقدام  کے نتیجے میں فلسطینی عوام کے حقوق انھیں ملے ہیں بلکہ اس کے بعد صیہونی دشمن  نےفلسطین ، عربوں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات ، جن میں القدس بھی شامل ہے ، کے خلاف زیادہ سے زیادہ جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے زیر نظر بحرین اور صیہونی دشمن کے مابین   ہونے والےنام نہاد امن معاہدے سےبحرینی عوام کو ایک بڑا صدمہ ہواہے،اس اقدام نے عوامی عدم اطمینان کے ساتھ ساتھ سیاسی انجمنوں ، سول سوسائٹی تنظیموں اور تمام قومی شخصیات کو مشتعل کیا ہے۔
واضح رہے کہ اخوان المسلمون سے وابستہ جمعیت الاسلام کی ایک سیاسی شاخ ، المنبر الإسلامی نے بھی ایک بیان میں صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے پر افسوس کا اظہار کیا، اس تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ 2002 میں سعودی عرب کے ذریعہ اعلان کردہ عرب امن منصوبے کے تحت مشرق وسطی میں امن کا مرکزی مسئلہ تھا،تاہم اب سعودی عرب ہی صیہونیوں کے ساتھ تعلقات بحال کرنے میں سب سے آگے ہے اور دوسرے ممالک کو آگے بڑھا رہا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین