Code : 1284 80 Hit

ماں کی خدمت کرنے والا موسٰی(ع) کا ہمنشین

جوان نے بوڑھی عورت کے ٹوکری کو پھر پیڑ سے لٹکا دیا اور پھر موسٰی علیہ السلام کے پاس آئے مسکرا کے کہا:یہ میری بوڑھی ماں ہے چونکہ بہت ضعیفہ ہوگئیں ہیں مجھے مجبوراً ان کی اس انداز میں حفاظت کرنا پڑتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ہمیشہ مجھے یہی دعا دیتی ہیں کہ انشاء اللہ جنت میں موسٰی(ع) کی ہمنشینی نصیب ہو!کتنی بڑی دعا ہے !بھلا میں کہاں؟ اور موسیٰ نبی اللہ کی ہمنشینی کہاں؟موسٰی علیہ السلام کی آنکھیں چمکنے لگیں اور فرمایا: بھلا جس کی ماں اپنے بیٹے کو دل سے دعا دے خدا اس کی دعا کو کیسے رد کرسکتا ہے! اور ہاں! میں ہی موسٰی ہوں اور تم اپنی ماں کی دعا کے طفیل میں یقیناً جنت میں میرے مصاحب ہونگے۔

ولایت پورٹل: ایک دن حضرت موسٰی علیہ السلام نے تنہائی میں اللہ سے راز و نیاز کی اور اپنی قوم کے ایمان نہ لانے کی شکایت کی: پروردگار میری یہ قوم تو مجھ پر ایمان نہیں لارہی ہے اب کوئی ایسا ہے جو میرے ساتھ جنت میں داخل ہوسکے؟
اللہ کا خطاب ہوا: ہاں
جناب موسٰی(ع) نے تعجب سے دریافت کیا:وہ کون ہے؟
خطاب ہوا: موسٰی فلاں شہر کے فلاں محلہ کا رہنے والا شخص جنت میں تمہارے ساتھ ساتھ ہوگا۔
موسیٰ علیہ السلام نے پھر عرض کی: پروردگار! کیا مجھے اجازت ہے کہ میں تیرے اس نیک بندے سے ملاقات کرسکوں؟
جواب آیا: کیوں نہیں! تم اس سے مل سکتے ہو۔
چنانچہ اگلے دن جناب موسٰی علیہ السلام اس شہر اور محلہ کی طرف چل پڑے اور اس شخص سے ملاقات ہوئی جس کا پتہ اللہ نے بتلایا تھا۔وہ نہایت ہی سادہ شخص تھا اور جس کا پیشہ قصابی تھا۔جناب موسٰی علیہ السلام نے اس سے کہا بھائی میں اس شہر میں مسافر ہوں کیا ایک رات تمہارے یہاں مہمان بن سکتا ہوں۔
اس قصاب نے جواب دیا: کیوں نہیں! اسے اپنا ہی شہر سمجھئے اور مہمان تو اللہ کا حبیب و دوست ہوتا ہے۔ بس تھوڑی دیر ٹہرئیے میں اپنا کام نپٹا لوں تو پھر گھر چلتے ہیں۔جناب موسٰی اس جوان کے ہر ہر کام و حرکت کو بڑی دقت نظری سے دیکھ رہے تھے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ اسے اللہ نے اتنا عظیم مرتبہ کیسے عنایت کیا ہے۔
اس جوان نے اپنی دوکان میں رکھے گوشت میں سے ایک بھیڑ کی ران کاٹی اور اسے کپڑے میں لپیٹا اور ایک طرف رکھ دیا۔ کچھ دیر کے بعد جب وہ فارغ ہوا تو اس نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: بھائی! اب میرا کام مکمل ہوچکا ہے آئیے اب گھر چلتے ہیں۔یہ سن کر موسٰی اٹھتے ہیں اور راستہ طئے کرتے ہوئے اس کے گھر پہونچ جاتے ہیں۔اب گھر میں آتے ہی اس جوان نے ایک پیڑ سے بندھی ہوئی رسی کو کھولا اور آہستہ آہستہ اسے ڈھیلا کرنا شروع کیا۔ یہ منظر موسٰی علیہ السلام با غور دیکھ رہے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد ایک ٹوکری پیڑ سے نیچے آگئی جس میں ایک نہایت ضعیف و نابینا بڑھیا بیٹھی ہوئی تھی۔
جناب موسٰی علیہ السلام کے لئے یہ منظر بڑا عجیب تھا۔وہ جوان اس ضعیفہ کے قریب گیا بڑی ہی محبت سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اسے کھانا کھلایا اب چلتے ہوئے دریافت کیا: مادر گرامی! کچھ اور چیز تو نہیں چاہیئے۔بوڑھی عورت نے کہا:انشاء بہشت میں تمہیں موسیٰ کی ہمنشینی نصیب ہو!
اس کے بعد اس جوان نے بوڑھی عورت کے ٹوکری کو پھر پیڑ سے لٹکا دیا اور پھر موسٰی علیہ السلام کے پاس آئے مسکرا کے کہا:یہ میری بوڑھی ماں ہے چونکہ بہت ضعیفہ ہوگئیں ہیں مجھے مجبوراً ان کی اس انداز میں حفاظت کرنا پڑتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ہمیشہ مجھے یہی دعا دیتی ہیں کہ انشاء اللہ جنت میں موسٰی(ع) کی ہمنشینی نصیب ہو!
کتنی بڑی دعا ہے !بھلا میں کہاں؟ اور موسیٰ نبی اللہ کی ہمنشینی کہاں؟
موسٰی علیہ السلام کی آنکھیں چمکنے لگیں اور فرمایا: بھلا جس کی ماں اپنے بیٹے کو دل سے دعا دے خدا اس کی دعا کو کیسے رد کرسکتا ہے! اور ہاں! میں ہی موسٰی ہوں اور تم اپنی ماں کی دعا کے طفیل میں یقیناً جنت میں میرے مصاحب ہونگے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम