Code : 4414 3 Hit

عربوں کے ہمارے ساتھ مل جانے کے بعد فلسطین اسرائیل کا داخلی مسئلہ بن جائےگا: صہیونی مستشرق

صیہونی تجزیہ کار اور اورینٹل ماہر نے تل ابیب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے مختلف پہلوؤں کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صیہونیوں کے ساتھ عرب تنازعے کے خاتمے کے ساتھ ہی فلسطین اسرائیل کا داخلی مسئلہ رہ جائے گا۔

ولایت پورٹل:اسرائیل الیوم کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اسکالر اور تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر ایال زیسرنے صیہونی قبضہ کاروں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مذمت کرنے سے عرب لیگ کے انکار کی تعریف کی اور دعوی کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والے معاہدے اسرائیل کو دفاعی سے ایک جارحانہ حالت میں تبدیل کردیں گےنیز اس کو غزہ ، لبنان اور تہران کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے زیادہ پرعزم بنا دیں گے،انھوں نے مزید کہا کہ پچھلے ہفتے دستخط کیے جانے والے تاریخی معاہدے صرف خلیجی ریاستوں کے ساتھ تل ابیب کے تعلقات میں وقتی پیشرفت نہیں ہے بلکہ یہ اسرائیل اور عرب دنیا کے مابین 100 سالہ پرانے تنازعہ کے خاتمے کےلیے ایک ممکنہ اور قریبی خاتمے کی نویدہے۔
صیہونی اسکالر نے مزید کہا کہ فلسطینی دباؤ کے باوجود تل ابیب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مذمت کرنے کے لئے عرب لیگ کی مخالفت ، ایک وسیع عرب اتفاق رائے اور مفاہمت اور امن کی خواہش کی عکاسی کرتی ہے،زیسر نے کہا کہ ایک سو سال قبل جنوری 1919 میں ، صیہونی رہنما ہیم ویس مین اور شہزادہ فیصل [عرب بادشاہت حجاز اور اس کے تام الاختیار کے نمائندے] نے یہودی عرب تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے اور اسی کے مطابق  عربوں نے یہودیوں کے لیے (فلسطین کی سرزمین) میں اپنے لئے ایک وطن بنانے کے حق کو تسلیم کیا۔
انہوں نے دعوی کیا کہ فلسطینیوں کی جانب سے اس اقدام کی مخالفت نے عرب دنیا کو اسرائیل کے ساتھ لمبی محاذ آرائی میں داخل کردیا اور اب دونوں فریق بیک وقت مزید سو سال ضائع نہ ہونے کی امید میں ایک ہی نقطہ آغاز کی طرف لوٹ چکے ہیں، صہیونی تجزیہ کار نے امید ظاہر کی ہے کہ دوسرے ممالک جیسے سوڈان ، عمان ، سعودی عرب وغیرہ ، جلد ہی تل ابیب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل میں متحدہ عرب امارات اور بحرین میں شامل ہوجائیں گے۔





0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین