سعودی عرب میں ایک بار پھر گرفتاریوں کا بازار گرم

سعودی عرب میں انسانی حقوق کی مشکل صورتحال پر زور دیتے ہوئے مبصرین نے اعلان کیا کہ اس ملک کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دور میں مخالفین اور ناقدین کے جبر میں غیر معمولی شدت آئی ہے۔

ولایت پورٹل:بعض مبصرین نے ایک رپورٹ میں سعودی عرب میں جبر کی شدت کا ذکر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سعودی حکام کئی مذہبی شخصیات، ادیبوں اور ناقدین کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے سینکڑوں  سماجی کارکنوں کو مسلسل گرفتار کر رہے ہیں، ان گرفتاریوں میں سرکاری عہدہ دار، شہزادے اور تاجر بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اس کے علاوہ سعودی حکام نے سلمان العودہ، علی العمری اور عوض القرنی سمیت کئی عالموں کو بھی گرفتار کیا ہے جہاں  وہ بغیر کسی مقدمے کے نظر بند ہیں جب کہ انسانی حقوق کے بہت سے حلقے اور مخالفین ان کے خلاف سزائے موت کا حکم دیے جانے سے پریشان ہیں۔
مبصرین کے مطابق سعودی عرب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے پہلے ایک جابر ملک تھا، تاہم ان کے اقتدار میں آنے کے بعد اس ملک میں جبر میں غیر معمولی شدت آئی ہے،اس لیے کہ جو بھی حکومت پر تنقید کرتا ہے یا اپنے حقوق کا دفاع کرتا ہے اسے گرفتار کر کے سخت اذیتیں اور طویل قید کی سزائیں دی جاتی ہیں۔
مبصرین نے مزید کہا کہ سعودی حکام تنقید کرنے والوں اور مخالفین کو دہشت گردی کے خلاف جنگکے قانون کے ذریعے یا سعودی بادشاہ یا ولی عہد کی توہین کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد انسانیت سوز سزائیں دیتے ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین