Code : 4060 9 Hit

شامی کردوں اور امریکہ کے درمیان تیل چوری کا معاہدہ

ایک امریکی کمپنی اور شام کے کردوں کے مابین تیل کے معاہدے کا مقصد صرف عوام کی رائے کو اس حقیقت سے ہٹانا ہے کہ شمال مشرقی شام کے تیل سے مالا مال علاقے امریکی فوجیوں کے براہ راست کنٹرول میں ہوں گے۔

ولایت پورٹل:روسی اخبار کامرس نیٹ اپنے ایک تجزیہ میں لکھا ہے کہ شمال مشرقی شام میں تیل کے شعبوں کی ترقی سے متعلق شامی کردوں اور ایک امریکی کمپنی کے مابین معاہدے پر دستخط ہونے کی خبر کے بعد اس کی دمشق اور انقرہ کی طرف سے سخت تنقید کی گئی ہے،شامی حکومت نے امریکہ کو چور کہا ہے اور ترکی اچانک شام کی علاقائی سالمیت کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہوگیا ہے حالانکہ انقرہ کے اہلکار شامی کردوں کی معاشی آزادی کو مضبوط بنانے سے کوئی خاص خوش نہیں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کا سودا سب سے پہلے سیاسی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس نے  ان علاقوں کی آزادی کی حوصلہ افزائی کی ہے جو  دمشق کے زیر اقتدار نہیں ہیں نیزاس  ملک کی قانونی حکومت کے لیے قومی دولت کی مکمل واپسی کی امید ختم کردی ہے، ترکی کی وزارت خارجہ نے پیر کو شمال مشرقی شامی خودمختار حکومت اور امریکی تیل کمپنی ڈیلٹا کریسنٹ انرجی کے مابین تیل کے معاہدے کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شام کے قدرتی وسائل کا تعلق اس ملک کے عوام سے ہے  اور ہمیں بہت افسوس ہے کہ امریکہ ایک ایسی کارروائی کی حمایت کرتا ہے جو بین الاقوامی قانون ، شام کی علاقائی سالمیت ، اور دہشت گردی کو مالی اعانت فراہم کرنے کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے، کل شام کی وزارت خارجہ نے بھی کل تیل چوروں کے مابین معاہدے کو ملکی قومی خودمختاری کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ یہ معاہدہ جس میں مرکزی حکومت کو نظرانداز کیا ہے مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر متوقع طور پر شام سے ہزاروں امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا تھا تاہم  اس کے بعد امریکیوں نے شام کے تیل کے شعبوں کی حفاظت کے بہانے شام واپس آناشروع کردیا جہاں ابتدا میں  داعش دہشت گرد گروہ کی باقیات کا مقابلہ کرنے کی بات کی جارہی تھی  لیکن پھر واضح ہوگیا کہ ایسا نہیں تھا۔
جنوری میں ، شام کے لئے امریکی خصوصی ایلچی ، جیمز جیفری نے اس بات پر زور دیا کہ شام میں تیل نکالنے میں واشنگٹن ملوث نہیں ہے  لیکن حقیقت میں کچھ امریکی کمپنیوں نے واقعی میں امریکی محکمہ خزانہ سے شام میں کام کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔
یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب  امریکہ نے شام کے ساتھ تیل کی مصنوعات میں تجارت پر پابندی عائد کررکھی ہے لیکن اس میں شمال مشرقی شام میں کردوں کے لئے ایک استثناء پیش کیا گیا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین