Code : 3771 9 Hit

آپ جو کہیں گے ہم کرنے کے لیے تیار ہیں؛اوباما کا جارج فلائیڈ کے اہل خانہ کی مددکرنے کا اعلان

سابق امریکی صدر براک اوباما نے نسل پرستی کا نشانہ بننے والے سیاہ فام امریکی شہری کے اہل خانہ کو فون کرکے ان کی مدد کرنے کی تیاری کا اعلان کیا۔

ولایت پورٹل:نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے ووٹ حاصل کرنے اور امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی کے لئے کوشش کرتے ہوئے براک اوباما نے جارج فلائیڈ کے بھائی  فلونیس فلائیڈ کی موت پر اظہار تعزیت کیا اور ان کے اہل خانہ کی مدد کرنے کا اعلان کیا۔
اوباما نے سیاہ فام نوجوان کے اہلخانہ کے ساتھ آدھا گھنٹہ ٹیلی فون پر بات کی اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ پر امید رہیں۔
اوباما نے جارج کے اہلخانہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ اکیلے نہیں ہیں ،میں اور مشیل آپ کے ساتھ ہیں، آپ جو کہیں گے ہم کریں گے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب فلائیڈ کے اہل خانہ کو کسی امریکی سیاسی عہدیدار کی طرف سے اس طرح کی حمایت ملی ہے
تاہم یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اوبامہ کا یہ اقدام رواں سال کے انتخابات کی دوڑ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ووٹ حاصل کرنے کے لیے تھا۔
یادرہے کہ گزشتہ ماہ  امریکہ کی ریاست منیسوٹا کے شہر منیپولیس میں پولیس تشدد کے نتیجے میں ایک سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کو بے دردی سے قتل کیا گیا تھا، ان کے قتل نے امریکہ میں نسل پرستانہ مظاہروں کی راہ ہموار کردی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ براک اوباما نے امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف مظاہروں کی حمایت کی ہے جبکہ 2008 کے انتخابات میں ان کی کامیابی کے بعد  کچھ لوگوں کو یہ امید تھی کہ براک اوباما نے امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف مظاہروں کی حمایت کی ہے ، لیکن 2008 کے انتخابات میں ان کی کامیابی کے بعد ، کچھ لوگوں نے امید ظاہر کی تھی کہ امریکہ میں نسل پرستی کی جڑیں ان کی فتح کے ساتھ ہی ختم ہوجائیں گی۔
لیکن ان کے دور حکومت میں نہ صرف ملک میں نسل پرستی کا خاتمہ  نہیں ہوا بلکہ نسل پرست گروہ مزید منظم ہوگئے۔
 



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین