Code : 2232 115 Hit

اب آل سعود کو یمن پر حملہ کرنے سے پہلے اپنے آقاؤں سے پوچھ لینا چاہیے:انصاراللہ

یمنی تحریک انصاراللہ کا کہنا ہے کہ نصر من اللہ کاروائی کرنے کے بعد امریکہ اور برطانیہ سے ہمارے پاس پیغام آئے ہیں کہ ریاض جنگ ختم کرنا چاہتا ہے۔

ولایت پورٹل:یمنی تحریک انصاراللہ کے ترجمان نے کہا کہ نصر من اللہ  کے نام سے سعودی عرب کے جنوب میں کی جانے والی  کاروائی کا اصلی مقصد سعودی  اتحاد کی جانب سے یمن پر ہونے والے حملوں کو روکنا تھا جس  کے بعد امریکہ اور برطانیہ کے ہمارے پاس پیغام آئے ہیں کہ ریاض جنگ ختم  کرنا چاہتا ہے ،یمن کی تحریک انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے دو دن پہلے  سعودی عرب  کے جنوب میں واقع نجران کے  علاقے میں وسیع پیمانے پر کیے جانے والے ایک  حملے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا اس حملے سے ہمارا مقصد سعودی اتحاد کی جانب سے یمن پر ہونے والے حملوں کو روکنا تھا جس کے بعد امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے پیغام آئے ہیں کہ سعودی عرب یمن میں جنگ کا خاتمہ چاہتا ہیں لیکن وہ اس سلسلہ میں لیت ولعل  سے کام لے رہا ہے ،محمد عبدالسلام نے المیادین نیوز چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہ اس کاروائی میں گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد ہم پوشیدہ رکھیں گے جو بعد میں قیدوں کے تبادلہ میں ہمارے  کام آئے گی  لیکن  اس حملہ میں ہمارے لیے یہ  واضح ہو گیا ہے  کہ سعودی اتحاد اپنے فوجیوں کی  بالکل پشت پناہی  نہیں کرتا ہے  ہے ،عبد السلام نے مزید کہا کہ  حملے کے سلسلے میں جو کچھ ہم نے بتایا ہے وہ  اس سے کہیں کم ہے جتنی کامیابی ہمیں حاصل ہوئی ہے، یمنی فوج کے ترجمان نے اتوار کے دن بھی کہا تھا کہ سعودی اتحاد کے کمانڈر پنے ہی فوجیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر جنگ میں استعمال کرتے ہیں جب کمانڈو ں کو اپنی موت دکھائی دیتی ہے تو وہ  اپنے ہی فوجیوں کو اپنے سامنے انسانی ڈھال بنا لیتے ہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اپنے گرفتار ہونے والےفوجیوں  کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ہے نیز جنگ میں مرنے والےفوجیوں کی لاشیں بھی وہیں پڑی رہتی ہیں اور باقی فوجی بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ،اس سے بھی برا کام یہ کرتے ہیں کہ گرفتار ہو جانے والے اپنے ہی فوجیوں کے اوپر بمباری کرکے جان بوجھ کر  انہیں مار ڈالتے ہیں جس کی دستاویزات ہمارے پاس موجود ہیں ۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम