اتنے لوگ یوکرین جنگ میں نہیں مریں گے جتنے یورپ میں سردی سے مر جائیں گے:دی اکانومسٹ

ایک نئے تجزیے کے مطابق اس موسم سرما میں یوکرین کی جنگ میں میدان جنگ میں مرنے والوں سے زیادہ لوگ توانائی کی قلت کی وجہ سے یورپ میں مریں گے۔

ولایت پورٹل:دی اکانومسٹ نے یورپ میں بجلی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے اثرات سے موسم سرما میں ہونے والی اموات کا ماڈل بنا کر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ توانائی کی موجودہ قیمتوں  کے پیش نظر اگر ایک عام موسم سرما ہوگا تو 147000 اموات کا امکان ہے جبکہ شدید سردی کی صورت میں یہ تعداد 185 ہزار ٹن تک پہنچ سکتی ہے، اگر سردیاں ہلکی ہوں تب بھی یہ تعداد 79 ہزار ہو گی۔
 مذکورہ جریدے نے یوکرین کی جنگ میں میدان جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں کا تخمینہ لگ بھگ 60000 افراد لگایا ہے جو کہ روس اور یوکرین میں سے ہر ایک کے لیے 30000 افراد سے زیادہ ہے۔
 اکانومسٹ کے شماریاتی ماڈل میں یورپی یونین کے تمام ممالک بشمول برطانیہ، ناروے اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں، بڑھتی ہوئی مغربی پابندیوں کے نتیجے میں یورپ میں رہائشی مکانات کے لیے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
 واضح رہے کہ جنگ سے پہلے روس یورپی یونین کی قدرتی گیس کا 40-50% فراہم کرتا تھا، اس موسم سرما میں درجہ حرارت حالیہ دہائیوں کی طرح زیادہ ہونے کی توقع نہیں ہے نیز یہ بھی توقع ہے کہ انفلوئنزا کے واقعات بھی معمول کے مطابق ہوں گے۔
 اس ماڈل نے ظاہر کیا کہ اگر درجہ حرارت اوسط رہے گا تو بجلی کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ اموات میں 0.6 فیصد اضافے کا باعث بنے گا نیز ماڈل نے ظاہر کیا کہ اٹلی، جس کی آبادی زیادہ ہے اور اس ملک میں بجلی کی قیمتیں بھی زیادہ ہیں، سب سے زیادہ نقصان اٹھائے گا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین