Code : 1378 26 Hit

نہ امریکہ جنگ کرے گا اور نہ ہی ہم اس کے ساتھ مذاکرات کریں گے:رہبر معظم

رہبرمعظم نے تہران میں اعلیٰ افسران کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےفرمایا امریکا ایران کے خلاف جنگ کی ہمت نہیں کرے گا اور نہ ہی ہم ان سے مذاکرات کریں گے۔

ولایت پورٹل:رہبر معظم حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے تہران میں ملکی اعلیٰ افسران کے ایک عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا امریکی حکام بخوبی جانتے ہیں کہ جنگ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے،رہبرمعظم نے فرمایا دشمنوں کی یلغار کے مقابلے میں ایرانی قوم کا حتمی آپشن استقامت اور پائیداری ہے اس لئے کہ موجودہ امریکی حکومت کے ساتھ مذاکرات زہر ہے،رہبر معظم نے فرمایا کہ جنگ نہیں ہو گی بلکہ یہ مقابلہ در اصل عزم اور ارادوں کا مقابلہ ہے اور ہمارا عزم و ارادہ دشمن سے زیادہ مضبوط ہے اور اس بار بھی اللہ تعالی کے فضل و کرم سے فتح ایرانی قوم کے قدم چومے گی،رہبر معظم  کا کہنا تھا کہ امریکا بخوبی جانتا ہے کہ جنگ اسکے مفاد میں نہیں، جب تک امریکا اپنا رویہ نہیں بدلے گا اسکے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں،ایران کے دشمن اور ان میں سر فہرست امریکہ اپنے زعم میں یہ تصور کرتا ہے کہ سخت ترین پابندیوں سے ہم ایران کو نقصان پہنچائیں گے جبکہ ایسا نہیں ہے اسلامی نظام کی بنیادیں ایرانی عوام اور حکام کی ہمت و توانائی کے سبب مضبوط ہیں، رہبر معظم نے فرمایا کہ امریکا کے علاوہ خلیج فارس کے علاقے کے قارون کی دولت سے بھی نہیں ڈرنا چاہئیے اس لئے کہ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے،رہبر معظم نے امریکا کے سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ 41 ملین امریکی بھوک مری اور غذائی مشکلات سے دوچار ہیں اور اسی طرح 40 فیصد نو مولود بچے ناجائزہیں، 2 ملین 2 لاکھ افراد جیلوں میں ہیں (جو آبادی کے تناسب سے دنیا میں سب سے زیادہ ہے ) منشیات کا استعمال امریکہ میں بہت زیادہ ہے اور امریکہ میں فائرنگ کے 31 فیصد واقعات رونما ہوتے ہیں جو آبادی کے تناسب سے دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور یہ سب امریکہ کی حقیقت ہے،آپ نے فرمایا کہ امریکہ کو بہت بڑا،اور خطرناک کر کے پیش نہیں کرنا چاہئیے البتہ دشمن کی دشمنی سے بھی غفلت نہیں کرنی چاہئیے تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ مختلف مسائل و مشکلات میں پھنس چکا ہے،رہبرمعظم سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ہمارا یورپی ممالک کے ساتھ کوئی جھگڑا اور مسئلہ نہیں تھا لیکن انہوں نے بھی اپنے کسی بھی وعدے پر عمل نہیں کیا اور نہ ہی کسی وعدے پر عمل کریں گے تاہم وہ صرف یہ دعوی ضرور کرتے ہیں کہ ہم جوہری معاہدے پر قائم ہیں،واضح رہے کہ امریکا نے لڑاکا طیارے اور طیارہ بردار بحری بیڑے کو مشرقِ اوسطی میں بھیجا ہے جس کے بعد عالمی میڈیا میں نفسیاتی جنگ کا آغاز کیا گیا ہے۔
تسنیم


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम