Code : 2393 54 Hit

اگلے ہفتے ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں اہم فیصلے کیے جائیں گے: برطانوی سفیر

تہران میں تعینات برطانوی سفیر کا کہنا ہے کہ ایران کا ایٹمی معاہدہ باقی رہنا چاہیے،اس کے لیے ہمیں کوشش کرنا ہوگی۔

ولایت پورٹل:اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں تعینات برطانوی سفیر نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ ہفتے ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں اہم فیصلے کیے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ باقی رہنا چاہیے ،ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں دی جانے والی تیسرے مرحلے کی 60روزہ مہلت میں بہت کم دن بچے ہیں جس کے بعد تہران میں تعینات برطانوی سفیر روب میک ایئرر نے آج برطانوی سفارت کے انسٹاگرام کے صفحہ پر ایک ویڈیو منتشر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں برطانوی سفیر کی حیثیت سے اس معاہدے کے سلسلے میں کافی وقت دوں گا، ہماری طرف سے یہ معاہدہ حقیقت پر مبنی ہے اور ہم فرانس ،جرمنی ، چین اور روس کے ساتھ مل کر کوشش کریں گے کہ اس سلسلے میں ایران کو امتیازات دیے جائیں، انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں آئندہ ہفتے میں اہم فیصلے کیے جائیں گے کہا کہ ہم چاہتے ہیں یہ معاہدہ باقی رہے ، برطانوی سفیر نے مزید کہا آج میں اس معاہدے کے سلسلے میں پائی جانے والی دو غلط فہمیوں کی وضاحت کرونگا ،پہلے یہ کہ یورپ نے اس کے سلسلے میں اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا یا اور دوسرے یہ کہ ایران کو  اس معاہدے سے کوئی بھی فائدہ نہیں ہوا، یاد رہے کہ امریکہ کے اس معاہدے سے نکل جانے کے باوجود برطانیہ اور دیگر یورپی ملک اس میں باقی ہیں لیکن اس میں کیے جانے والے گیارہ وعدوں میں سے کسی ایک پربھی عمل نہیں کیا گیا تاہم برطانوی سفیر نے اس اس ویڈیو ٹیپ میں دعویٰ کیا ہے کہ  یورپ نےمعاہدے میں پائے جانے والے چار وعدوں پر عمل کرنے کے لیے کہا ہے جس میں سے پہلا وعدہ یو پی یونین کی طرف سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں اس ملک پر لگائی جانے والی پابندیوں کو ہٹانا ہے اورہم نے یہ کام کیا، ایران پر لگی ہوئی اقتصادی پابندیوں  کے بڑے حصے کو ختم کردیا ،دوسرا وعدہ یہ تھا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے ایران کے کئی افراد اور تنظیموں پر لگائی گئی پابندیوں کو اٹھایا جائے،تیسرے یہ کہ غیر فوجی اہداف کے لئے ایٹمی پروگرام کے فروغ میں ایران کی مدد کی جائے جو ہم کر رہے ہیں ، ایٹمی ماہرین کا پچھلے ہفتے ایران کا دورہ اس کی علامت ہے، چوتھا یہ کہ ایران اور یورپ کے درمیان تجارت کو فروغ ہونا چاہیے جس کے لئے ہم اپنی آخری حد تک کوشش کر رہے ہیں، برطانوی سفیر نے مزید کہا کہ ہم خوش اسلوبی کے ساتھ ایران کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں تاکہ بہتر راہ حل تلاش کیے جا سکیں جس کی ایک مثال یہ ہے کہ پچھلے مہینے 100 سے زائد برطانوی کمپنیوں نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے کی حمایت کی اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ کے اس معاہدے سے نکل جانے سے کی وجہ سے بہت نقصان ہوا اور حقیقت میں پابندیوں کو ختم نہیں کیا جاسکا.


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम