Code : 2491 44 Hit

جرمنی میں حزب اللہ پر پابندی عائد کیے جانے کی خبریں محض افواہیں

جرمن حکومت کے ترجمان نےان تمام میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا ہے جن میں یہ افواہ پھئلائی گئی ہے کہ برلن حزب اللہ کی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ولایت پورٹل:جرمنی کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسٹیو آلٹر نےاپنے ٹویٹرکے صفحہ پر لکھا ہے  کہ وہ حزب اللہ پر پابندی کی خبروں کی تصدیق نہیں کرسکتے ہیں، یادرہے کہ جرمن اخبار ڈیر اسپیگل نے کچھ ہی دیر  قبل دعویٰ کیا تھا کہ جرمنی کی وفاقی حکومت اگلے ہفتے جرمنی میں حزب اللہ کی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،ڈیر اسپیگل نے دعوی کیا ہے کہ اس فیصلے کا اعلان آئندہ ہفتے جرمن کابینہ کے وزرا کی میٹنگ میں کیا جائے گا،قابل ذکر ہے کہ حالیہ مہینوں میں صہیونی اور امریکی حکومتیں حزب اللہ کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یورپی ممالک پر دباؤ ڈال رہی ہیں حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم  قرار دیں،واشنگٹن نے پہلے ہی  لبنان میں حزب اللہ کی مقبولیت کو کم کرنے کی کوشش میں متعدد لبنانی بینکوں اور شخصیات پر بھی پابندیاں عائد کردی ہیں،واضح رہے کہ اسی دباؤ کے نتیجے میں برطانوی حکومت نے گذشتہ سال مارچ میں اعلان کیا تھا کہ حزب اللہ خاص طور پر اس کی سیاسی ونگ دہشت گرد ہے،یہ باتیں  یسے وقت میں ہورہی ہیں  جب حزب اللہ لبنان کی ایک اہم سیاسی جماعت ہے اور گذشتہ سال کے پارلیمانی انتخابات میں اس کے خلاف امریکی کے سرتوڑ پروپگنڈے کے باوجود بھی نشستوں کا ایک بڑا حصہ حزب اللہ سے وابستہ اتحاد کے ہاتھ میں رہا،ڈوئچے ویلے نیوز سائٹ نے جرمنی کی حکومت کی طرف سے حزب اللہ کی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کے انکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے جرمن حکومت کی دلیل یہ ہے کہ حزب اللہ لبنانی حکومت کا ایک قانونی حصہ ہے اور ہمارے لیےمشرق وسطی میں ممالک کے ساتھ سیاسی تعاون کافی اہمیت کے حامل ہیں اس  لیےہم  ایسا نہیں کرسکتے ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम