Code : 2640 8 Hit

نیتن یاہو ایک نسل پرست انسان ہے: امریکی سنیٹر

امریکی صدارتی انتخابات میں امیدوار ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر نے صیہونی وزیر اعظم کو نسل پرست قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں کے بارے میں واشنگٹن کی پالیسیوں میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ولایت پورٹل:اسرائیل ٹائمز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق 2020 میں ہونے والے  امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ صہیونی حکومت کے موجودہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاھو "نسل پرست" ہیں،ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی  امیدوار سینڈرز نےتقریر کرتے ہوئے نیتن یاہو کو نسل پرست قرار دیا اور کہا  کہ واشنگٹن کے پاس اسرائیل کے بارے میں ایک پالیسی ہونی چاہئے جو انہیں تحفظ دیتے ہوئے فلسطینیوں کی بھی حمایت کرئے اور ان کی  مشکلات کو بھی مدنظر رکھے،انہوں نے اس سلسلہ میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ، "اسرائیل کو صرف وجود ہی نہیں ، بلکہ امن اور سلامتی سے زندگی بسر کرنے کا حق ہے،لیکن امریکی خارجہ پالیسی نہ صرف اسرائیل کی حمایتی ہونی چاہئے بلکہ  ہمیں  فلسطین کی بھی حمایت کرنی چاہئے،ڈیموکریٹک سینیٹر نے نیتن یاھو  پر  عائد بدعنوانی کے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اسرائیل اب نیتن یاہو کی سربراہی میں ہے ، جن پر حال ہی میں رشوت کا الزام لگایا گیا ہے  اور جو میری نظر میں ایک نسل پرست ہے،انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ پہلے یہودی امریکی صدر کے طور پر منتخب ہوئے تو وہ صیہونی حکومت کی طرف سے مغربی کنارے میں آباد کاریوں میں توسیع کو روکنے اور ایسے دیگر اقدامات کی مدد کو محدود کردیں گے جو اسرائیل اور فلسطین کے تعلقات میں کشیدگی ایجاد کریں،یاد رہے کہ رواں ہفتے کے شروع میں شمالی امریکہ کی اسلامی سوسائٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینڈرز نے کہا ، امریکہ کو طویل عرصے سے جاری تنازعے کے لئے متوازن طرز عمل اپنانا چاہئے جو اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا باعث بنے گا۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین