Code : 3027 44 Hit

اسلام کی نظر میں پڑوسیوں کے حقوق

اسلام نے جہاں پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے اور ان سے اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے وہیں یہ بھی تأکید کی ہے کہ آپ کا کوئی عمل ان کی ناراضگی اور افسردگی کا سبب نہ بن جائے بلکہ اس بھی بڑھ کر اسلام نے تو پڑوسیوں سے تعلقات بحال رکھنے اور انہیں تکلیف نہ پہونچانے کو ایمان کو پرکھنے کی کسوٹی قرار دیا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اسلام میں پڑوسی کے حقوق کا خیال رکھنے کی بہت تأکید کی گئی ہے چنانچہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں’’علیکم بحسن الجوار فان اللہ عزوجل امر بذٰلک‘‘۔
تم پر واجب ہے کہ تم پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔( بحار الانوار ج۶۹، حدیث ۱۱ ، ص ۳۸)
اس حدیث میں اللہ نے جس حکم کی طرف اشارہ کیا ہے وہ مضمون سورہ نساء کی آیت نمبر ۳۶ میں موجود ہے:’’واعبدوااللہ ولاتشرک بہ شیئا وبالوالدین احساناً وبذی القربیٰ والیتامیٰ والمساکین والجار ذی القربیٰ والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبیل وماملکت ایمانکم ان اللہ لا یحب من کان مختالاً فخور‘‘۔(سورہ النساء:۳۶)
اور اللہ کی عبادت کرو، کسی چیز کو اس کا شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور رشتہ داروں کے ساتھ، یتیموں ، مسکینوں ،پڑوسیوں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سب کے ساتھ نیکی سے پیش آؤ کہ اللہ کو غرور کرنے والے اور گھمنڈی لوگ پسند نہیں ہیں۔
پیغمبر اکرم حضرت ختمی مرتبت(ص) نے اپنے صحابیوں کو پڑوسیوں کے حقوق کو ادا کرنے کی تأکید کرنے کے بعد ان کے حقوق کو نظر انداز کرنے کے خطرے کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا :’’ پڑوسیوں کے متعلق جبریل امین نے مجھے اتنی تأکید کی کہ مجھے یہ لگنے لگا کہ شاید پڑوسی ایک دوسرے کی میراث میں شریک ہوجائیں گے(کنز العمال: حدیث ۲۴۹۱۳)
پڑوسیوں کے ساتھ نیکی اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اسلام کی نظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے چنانچہ رہبران دینی اور آئمہ معصومین(ع) اپنی اپنی وصیتوں میں اپنے ورثاء سے پڑوسیوں کا خیال رکھنے کی بڑی تأکید کیا کرتے تھے چنانچہ جب حضرت علی(ع) کا وقت شہادت قریب آیا اور آپ بستر علالت پر تھے آپ نے اپنے دونوں بڑے بیٹوں امام حسن و حسین(ع) کو بلایا اور جہاں دیگر چیزوں کے بارے میں وصیت فرمائی وہیں پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت کرنے کی ان الفاظ میں تأکید فرمائی:’’اللہ اللہ فی جیرانکم فانہ وصیۃ نبیکم مازال یوصی بھم حتی ظننا انہ سیورثھم‘‘۔(نہج البلاغہ ) اللہ کے لئے ، اللہ کے لئے اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو کیونکہ یہ تمہارے نبی(ص) کی وصیت ہے اور آپ(ص) ان کے بارے میں اتنی زیادہ تأکید فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگا کہ یہ انہیں دیگر ورثاء کے ساتھ میراث کا شریک بنادیں گے۔
ایک حدیث میں پیغمبر اکرم(ص) ارشاد فرماتے ہیں:’’احسن مجاورۃ من جاورک تکن مومناً‘‘۔(بحارالانوار،ج۷۴،ص ۱۱۶)۔ تم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے سے پیش آؤ تاکہ تم حقیقی مؤمن بن سکو۔
یا دوسری حدیث میں ارشاد ہوتا ہے:’’حرمۃ الجار علی الانسان کحرمۃ امہ‘‘۔(بحار الانوار،ج۷۴،ص ۱۵۴) پڑوسی کا احترام اپنی ماں کی طرح ضروری و واجب ہے۔
یا ارشاد ہوتا ہے:’’ماتاکدت الحرمۃ بمثل المصاحبۃ والمجاورۃ‘‘۔ دوستوں اور پڑوسیوں کے احترام سے بڑھ کر کسی کے احترام و لحاظ کی تأکید نہیں کی گئی۔
سرکار رسالتمآب(ص) کی خدمت میں عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول(ص)، کیا مال میں زکات کے علاوہ بھی ہم پر مستحقین کے دیگر حقوق بھی ہیں؟
آپ نے جواب دیا: ہاں! جب کوئی تمہارا رشتہ دار تم سے رابطہ منقطع کرلے تو تم اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو ۔ اور پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے تعلقات بحال رکھو۔ اور وہ مجھ پر ہرگز ہرگز ایمان نہیں لایا جو رات کو پیٹ بھر کر سو جائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہ جائے۔(بحار الانوار، ج۷۱، ص۱۵۱)
ایک شخص مدینہ میں اپنے خاندان کی رہائش کے لئے ایک گھر خریدنا چاہتا تھا لہذا وہ گھر خریدنے سے پہلے سرکار(ص) سے مشورہ لینے کے لئے حاضر ہوگیا تو آپ نے فرمایا:’’الجار، ثم الدار، الرفیق قبل السفر‘‘۔(میزان الحکمۃ،حدیث ۶۴)۔گھر خریدنے سے پہلے پڑوسی اور سفر سے پہلے ہم سفر کو دیکھ لو کہ وہ کیسا ہے؟
اسی طرح ایک روایت میں وارد ہوا کہ حضور(ص) نے اپنی بزم میں موجود اصحاب سے ایک مرتبہ سوال فرمایا: کیا آپ لوگوں کو اپنے پڑوسیوں کے حقوق معلوم ہیں؟
سب نے مل کر جواب دیا: نہیں!
آپ نے فرمایا: اگر تمہارا پڑوسی تمہیں مدد کے لئے پکارے تو اس کی مدد کو پہونچوں، قرض کا تقاضہ کرے تو اسے قرض دو،اگر وہ ضرورتمند ہو تو اس کی ضرورت کو پورا کرو، اسے کوئی خوشی نصیب ہو تو اسے مبارکباد دو، اگر مریض ہوجائے تو اس کی عیادت کے لئے جاؤ۔ اس پر کوئی مصیبت آن پڑے تو اسے تسلی دو۔ اگر وفات پاجائے تو اس کی تشیع جنازہ میں شرکت کرو اور اپنے گھر کی دیواریں اتنی بلند نہ بناؤ کے اس کے گھر میں دھوپ اور ہوا جانا بند ہوجائے مگر یہ کہ وہ خود اجازت دیدے۔ اگر تم کوئی پھل خرید کرلاؤ تو کچھ اس کے یہاں بھی بھجوادو اور اگر ایسا نہیں کرسکتے ہو تو پھر انھیں چھپا کر اپنے گھر میں لے جاؤ اور تمہارے بچے انھیں باہر لے کر نہ نکلیں تاکہ اس کے بچوں کو افسوس نہ ہو اور اپنے خوشبو دار کھانوں سے اسے اذیت نہ پہچاؤ مگر اس میں سے کچھ اس کے یہاں بھی بھجوا دو۔(بحار الانوار، ج۷۹، ص۹۳)
غرض! اسلام نے جہاں پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے اور ان سے اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے وہیں یہ بھی تأکید کی ہے کہ آپ کا کوئی عمل ان کی ناراضگی اور افسردگی کا سبب نہ بن جائے بلکہ اس بھی بڑھ کر اسلام نے تو پڑوسیوں سے تعلقات بحال رکھنے اور انہیں تکلیف نہ پہونچانے کو ایمان کو پرکھنے کی کسوٹی قرار دیا ہے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम