میرے بیٹے نے گھر کے مکینوں کو بچانے کے لیے ہتھیار ڈال دیے؛فلسطینی قیدی کے والد کا بیان

جلبوع جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں میں سے ایک جسے آج صبح صہیونی حکومت نے دوبارہ گرفتار کیا ہے، کے والد نے اپنے اور اپنے بیٹے کے درمیان آخری فون کال کی تفصیلات بتائیں۔

ولایت پورٹل:دنیا الوطن اخبار کی رپورٹ کے مطابق صیہونی فوج نے آج اتوار کی صبح جلبوع جیل سے فرار آپریشن کے باقی دو قیدیوں ایهم کممجی اور مناضل انفیعات کو گرفتار کرلیا،رپورٹ کے مطابق ایهم کممجی کے والد نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے انہیں گرفتاری سے چند لمحے پہلے فون کیا اور کہا کہ وہ جس گھر میں ہیں اس کے مکینوں کی حفاظت کی خطر ہتھیار ڈال دیں گے ۔
 انہوں نے مزید کہا کہ صہیونی حکومت نے ان کے بیٹے کے بارے میں خاندان کو کوئی معلومات فراہم نہیں کیں اور یہ کہ وہ اسلحہ نہ ہونے کے باوجود وہ جنین تک پہنچنے میں کامیاب رہا، ایهم کے والد نے گھر کے مالکان کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نےان قیدیوں کو تقریبا دو ہفتوں تک اپنے گھر میں رکھا،انھوں نے مزید کہاکہ خدا کا شکر ہے کہ وہ جیل سے باہر رہے اور دو ہفتوں کے لیے آزاد رہے۔
ایهم  کے والد کا کہنا تھا کہ اپنے بیٹے کی شادی اوراس کے بچے دیکھنے کے لیے زندہ رہوں گا، صہیونی میڈیا کے مطابق صیہونی خفیہ تنظیم شباق نے اس گھر کی نشاندہی کی جہاں قیدی قیام پذیر تھے اوران کی مدد کرنے والے دو دیگر افراد کوبھی گرفتار کیا گیا۔
واضح رہے کہ  6 ستمبر کو چھ فلسطینی قیدی مقبوضہ شمالی فلسطین میں واقع ہائی سکیورٹی جیل  جلبوع میں سرنگ کھود کر جیل سے فرار ہو گئےجس کے بعد صہیونی حکومت نے فورا ہی ان قیدیوں کی تلاش شروع کی اور مبینہ طور پر سرچ آپریشن پر 30 ملین ڈالر سے زائد خرچ کیے،یادرہے کہ  چار دیگر زیر قیدیوں محمد العارضه ، محمود العارضه ، زکریا زبیدی اور یعقوب القادری کو گزشتہ ہفتے کے آخر میں گرفتار کیا گیا تھا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین