Code : 938 76 Hit

نیوزیلنڈ میں مسلمانوں کی تاریخ

خلیج آن لائین کی رپورٹ کے مطابق 19 ویں صدی عیسوی میں پہلی بار یہ خطہ اسلام کی تعلیمات سے آشنا ہوا لہذا یہاں پر مسلمانوں کی موجودیت زیادہ قدیم نہیں ہے۔جنوبی ایشیائی ممالک اور الجزائر و مغرب سے بہت سے مسلمان 20 ویں صدی عیسوی کی پانچویں دہائی میں ہجرت کرکے نیوزیلنڈ پہونچے اور ان کے پہونچنے ہی کے بعد سے ہی یہاں کے مقامی باشندے حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے۔اگرچہ نیوزیلنڈ میں موجود اکثر مسلمان دوسرے ممالک سے ہجرت کرکے یہاں آئیں ہیں چنانچہ ان میں سے اکثر لوگوں کا تعلق ھندوستان،پاکستان،سری لنکا،ترکی،انڈونیشیا اور عربی ممالک سے ہے۔

ولایت پورٹل: گذشتہ جمعہ کے دن نیوزیلنڈ کی دو مسجدوں میں ہوئے دہشتگردانہ حملوں کے سبب اس ملک میں آباد دیگر مذاہب کے لوگ بھی اس کی مذمت کررہے ہیں۔
جیسا کہ اخبار اور ٹیلویزن وغیرہ کی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ نیوزیلنڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ایک ساتھ دو مسجدوں میں نماز پڑھتے ہوئے مسلمانوں پر کچھ شدت پسند عیسائیوں نے حملہ کردیا جس کے سبب 50 افراد شہید اور 50 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔
نیوزیلنڈ میں ہونے والے اس قتل عام کے بارے میں کوئی خاص وجہ سامنے نہیں آرہی ہے چونکہ پورے یورپ میں نیوزیلنڈ کے مسلمان بڑے پرُ سکون اور امن و بھائی چارے  کے ساتھ زندگی گذارنے کے معاملہ میں اپنی مثال آپ ہیں اور خود نیوزیلنڈ کی حکومت بھی ان کی امن پسندی کا بارہا تذکرہ کرچکی ہے۔
پیسفک اقیانوس کے جنوب مغرب میں واقع یہ ملک نیوزیلنڈ دوسرے یورپین ممالک سے کافی فاصلہ پر واقع ہے اور اس کا سب سے قریب ترین پڑوسی ملک آسٹریلیا ہے جس کی مسافت وہاں سےتقریباً 2000 کیلو مٹر ہے۔
نیوزیلنڈ میں اسلام کی تاریخ
خلیج آن لائین کی رپورٹ کے مطابق 19 ویں صدی عیسوی میں پہلی بار یہ خطہ اسلام کی تعلیمات سے آشنا ہوا لہذا یہاں پر مسلمانوں کی موجودیت زیادہ قدیم نہیں ہے۔
جنوبی ایشیائی ممالک اور الجزائر و مغرب سے بہت سے مسلمان  20 ویں صدی عیسوی کی پانچویں دہائی میں ہجرت کرکے نیوزیلنڈ پہونچے اور ان کے پہونچنے ہی کے بعد سے ہی یہاں کے مقامی باشندے حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے۔
اگرچہ نیوزیلنڈ میں موجود اکثر مسلمان دوسرے ممالک سے ہجرت کرکے یہاں آئیں ہیں چنانچہ ان میں سے اکثر لوگوں کا تعلق ھندوستان،پاکستان،سری لنکا،ترکی،انڈونیشیا اور عربی ممالک سے ہے۔
نیوزیلنڈ میں مسلمانوں کے پاس 3 بڑے دینی مراکز ہیں: خاص طور پر آکلینڈ سٹی،اسی طرح شمالی جزیرہ کے جنوب میں بھی مسلمانوں کی کافی بڑی تعداد ہے نیز جنوبی جزیرہ کے مشرقی علاقہ اور خاص طور پر شہر کرائسٹ چرچ  میں بھی مسلمان کافی تعداد میں موجود ہیں۔اور ان میں سے اکثر مسلمان معمولی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ کچھ لوگ ان میں تعلیمی میدان کے بھی ماہر ہیں۔
نیوزیلنڈ میں سب سے پہلی مسجد 1970 میں آکلینڈ شہر میں تعمیر ہوئی اور فی الحال اس پورے ملک میں 11 مسجدیں ہیں اور ان میں سے ایک مسجد کے امام جماعت الازھر مصر کے رکن شہر پامرٹن شمالی کے مرکز کے روح رواں ہیں۔
نیوزیلنڈ میں مسلمانوں کی تعداد
نیوزیلنڈ میں پچھلے کئی برسوں میں اسلام لانے والوں کی کافی بڑی تعداد ہے اور مسلمان ہر روز بڑھتے ہی جارہے ہیں چنانچہ ایک رپورٹ کے مطابق 1991 سے 2006 تک یہاں اسلام لانے والوں کی تعداد گذشتہ برسوں سے 6 گنا بڑھی ہے لہذا مسلمان نیوزیلنڈ کی کل آبادی میں ایک در صد پہونچ چکے ہیں۔
چنانچہ 2013 کے اعداد و ارقام کے مطابق اس وقت مسلمانوں کی کل آبادی 46149 افراد پر مشتمل تھی کہ جو 2006 کی بنسبت 28 فیصد اضافہ کے ساتھ تھی۔
موجودہ مسلمان آبادی میں تقریباً 77 فیصد لوگ نیوزیلنڈ سے باہر کی پیدائش ہیں اور جن میں سے 29 فیصد لوگ ہندوستان کے باشندے ہیں اور مشرق وسطیٰ سے ہجرت کرکے گئے مسلمانون کی تعداد 21 فیصد تک پہونچتی  ہے کہ جن میں عرب اور ایرانی نسل کے مسلمان ہیں۔
دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ مسلمانوں کے اچھے روابط
آکلنڈ سٹی اور کرائسٹ چرچ میں سے ہر ایک میں ایک مسجد ہے اور ایک اسلامی مرکز کہ جہاں مذہبی پروگرام منعقد کرنے کے لئے ایک وسیع ہال بنایا گیا ہے اور اسلامی تنظیمیں اور فاؤنڈیشنز اوکلاڈین،ولینگٹون، پامرٹن  اور کرئسٹ چرچ میں ہی اپنے دینی اور مذہبی پروگرام منعقد کرتے ہیں۔
نیوزیلنڈ کی اسلامی انجمنیں خود اس ملک اور باہر بھی فعالیت کرتی ہیں اور نیوزیلنڈ کے اطراف میں موجود دیگر جزائر کے باشندوں نیز جنوبی افریقہ،ہندوستان،اسٹریلیا کے مسلمانون سے ان کے اچھے رابطے ہیں۔
نیوزیلنڈ میں آباد اکثر مسلمان اہل سنت ہیں لیکن بہت سے شیعہ مسلمان بھی آکلنڈ شہر میں رہتے ہیں کہ ابھی سن 2008 سے ان لوگوں نے محرم الحرام  میں ایک چھوٹے پیمانے پر عزاداری امام حسین(ع) کا اہتمام کرنا شروع کیا ہے جس کا سارا انتظام خیراتی انجمن فاطمہ زہرا(س) کرتی ہے۔
اگرچہ یورپ کے دیگر ممالک کی طرح یہاں بھی مسلمانوں کو وہاں کے مقامی لوگوں کی طرف سے تعصب آمیز رویہ کا سامنا رہا ہے لیکن حکومتی سطح پر انہیں کوئی مشکل نہیں تھی اور یہ سب اپنے مذہبی پروگرام منعقد کرنے میں مکمل طور پر آزاد تھے۔
اس ملک کے قانون کے مطابق مسلمان اذان کے لئے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال نہیں کرسکتے لیکن مسلمان خواتین شرعی حجاب میں سڑک بازار اور عمومی جگہوں پر آزادی کے ساتھ آ جا سکتی ہیں۔
نیوزیلنڈ میں مسلمانوں کو وہاں کے کچھ معروف لوگوں کی طرف سے کئی مرتبہ توہین کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے جیسا کہ ریچرڈ بروسر کہ جو وہاں کا ایک پارلیمنٹ ممبر ہے اس نے ایک مجلہ میں آرٹیکل لکھا تھا جس میں مسلم جوانوں کو دہشتگرد کہہ کر توہین کی تھی اور وہاں کی ائیرلائین کی پروازوں سے مسلمانوں کے سفر کرنے پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔اس بیان کے بعد نیوزیلنڈ اور دنیا میں اس کے بیان کی مذمت کی گئی اور حکومت نیوزیلنڈ نے بھی اس کی شدید مخالفت کی۔
لیکن جمعہ کے دن ہونے والے یہ دونوں حملے نیوزیلنڈ کی تاریخ میں مسلمانوں پر اپنے نوعیت کے الگ ہی حملے تھے چونکہ جب سے اس ملک میں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا اس وقت سے آج تک کا سب سے وحشیانہ حملہ تھا کہ جس نے پورے نیوزیلنڈ  اور خاص طور پرمسلمانوں کے دل کو رنجیدہ کیا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین