Code : 1231 49 Hit

امام زمانہ(عج) کے نائب خاص جناب محمد بن عثمان

ایک دن اسحاق بن یعقوب نے انہیں امام عصر(عج) کے نام ایک خط دیا وہ کہتے ہیں کہ میرے کچھ علمی لا ینحل سوالات تھے میں نے جو میں نے اس خط میں تحریر کئے انہوں نے وہ خط امام کی خدمت میں پہونچایا اور امام کا تحریر کردہ جواب مجھے لاکر دیا چنانچہ میرے سوالات کے جواب دینے کے بعد حضرت نے یہ تحریر فرمایا تھا:’’محمد بن عثمان عمروی۔ خدا ان سے اور ان باپ سے راضی ہو۔ ہمارے معتمد اور قابل اطمئنان ہیں اور ان کی تحریر ہی میری تحریر ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! امام زمانہ(عج) کی حقیقی معرفت کا حق اسی وقت صحیح طریقے سے ادا ہوسکتا ہے جب ہم سرکار کے ان باوفا اور فداکار ساتھیوں کی زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ قرار دیں جنہوں نے دین کی راہ میں اور اپنے امام کے پیغام کو پہونچانے میں کسی طرح کی فداکار سے دریغ نہیں کیا اور خاص طور پر امام عصر(عج) کے نوابین خاص نے تو فداکاری کی حد ہی کردی چونکہ جس دور میں ان حضرات نے مذہب اہل بیت(ع) کی خدمت کی اور اپنے امام اور شیعوں کے درمیان محکم پل کا کام کیا اس کی مثال بہت ہی کم تاریخ میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ اور جیسا کہ یاد ہوگا ہم نے اس سے پہلے بھی امام عصر کے پہلے نائب خاص جناب عثمان بن سعید کی عظمت کے متعلق بیان کیا تھا لہذا اس مقالہ کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیا جاسکتا ہے:
امام زمانہ(عج) کے نائب خاص عثمان بن سعید
تو قارئین! بات ہورہی ہے امام عصر(عج) کے دوسرے نائب و جانشین خاص  جناب محمد بن عثمان بن سعید عمری(متوفی ۳۰۵ ہجری)  کے سلسہ سے۔چنانچہ محمد بن عثمان اپنے والد جناب عثمان بن سعید(رض)  کے بعد امام زمانہ کے نائب خاص قرار پائے اور خود اپنے والد کے ہمراہ تبلیغ و دعوت کے بہت سے امور کو انجام دیتے تھے چنانچہ اپنے والد کی وفات کے بعد (۳۰۵ سے ۳۴۵ ہجری) تک تقریباً ۴۰ برس اس عظیم منصب پر فائز رہے۔نیز خود جناب محمد بن عثمان کے ساتھ بھی کچھ دیگر بزرگان تھے جو امر وکالت میں ان کی ہمراہی کرتے تھے جناب محمد بن عثمان نے یہ خدمت انجام دینے کے ساتھ ساتھ کئی کتابیں فقہ اور احکام کے موضوع پر بھی تألیف کی اور خاص طور پر مہدی موعود کے بارے میں بہت سی احادیث بھی انہیں سے مروی ہیں اور ساتھ ہی کئی اہم اور مشہور دعائیں جیسا کہ دعائے سمات،دعائے افتتاح اور زیارت آل‌یاسین بھی انہیں کی وساطت سے ہم تک پہونچی ہیں۔
جناب محمد بن عثمان کے دورہ نیابت میں بہت سے واقعات رونما ہوئے جن میں قیام صاحب رنج اور قرامطہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں اور چونکہ صاحب رنج اپنے کو جناب زید شہید(امام سجاد(ع) کے بیٹے) کی اولاد سے بتاتے تھے لہذا بہت سے علوی ان سے ملحق ہوگئے تھے لہذا اس قیام میں بھی جناب محمد عثمان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔
محمد بن عثمان کی امانت داری اور امام عصر(عج) کا خط
عبد اللہ بن جعفر حمیری نقل کرتے ہیں کہ جب عثمان بن سعید کی وفات ہوگئی امام زمانہ(عج) کی طرف سے محمد بن عثمان کو ایک خط ملا جس میں حضرت نے ان کے باپ کے انتقال پر تعزیت پیش کی تھی جس میں آیا تھا:’’انالله و انا الیه راجعون‘‘۔محمد تمہارے باپ نے ایک سعادمندانہ زندگی گذاری اور افتخار کی موت پائی۔خدا ان پر رحمت کرے اور انہیں اپنے اولیاء سے ملحق کرے۔وہ ہمیشہ اپنے ولی امر کے تابع فرمان رہتے تھے اور جو چیز بھی انہیں اللہ سے قریب تر کرسکے اسے انجام دینے میں پوری کوشش کرتے تھے۔ خدا ان کی روح کو شاد کرے اور تمہاری مدد کرے اور تمہاری توفیق میں اضافہ فرمائے۔
ایک دن اسحاق بن یعقوب نے انہیں امام عصر(عج) کے نام ایک خط دیا وہ کہتے ہیں کہ میرے کچھ علمی لا ینحل سوالات تھے میں نے جو میں نے اس خط میں تحریر کئے انہوں نے وہ خط امام کی خدمت میں پہونچایا اور امام کا تحریر کردہ جواب مجھے لاکر دیا چنانچہ میرے سوالات کے جواب دینے کے بعد حضرت نے یہ تحریر فرمایا تھا:’’محمد بن عثمان عمروی۔ خدا ان سے اور ان باپ سے راضی ہو۔ ہمارے معتمد اور قابل اطمئنان ہیں اور ان کی تحریر ہی میری تحریر ہے۔
وفات
رویات کی بنیاد پر محمد بن عثمان نے اپنی موت سے دو مہینے پہلے ہی اپنی وفات کی خبر دیدی تھی چنانچہ اس روایت کے راوی نے ان سے سوال کیا:آپ نے کیوں پہلے ہی اپنی قبر کھودوائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے حکم ملا ہے کہ میں اپنے ادھورے کاموں کو پورا کرلوں چونکہ ۲ مہینہ بعد میرا انتقال ہوجائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع:
۱۔کمال الدین
۲۔الغیبۃ للطوسی
۳۔الغیبۃ النعمانیۃ
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम