Code : 2588 53 Hit

آدھے سے زیادہ اسرائیلی نیتن یاہو کو دیکھنا نہیں چاہتے

امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطین میں ہونے والے تازہ ترین سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ پچپن فیصد صہیونی نیتن یاہو کے استعفیٰ کے خواہاں ہیں۔

ولایت پورٹل:امریکی ویب سائٹ ایکزیوس نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ صیہونی پارلیمنٹ کی تحلیل اور ایک سال میں ہونے والے تیسرے عام انتخابات کے یقینی ہونے کے بعد مقبوضہ فلسطین کے نصف سے زیادہ صہیونیوں اور باشندوں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کو مستعفی ہونا ہوگا،اپریل کے بعد سے عوامی حمایت اور سیاسی اقتدار میں نیتن یاہو کے مسلسل زوال کا ذکر کرتے ہوئے  مذکورہ ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھاہے کہ تقریبا 55٪ اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کو استعفی دینا چاہئے کیونکہ ان پر باضابطہ طور پر دھوکہ دہی اور اپنے عہدہ کے ناجائز استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے،رپورٹ کے  مطابق  کابینہ کے تشکیل  نہ پانے میں سب سے بڑی رکاوٹ وائٹ بلیک پارٹی کے رہنما بینی گانٹز اور نیتن یاہو کے باری باری وزیر اعظم بننے میں  نیتن یاہو کا اصرار تھا  کہ پہلےوہ وزارت عظمی کی کرسی پر بیٹھیں گے،تاہم تازہ ترین سروے کی رپورٹ کے مطابق اوسطا، 40 فیصد اسرائیلی نیتن یاہو پر الزام عائد کرتے ہیں  کہ وہ  کابینہ تشکیل دینے میں ناکام رہے ہیں  اور تیسرا الیکشن کرانے کی وجہ بنے ہیں  جبکہ صرف 5 فیصد اس کے لئے گینٹز کو مورد الزام قرار دیتے ہیں،ایکزیوس نے مزید لکھا ہے کہ کہ گینٹز کی زیرقیادت بائیں بازو اتحاد انتخابات  کے سلسلہ میں مقبوضہ فلسطین میں رہنے والے صہیونیوں کی زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنے میں  جٹا ہوا ہے جبکہ  نیتن یاہو کی سربراہی میں دائیں بازو کا اتحاد اپنی عوامی حمایت کھو رہا ہے،یاد رہے کہ صیہونی پارلیمنٹ ممبران  نے کل کنیسٹ کو تحلیل کرنے کے لیے بل پاس کردیا ہے۔




0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम