شہید فخری زادہ کے قتل سے متعلق مزید تفصیلات منظر عام پر

ایران کے مایہ ناز عظیم سائنسداں ڈاکٹر محسن فخری زادے کے قتل کے ایک دن بعد ان کے قتل کی مزید تفصیلات سامنے آئي ہیں۔

ولایت پورٹل:فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شہید فخری زادے بلیٹ پروف گاڑی سے اپنی اہلیہ کے ساتھ مازندران صوبے کے رستمکلای شہر سے تہران کے مضافاتی علاقے دماوند کے آبسرد علاقے کی جانب روانہ ہوئے جبکہ ان کے ساتھ سیکورٹی اہلکاروں کی تین گاڑیاں بھی تھیں۔
جائے وقوعہ سے کچھ کیلومیٹر پہلے سکیورٹی ٹیمیں آگے کا راستہ کلیئر کرنے کے لئے آگے بڑھ گئیں۔
ٹھیک اسی وقت ان کی گاڑی پر متعدد گولیاں لگنے کی آواز سنائی دی، گولیوں کی آواز سن کر ڈاکٹر فخری زادے کی گاڑی رک گئی اور ڈاکٹر فخری زادے نے سوچا کہ گاڑی کے تصادم کی آواز ہے یا گاڑی کے انجن میں کوئی خرابی پیدا ہوگئی ہے، اسی لئے وہ گاڑی سے اتر گئے۔
در ایں اثنا 150 میٹر کے فاصلے پر کھڑی وانٹ نے وہیں سے آٹومیٹک گن سے شہید ڈاکٹر فخری پر کئی فائر کر دیئے جس میں دو گولی ان کے پہلو میں اور ایک ان کی پیٹھ میں لگی جس کی وجہ سے ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔
گولیوں کی بوجھاڑ کے درمیان  ایک سکیورٹی اہلکار نے خود کو ڈاکٹر فخری زادے کے اوپر گرا دیا جس کی وجہ سے کئی گولیاں اس کے بدن میں پیوست ہوگئیں، اسی وقت وانٹ میں سوار خودکش حملہ آور نے گاڑی کو دھماکے سے اڑا لیا۔
زخمی حالت میں حملے کے بعد ایران کے ایٹمی سائنسداں محسن فخری زادے کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال پہنچايا گیا تاہم ڈاکٹرز انہيں بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے اور وہ شہید ہوگئے۔
در ایں اثنا ایران کی خفیہ ایجنسیوں نے شہید فخری زادے کے قاتلوں کا سراغ لگا لیا ہے۔
ایران کی انٹلیجنس کی وزارت نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ شہید فخری زادے کے قاتلوں کا پتہ چل گیا ہے اور جلد ہی اس کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائے گی۔

سحر

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین