Code : 4044 21 Hit

یمن میں لاکھوں افراد کا بھوک سے مرنے کا خطرہ ہے:اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ کوویڈ 19 میں وبائی امراض کے سبب یمن میں 2020 قحط کا بدترین سال ہوگا ، اس لیے کہ اس سال میں لاکھوں غریب ، جنگ زدہ افراد کو فاقہ کشی کی نوبت آچکی ہے۔

ولایت پورٹل:انڈیپنڈنٹ اخبار کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کو تشویش ہے کہ مہلک کورونا وائرس یمن کے طبی نظام پر بہت زیادہ دباؤ ڈال رہا ہے اس کے علاوہ بھوک اور قحط اس ملک کے شہریوں کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے، غربت ، بھوک اور ناانصافی کے خاتمے کےسلسلہ میں سرگرم سب سے بڑی بین الاقوامی امدادی تنظیم (آکسفیم) نے اطلاع دی ہے کہ اس سال زیادہ تر یمنی شہری کرونا وائرس کے پھیل جانے کی وجہ سے بھوک سے مر سکتے ہیں۔
فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) نے دی انڈیپنڈنٹ کو بتایا کہ یمن میں بھوک میں اضافے کی ایک وجہ کھانے کی قیمتوں میں اضافہ ہے،انھوں نے مزید کہا کہ یمن میں صرف پچھلے سال کے بعد سے آٹے جیسے کھانے پینے کی چیزوں کی قیمت 40 فیصد بڑھ چکی ہے  جب کہ جنگ کے بعد عام طور پر دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے26 اپریل ، 2015 کو  متحدہ عرب امارات ، بحرین ، سوڈان اور امریکہ کے ساتھ مل کر  عرب امریکی اتحاد تشکیل دے کر یمن پر حملہ کرنا شروع کیا تھالیکن پچھلے چھ سالوں میں  متحدہ عرب امارات اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے علاوہ ، دوسرے تمام ممالک اس اتحاد سے نکل چکے ہیں اور ابوظہبی بھی  اب جنوبی یمن میں ریاض  کے ایک پرانے حلیف کے طور پر سامنے آیا ہے۔
متعدد بین الاقوامی تنظمیوں کا کہنا ہے کہ یمن میں 2020 قحط کا بدترین سال ہوگا، اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی شعبے کے سربراہ نے گذشتہ ہفتے سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ مالی امداد اور جنگ بندی کے فوری خاتمے کے بغیریمن میں بھوک ، غذائی قلت ، ہیضہ اور اب کورونا سے ہونے والی اموات میں  بے حداضافہ ہوگا۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین