Code : 1074 114 Hit

مولانا سید مونس رضا عابدی صاحب

۔ آیت اللہ ہاشمی گلپائیگانی مولانا مونس عابدی صاحب سے بہت محبت کرتے تھے آپ نے اجازہ اجتہاد بھی عنایت کیا جس میں مولانا کی علمی صلاحیتوں کا اعتراف بھی کیا ہے۔ آپ نے عراق میں قیام کے دوران فقہ، اصول، فلسفہ ، کلام اور ادب میں بہت محنت کی اور اعلیٰ استعداد حاصل کی۔ یکایک عراق کے سیاسی حالات بگڑے بیرونی طلاب کو نکالا جانے لگا طلاب پر مظالم کا سلسلہ شروع ہوا چنانچہ آپ بھی حالات سے متأثر ہوکر ۱۹۷۱ء میں ہندوستان واپس آئے اور تبلیغ دین اور درس و تدریس میں مشغول ہوگئے۔

ولایت پورٹل: ضلع غازی پور مردم خیز علاقہ ہے جس کے چھوٹے چھوٹے قصبات میں ایسی نامور ہستیاں منصۂ شہود پر آئیں جنہوں نے علمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں غازی پور کا ایک چھوٹا سا قصبہ پارہ ہے جہاں کے ارباب علم و فن کی علمی خدمات مسلم ہیں اسی قصبہ کی بزرگ شخصیت حجۃ الاسلام مولانا سید مونس رضا صاحب عابدی دامت برکاتہ کی ہے جن کا وجود مسعود اس قصبہ کے لئے نعمت غیر مترقبہ سے کچھ کم نہیں تھا۔ آپ 10 دسمبر ۱۹۴۷ء کو پارہ میں عالم شہود میں آئے والد ماجد حجۃ الاسلام مولانا سید ظہیر حسن صاحب عرف علی رضا مدرسۃ الواعظین کے فارغ اور عالم با عمل تھے جن کا عالم شباب ہی میں انتقال ہوگیا تھا۔ والد کے انتقال کے بعد سے اپنے نونہال محمد آباد گہنہ کو اپنا مسکن قرار دیا ادھر کچھ عرصہ سے لکھنؤ میں قیام تھا۔
مولانا مونس رضا صاحب اور آپ کے چھوٹے بھائی مولانا محسن رضا صاحب پرنسپل مدرسہ ہگلی ویسٹ بنگال دونوں نے وثیقہ عربی کالج فیض آباد میں تعلیم حاصل کی اور اس دور کے اکابرین علماء سے کسب فیض کیا۔ بالخصوص مولانا سید وصی محمد صاحب طاب ثراہ سے کافی استفادہ کیا اور استاد محترم کی خاص توجہ کا مرکز بنے رہے۔ مولانا وصی محمد صاحب آپ سے مثل پدر شفقت فرماتے تھے جنہوں نے مولانا کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر اٹھاکر نہیں رکھی۔ہندوستان میں تعلیم سے فراغت کے بعد بھی علمی تشنگی نہ بجھ سکی عراق جانے کا عزم کیا اسباب فراہم ہوئے قسمت زور پر آئی اور ۱۹۶۵ء میں نجف اشرف پہنچے باب مدینۃ العلم کی دہلیز پر جبیں سائی کرکے تحصیل علم کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دور میں حوزۂ علمیہ نجف اپنے شباب پر تھا دور دور سے طلباء نجف اشرف پہنچ رہے تھے۔
ہر طرف علماء کی مسند درس بچھی ہوئی تھیں خواہ وہ حرم کے حجرے ہوں یا مسجد کے ہال، ہر جگہ درس و بحث کا سلسلہ گرم تھا جس کی بنا پر نجف کی فضا میں علم کھلا ہوا تھا ایسے علمی ماحول میں آپ نے لمعتین،رسائل و مکاسب اور ماہ رمضان میں تفسیر و قرآن کا درس آیت اللہ راستی کاشانی سے لیا اور آیت اللہ سید عبد الکریم کشمیری سے رسائل کا خصوصی درس لیا جس میں چند طلباء شرکت کرتے تھے ان کے علاوہ علامہ سید حیدر عباس صاحب آقای سید مصطفوی کاشانی سے بھی فقہ و اصول میں استفادہ کیا۔
آپ نے آیت اللہ ہاشمی گلپائیگانی، آیت اللہ شہید باقر الصدر(رح) آیت اللہ آل راضی اور امام خمینی(رح) کے درس خارج میں شرکت کرکے فقہ و اصول میں اعلیٰ استعداد حاصل کی۔ دروس سے فارغ ہوکر حرم امیرالمومنین(ع) میں نماز مغربین آیت اللہ محسن الحکیم اور نماز ظہرین آیت اللہ آل راضی کی اقتداء میں ادا کرتھے۔ آقائے حکیم(رح) کے بعد نماز مغربین امام خمینی(رح) کی اقتدا میں اداکرتے رہے۔ آیت اللہ ہاشمی گلپائیگانی آپ سے بہت محبت کرتے تھے آپ نے اجازہ اجتہاد بھی عنایت کیا جس میں مولانا کی علمی صلاحیتوں کا اعتراف بھی کیا ہے۔ آپ نے عراق میں قیام کے دوران فقہ، اصول، فلسفہ ، کلام اور ادب میں بہت محنت کی اور اعلیٰ استعداد حاصل کی۔ یکایک عراق کے سیاسی حالات بگڑے بیرونی طلاب کو نکالا جانے لگا طلاب پر مظالم کا سلسلہ شروع ہوا چنانچہ آپ بھی حالات سے متأثر ہوکر  ۱۹۷۱ء میں ہندوستان واپس آئے اور تبلیغ دین اور درس و تدریس میں مشغول ہوئے آپ ۱۹۸۰ء تک پانچ سال ناصریہ عربی کالج جونپور کے پرنسپل رہے آپ کے دور میں مدرسہ نے ترقی کی۔ آپ بے پناہ ذوق و شوق سے طلاب کو پڑھاتے تھے اور ساری مدت ان کو علمی زیور سے آراستہ کرنے میں مصروف رہے۔ آپ نے کچھ عرصہ مدرسہ ہگلی بنگال میں تدریس کی آپ کامیابی اور آگے بڑھنے میں بنیادی چیز محنت اور شوق کو سمجھتے تھے اور طلاب سے انہیں دونوں چیزوں کی تأکید اور سفارش کرتے تھے۔ آپ ادبی ذوق بھی رکھتے تھے کہنہ مشق شاعر بھی تھے کلام معیاری ہوتا، مگر شعر و شاعری چھوڑ دی تھی سارا وقت عبادت و راز و نیاز میں گزرتا تھا۔ کتب بینی محبوب مشغلہ تھا انتہائی خلیق و ملنسار تھے گوشہ نشینی کی زندگی گذارری مگر مؤمنین، دوست احباب کے حالات سے باخبر رہتے تھے جب کسی سے ملتے تو بڑ ے پرتپاک انداز سے ملتے ۔ آپ کو نہ شہرت کی فکر نہ ناموری کی تمنا تھی۔ خاموشی کے ساتھ خدمت دین میں مصروف رہتے۔ ابھی بھی ہندوستان کی ایسی بستیاں ہیں جہاں ایسے ایسے گوہر نایاب پنہاں ہیں جو ظاہر تو نہیں ہوتے مگر انکا روحانی فیض سب تک پہنچتا ہے۔
وفات
مولانا سید مونس رضا عابدی صاحب نے ایک عرصہ تک دین کی خدمت میں انتھک کوشش کی اور آخر کار یکم اپریل سن ۲۰۱۹ء مطابق ۲۴ رجب المرجب سن ۱۴۴۰ ہجری کو لکھنؤ میں انتقال کرگئے اور اپنے معبود حقیقی کی بارگاہ میں پہونچے۔
تحریر مولانا ڈاکٹر شہوار حسین نقوی


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम