حضرت فاطمہ زہرا(س) کا عقد اور اس کے امتیازات

جب عقد کے سارے مقدمات اپنے تکمیل تک پہونچ گئے تو وہ وقت بھی آگیا کہ کونین کی شہزادی لباس عصمت و طہارت میں ملبوس ہو کر مختصر سے جہیز کے ساتھ "قسیم نار و جنت" کے بیت الشّرف تشریف لائیں، رخصتی بھی با حسن و خوبی یوں انجام پائی کہ نہ لڑکی والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور نہ ہی لڑکے والوں کو کوئی پریشانی ہوئی آنحضرت(ص) نے شادی کے فضول اخراجات پر توجہ دینے کے بجائے شوہر و زوجہ کی زندگی کے بارے میں زیادہ فکر کی لیکن آج مسلمان رسول اکرم(ص) کی سنّتوں کو بالائے طاق رکھ کر شادی میں فضول کی سجاوٹ، "میرج ہال" اور بے بنیاد رسومات پر اپنا پیسہ خرچ کر کے بڑا فخر و مباہات کرتے ہیں.میں نے اپنی اس مختصر تحریر میں جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے عقد کے امتیازات کے چند نمونے پیش کئے کہ جن کے اندر ایسے شواہد موجود ہیں کہ جن کی روشنی میں سماج شادی بیاہ کے معاملات کو با حسن و خوبی اور سادگی سے انجام دے سکتا ہے.

ولایت پورٹل: تمام حمد و سپاس  ہے اُس ذات کے لئے جس نے تمام مخلوقات کو اپنی اشرف مخلوق انسان کے لئے خلق کیا اور خود حضرت انسان کو اپنے لئے خلق کر کے اس غرض خلقت کو بھی واضح کر دیا۔
میں نے جنّاتوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر یہ کہ اپنی عبادت کے لئے(سورہ ذاریات : ۵۶)عبادت کا دایرہ انتہائی وسیع ہے اسی لئے علما نے روایات کی روشنی میں عبادت کو  دو حصوں میں تقسیم کیا ہے:
۱۔عبادت عام
۲۔عبادت خاص
عبادت عام :یعنی ہر وہ کام جو رضایت پروردگار سے تعلق رکھتا ہو وہ عبادت قرار پائے گا چاہے وہ سونا، جاگنا، اٹھنا، بیٹھنا، صدقہ دینا، دوسروں کی مدد کرنا اور دوسروں کے ساتھ پیار اور محبت سے پیش آنا اسی طرح سے اور دوسرے مستحبات.
عبادت خاص:مثلاً نماز، روزہ یا دوسرے واجبات انسان اپنی زندگی میں بہت سی عبادات مستحبہ انجام دیتا ہے انھیں میں سے ایک عقد ازدواج (شادی)بھی ہے کہ جس کا سلسلہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر تا رہتی دنیا قائم و دائم رہے گا.    
عقد ازدواج (شادی) کو خدا نے کس انداز سے اپنی بندگی کا ذریعہ قرار دیا ہے اس کا اندازہ رسول اکرم(ص) کی اس حدیث مبارکہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:’’اسلام میں خدا کے نزدیک کوئی ایسی بنیاد نہیں ڈالی گئی جو شادی سے زیادہ محبوب ہو ‘‘۔
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ خدا کی عبادات میں سے ایک عبادت کا ذریعہ عقد بھی ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ عبادت کے مراحل بہت سخت ہیں لہذا ان مراحل کو کس آسانی سے طے کیا جائے اس کے لئے ہمیں معصومین علیہم السلام کی عبادت پر نگاہ کرنی پڑے گی.چونکہ میرا موضوع امتیازات عقد زہرا سلام اللہ علیہا ہے لہذا اس جگہ پر آپ کے عقد کے چند اہم امتیازات بطور نمونہ پیش کر رہا ہوں تاکہ ہمارا سماج و معاشرہ آپ کی سیرت پر عمل کرکے اس عظیم عبادت سے بہرہ مند ہو سکے.اگر ہم غور کریں تو جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی شادی کے ہر جز کو رسول اکرم ﷺ نے  اس انداز سے انجام دیا کہ زمانہ چاہے بھی جو ہو ہر ایک اسے بخوبی اور باآسانی انجام دے سکتا ہے.
اس پاکیزہ شادی کے امتیازات یہ ہیں:
۱۔عورت کے حقوق کا تحفظ:
آج عالم اسلام پر تہمتوں کی یلغار کچھ کم نہیں ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام میں عورت کا کوئی پاس و لحاظ نہیں ہے لیکن کاش حریفانِ عقل و شعور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے طریقہء عقد پر نگاہ کرتے کہ جب حضرت علی علیہ السلام نے جناب زہرا سلام اللہ علیہا سے شادی کے لئے حضرت رسول خدا(ص) کے بیت الشّرف تشریف لے گئے اور اپنی مبارک خواہش کا اظہار کیا تو پیغمبر اکرم(ص) نے فوراً اس کا کوئی جواب نفی اور اثبات میں نہ دےکر آپ شہزادی کونین کے حجرہ میں تشریف لے گئے اور ان کی رضایت کے لئے امیرالمومنین علیہ السلام کی خواہش کو بیان کیا.
اس طرز عمل سے پیغمبر(ص) نے رہتی دنیا تک پیغام دے دیا کہ اسلام جبر و تشدّد کا قائل نہیں ہے، بغیر عورت کی مرضی کے شادی کرنا ظلم ہے اور اسلام ظلم کو پسند نہیں کرتا ہے.
۲۔مہر :
اگر آج ہم اپنے معاشرہ کا جائزہ لیں تو ہمیں دیکھنے میں ملتا ہے کہ لڑکی والے مہر کی رقم کو اس درجہ معیّن کرتے ہیں کہ لڑکے کا اس رقم کا ادا کرنا دشوار اور مشکل ہو جاتا ہے، بیشتر مواقع پر یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ لمبی لمبی مہر پر راضی ہونے کے بعد اسے لڑکی سے معاف کرانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں.پیغمبر اکرم(ص) نے اس دشورای کا بھی خاتمہ اس طرح کر دیا کہ حضرت علی علیہ السلام کو حکم دیا کہ تم مرد شجاع ہو تمہیں ذرہ کی ضرورت نہیں ہے لہذا اسے فروخت کر کے فاطمہ کے مہر کی رقم ادا کرو، نفس پیغمبر(ص) نے اپنی ذرہ کو بیچ کر مہر کی رقم حضور اکرم(ص) کے حوالہ کردی اور اس رقم کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا.
۱۔ایک حصہ شہزادی کے گھریلو ضروریات کے لئے.
۲۔دوسرا حصہ شادی کے اخراجات کے لئے.
۳۔تیسرا حصہ جناب اُمِّ سلمہ کے حوالہ کیا گیا.
اور کہا گیا جب شادی ہو جائے تو یہ رقم حضرت علی علیہ السلام کے حوالہ  کردی جائے تا کہ علی اس رقم کے ذریعہ اپنے ولیمہ کے انتظامات کر سکیں۔
کائنات کے عظیم ترین شخص کی با عظمت بیٹی کی شادی جب اس سادگی سے ہو تو ہمارے لئے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمیں کس طرح شادی کے امور کو انجام دینا چاہئے.
لیکن افسوس! کہ ہمارا  سماج  سیرت جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو نظر انداز کر کے مہر کے لئے لاکھوں اور کروڑوں کا سودا کر کے صرف حضرت زہرا سلام اللہ علہیا کی ہی تکلیف کا سبب نہیں بنتا بلکہ سیرت پیغمبر(ص) کو بھی پایمال کرتے ہوئے حضور(ص) کی تکلیف کا ذریعہ بھی بنتا ہے.
ایک مثالی شادی
جب عقد کے سارے مقدمات اپنے تکمیل تک پہونچ گئے تو وہ وقت بھی آگیا کہ کونین کی شہزادی لباس عصمت و طہارت میں ملبوس ہو کر مختصر سے جہیز کے ساتھ "قسیم نار و جنت" کے بیت الشّرف تشریف لائیں، رخصتی بھی با حسن و خوبی یوں انجام پائی کہ نہ لڑکی والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور نہ ہی لڑکے والوں کو کوئی پریشانی ہوئی آنحضرت(ص) نے شادی کے فضول اخراجات پر توجہ دینے کے بجائے شوہر و زوجہ کی زندگی کے بارے میں زیادہ فکر کی لیکن آج مسلمان رسول اکرم(ص) کی سنّتوں کو  بالائے طاق رکھ کر شادی میں فضول کی سجاوٹ، "میرج ہال" اور بے بنیاد رسومات پر اپنا پیسہ خرچ کر کے بڑا فخر و مباہات کرتے ہیں.میں نے اپنی اس مختصر تحریر میں جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے عقد کے امتیازات کے چند نمونے پیش کئے کہ جن کے اندر ایسے شواہد موجود ہیں کہ جن کی روشنی میں سماج شادی بیاہ کے معاملات کو با حسن و خوبی اور سادگی سے انجام دے سکتا ہے.
مید ہے کہ ہمارا سماج بی بی دوعالم(س)کی شادی کے ان امتیازات پر غور و فکر کر کے اپنے بچّوں کی شادی اسی نہج پر انجام دے کے بی بی دوعالم(س) کی بارگاہ میں اجر و پاداش کا مستحق بنے گا.
آخر  میں رب کریم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سب کو سیرت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے!
آمین!

تحریر:سیّد بضاعت حسین رضوی(قم المقدسہ،ایران)


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین