Code : 2631 69 Hit

مالک اشتر نخعی

ترماح کھڑے سن رہے تھے۔ آپ نے کہا اے معاویہ! کہو تو اس خط کو مولا کے پاس لے جاؤں اور کہو تو میں خود ہی اس کا جواب دیدوں! اگر تیرے لشکر کی تعداد ستاروں کی طرح ہے تو علی(ع) لشکر کے درمیان سورج کی طرح ہیں اور سورج کی چمک اور نور کے آگے ستاروں کا وجود کسی کو دکھائی تک نہیں دیتا۔ اور اگر تیرا لشکر رائی کے دانوں کی طرح تو علی (ع) کے لشکر میں مالک اشتر نامی ایک مرغ ہے(یہ ایک مثال ہے)جو رائی کے دانوں کو اپنی منقار سے چن لیگا۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آپ نے جناب مالک اشتر نخعی کا نام ضرور سنا ہوگا۔ آپ امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کے بے پناہ مورد اعتماد اور وفادار صحابی تھے آپ کا پورا نام مالک بن حارث اور لقب اشتر تھا۔ مالک ہمیشہ اپنے امام کے لئے جان دینے کو تیار رہتے تھے یہی وجہ ہے کہ تاریخ اصحاب میں مالک ہمیشہ یاد کئے جائیں گے۔
جناب مالک اشتر قبلہ بنی نخیعہ کے سرادر تھے آپ کی بہادری اور اپنے امام وقت سے محبت کو الفاظ کے پیرائے میں بیان کرنا بہت مشکل امر ہے چنانچہ خلیفہ دوم کے زمانے میں جب مسلمانوں نے روم اور فارس پر فتح حاصل کی تھی اس میں جناب مالک اشتر بھی پیش پیش تھے اور آپ نے ان جنگوں میں بڑی بہادری کی مثالیں پیش کی تھیں۔
آپ کی بہادری کی شہرت دور دور تک تھی اور آپ کی شجاعت کو صرف دوست ہی نہیں بلکہ دشمن بھی سرہاتے تھے جیسا کہ صفین کی جنگ سے پہلے امام علی علیہ السلام نے معاویہ کو ترماح بن عدی کے ہاتھوں ایک خط بھیجا جس میں آپ نے معاویہ کے خاندان کے فساد اور اسلام سے ان کی دیرینہ دشمنی کا ذکر کیا تھا جب یہ خط معاویہ کو ملا تو اسے پڑھنے کے بعد اس نے کاتب سے اس طرح جواب لکھوانا شروع کیا :
یہ خط اللہ کے بندے اور اس کے بندے کے بیٹے معاویہ بن ابی سفیان کی طرف سے علی ابن ابی طالب کے نام:
میرے لشکر کی تعداد ستاروں کی طرح ہے جسے گننا اور حساب لگانا ممکن نہیں ہے بس اتنا سمجھ لو کہ زمین چھوٹی پڑ جائے گی اور لشکر رائی کے دانوں کی طرح پوری زمین پر پھیلا ہوا نظر آئے گا جس کا اندازہ لگانا آپ کے لئے مشکل ہوگا۔
ترماح کھڑے سن رہے تھے۔ آپ نے کہا اے معاویہ! کہو تو اس خط کو مولا کے پاس لے جاؤں اور کہو تو میں خود ہی اس کا جواب دیدوں! اگر تیرے لشکر کی تعداد ستاروں کی طرح ہے تو علی(ع) لشکر کے درمیان سورج کی طرح ہیں اور سورج کی چمک اور نور کے آگے ستاروں کا وجود کسی کو دکھائی تک نہیں دیتا۔ اور اگر تیرا لشکر رائی کے دانوں کی طرح تو علی (ع) کے لشکر میں مالک اشتر نامی ایک مرغ ہے(یہ ایک مثال ہے)جو رائی کے دانوں کو اپنی منقار سے چن لیگا۔
قارئین کرام! جناب مالک اشتر امام علی علیہ السلام کے ساتھ جمل ، صفین اور نہروان کی جنگوں میں ساتھ ساتھ رہے۔صفین کی جنگ میں لیلۃ الحریر کی وہ خطرناک رات جس میں پوری رات گھماسان کی لڑائی ہوئی آپ امام علیہ السلام کے ساتھ موجود رہے اور امام کے حکم سے اسلام کے دشمنوں کو نابود کرتے رہے ۔اور نوبت یہاں تک پہونچی کہ معاویہ بن ابوسفیان کو اپنی نابودی کا یقین ہونے لگا چنانچہ اس نے عمر عاص کے مشورے سے قرآن کو نیزوں پر بلند کروا دیا۔اور یہ نعرہ لگوادیا کہ ہم جنگ نہیں بلکہ صلح چاہتے ہیں ہم فیصلہ کرنے کو تیار ہیں جس کے نتیجے میں امام علی(ع) کے لشکر والوں نے تلواریں روک لیں اور پھر یہ دیکھ کر امام کو بھی مجبوراً تلوار روکنی پڑی۔
دوسری طرف مالک جنگ کررہے تھے جو معاویہ کے خیمے تک پہونچنے ہی والے تھے آپ کے پاس امام علیہ السلام کا جنگ روکنے کا پیغام پہونچا جس کی وجہ سے آپ کوبھی جنگ روکنی پڑی۔یہ وہ منظر تھا جسے یاد کرکے ہمیشہ مالک افسوس کیاکرتے تھے۔
جناب مالک اشتر کی عظمت و فضیلت کے لئے امام علی(ع) کا یہ جملہ ہی کافی ہے کہ اشتر میرے لئے ویسے ہی ہیں جسے میں پیغمبر اکرم(ص) کے لئے تھا۔
امام علی(ع) نے سن ۳۸ ہجری میں اس وقت کہ جب معاویہ نے عمرو عاص سے مصر پر ۶ ہزار کا لشکر بھیج کر چڑھائی کروا دی اور محمد بن ابی بکر(رح) کہ جو اس وقت مصر کے حاکم تھے ان گھیر لیا اور انہوں نے علی(ع) سے مدد کا مطالبہ کیا جس کے سبب مولا نے مالک کو نصیبین سے بلوا کر مصر کا گورنر بنا دیا ۔ جب معاویہ کو یہ خبر ملی کہ علی نے مالک کو مصر کا گورنر بنا دیا ہے اور مالک سے جنگ جیتنا معاویہ کے لئے سخت تھا لہذا اس نے مالک کو شہید کرنے کی سازش رچائی چونکہ معاویہ کو صفین کا منظر یاد تھا کہ جب مالک نے اس کے خیمے کی تنابوں کا کاٹ دیا تھا اور بس تلوار معاویہ تک پہونچنے والی ہی تھی لیکن حکم امام پاکر واپس جانا پڑا۔
چنانچہ معاویہ نے قلزم کے کچھ کسانوں اور زمینداروں کا دولت و سراداری کا لالچ دے کر مالک کو شہید کروانے کے لئے تیارکرلیا اور جیسے ہی آپ کا گذر قلزم سے ہوا ایک زمین دار نے آپ سے کچھ دیر رک کر آرام کرنے اور کچھ کھانے پینے کا اصرار کیا اور پھر اس بد نصیب نے آپ کو شربت میں زہر ملا کر دیدیا جسے پی کر مالک شہید ہوگئے۔
قارئین کرام! جہاں مالک اشتر اپنی بہادری اور شجاعت میں مشہور و معروف تھے وہیں آپ بہت سے عالی صفات میں بھی اعلیٰ مقام و مرتبہ پر فارئز تھے چنانچہ آپ صبر و عبادت میں الگ مقام رکھتے تھے آپ بہت زیادہ روزے رکھتے تھے اور زیادہ سے زیادہ عبادت کیا کرتے تھے ، ایک دن آپ ایک معمولی لباس پہن کر کوفہ کے بازار سے گذر رہے تھے ایک دوکاندار نے آپ کی طرف لکڑی اچھال دی آپ نے اسے کچھ نہیں کہا اور سر جھکا کر چلے گئے، لوگوں نے جب اسے بتلایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ کون ہیں؟
یہ مالک اشتر ہیں! علی علیہ السلام کے سب سے وفادار صحابی اور کوفہ کا سب سے مشہور بہادر اور لشکر علی کا سردار! جب اس نے یہ سنا تو وہ گھبرا کر ان کے پیچھے معافی مانگنے کے لئے چل دیا لیکن اس نے دور سے دیکھا کہ مالک مسجد میں داخل ہوئے اور نماز پڑھنے میں مشغول ہوگئے ۔جب نماز ختم ہوئی تو وہ شخص بڑھا اور ہات جوڑ کر معافی مانگی ، مالک نے کہا تم نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا میں تو تمہاری مغفرت کے لئے ہی مسجد آیا تھا اور نماز پڑھی۔


0
شیئر کیجئے:
متعلقہ مواد
میثم تمار(رض) کے یوم شہادت پر خصوصی پیشکش: میثم کون تھے اور کیسے شہید ہوئے؟
میثم تمار(رض) کے یوم شہادت پر خصوصی پیشکش:تاریخ میں میثم کی بقا کا راز
اصحاب آئمہ علیہم السلام کا تذکرہ:جناب حجر بن عدی
اصحاب معصومین علیہم السلام کا تذکرہ:ام ایمن کو اہل بیت(ع) کی خدمت کا صلہ
फॉलो अस
नवीनतम