Code : 1567 72 Hit

اہل بیت(ع) کی محبت اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے:امام صادق(ع)

امام علیہ السلام نے بڑی متانت سے ارشاد فرمایا: ابو حنیفہ! یاد رکھو! قرآن مجید میں جہاں بھی نعمتوں پر سوال اور باز پرس کا تذکرہ ہوا ہے ان سے مراد ہم اہل بیت(ع) کی ولایت اور محبت ہے۔یہی وہ نعمت ہے کہ جس سے بڑی کوئی دوسری نعمت نہیں ہوسکتی لہذا جس نے ہماری ولایت سے سرپیچی کی اور ہماری محبت سے جس کا دل خالی رہا اللہ قیامت کے دن اسے روک کر سوال کرے گا کہ تم نے اہل بیت(ع) کی ولایت و دوستی کا حق ادا کیا یا نہیں؟

ولایت پورٹل: ایک مرتبہ اہل سنت کے مشہور امام ابو حنیفہ چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔چونکہ اکثر لوگوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے ابو حنیفہ اکثر قرآن مجید کی آیات اور رسول اللہ(ص) کی احادیث کی عام اور رائج تفسیر و وضاحت کرتے رہتے تھے جس کی وجہ سے عوام الناس میں ان کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا ۔
جیسا کہ سارے مسلمان واقف ہیں کہ ابو حنیفہ ہمارے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد تھے اور اس حقیقت کا خود انہوں نے بارہا اعتراف کیا ہے:’’ لولا سنتان لھلک نعمان‘‘۔ اگر2 برس امام جعفر صادق علیہ السلام کی شاگردی نہ کرتا تو میں ہلاک ہوجاتا اور میں جاہل کا جاہل رہ جاتا۔
المختصر یہ کہ ابوحنیفہ آئے تو امام علیہ السلام نے دریافت فرمایا: ابو حنیفہ میں نے سنا ہے کہ تم قرآن مجید کی اس آیت:’’ ثُمَّ لَتُسئَلُنَّ یومَئِذٍ عَنِ النَعیم‘‘۔(سورہ تکاثر:۸) کی تفسیر اس طرح کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ لوگوں سے قیامت کے دن ان تمام لذیذ غذاؤں  اور ٹھنڈے پانی کا حساب لے گا جو اس نے یہاں انہیں دے رکھی ہیں؟
ابو حنیفہ نے عرض کیا: جی حضور! ایسا ہی ہے۔اللہ قیامت کے دن بندوں سے ہر نعمت کا حساب کتاب لے گا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے انہیں اس طرح سمجھایا: اچھا یہ بتاؤ! کہ اگر کوئی شخص تمہیں اپنے گھر دعوت پر بلائے اور بہترین اور لذیذ غذاؤں اور ٹھنڈے شربت سے تمہاری ضیافت کرے۔ اور جب تم وہاں سے رخصت ہونے لگو تو تمہارے سر پر اپنے احسان کا ٹھیکرا بھی پھوڑ دے۔تو تمہیں کیسا لگے گا اور تم اس شخص کے بارے میں کیا فیصلہ دوگے؟ تمہاری نظر میں وہ شخص کریم ہے یا بخیل؟
ابوحنیفہ نے جواب دیا: حضور! میں تو اسے بخیل ہی کہوں گا۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ وہ خدا جس نے ہمیں یہاں بھیجا اور ہمیں نعمتیں دیں اور اچھی اچھی غذائیں کھلائیں اور پانی کی خنکی سے ہمارے دل کو ٹھنڈا کیا تو کیا وہ بخیل ہوسکتا ہے؟ کہ وہ ہم سے ان سب ادنٰی سی چیزوں کا حساب لے گا اور ہم پر قیامت میں احسان جتلائے گا؟
یہ سن کر ابو حنیفہ حیران رہ گئے انہوں نے عرض کی: فرزند رسول(ص) پس قرآن مجید کی اس آیت میں وہ کون سی نعمت ہے جس کے سبب اللہ تعالٰی قیامت میں بندوں سے بازپرس کرے گا؟
امام علیہ السلام نے بڑی متانت سے ارشاد فرمایا: ابو حنیفہ! یاد رکھو! قرآن مجید میں جہاں بھی نعمتوں پر سوال اور باز پرس کا تذکرہ ہوا ہے ان سے مراد ہم اہل بیت(ع) کی ولایت اور محبت ہے۔
یہی وہ نعمت ہے کہ جس سے بڑی کوئی دوسری نعمت نہیں ہوسکتی لہذا جس نے ہماری ولایت سے سرپیچی کی اور ہماری محبت سے جس کا دل خالی رہا اللہ قیامت کے دن اسے روک کر سوال کرے گا کہ تم نے اہل بیت(ع) کی ولایت و دوستی کا حق ادا کیا یا نہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منبع:
بحار الانوار ، ج 10 ، ص 22
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम