Code : 2839 77 Hit

والدین سے محبت، اہل بیت(ع) کی محبت کے حصول کا ذریعہ

ایک شخص پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ(ص)! کوئی ایسی بدی نہیں ہے جو میں نے اپنے والدین کے حق میں نہ کی ہو! اب اس نقصان کی تلافی کیسے کروں؟ حضرت نے فرمایا: کیا تیرے والدین باحیات ہیں؟ عرض کیا: صرف میرے باپ زندہ ہیں!۔ فرمایا: تم اپنے باپ کے پاس جاؤ اور ان کے حق میں اتنی نیکیاں کرو کہ وہ تم سے خوش ہوجائیں اور تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں۔ جب یہ شخص بزم سے جانے لگا تو آپ(ص) نے اپنے اصحاب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: کاش اس کی ماں بھی زندہ ہوتی !

ولایت پورٹل: قارئین کرام! دین نے ہمیں صلہ رحم کرنے کی بہت تأکید کی ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگوں کا گمان یہ ہے کہ صلہ رحم کا مطلب اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں سے ملنا ہے جبکہ اس دینی حکم کو صرف چند لمحوں کی ملاقات میں محدود نہیں کیاجاسکتا بلکہ اس حکم کا دائرہ اس سے کہیں بڑا ہے جس کی طرف ہمیں توجہ کرنا چاہیئے۔
ہماری روایات میں آیا ہے کہ جب کوئی انسان آئمہ(ع) کی قبور کی زیارت کے لئے جاتا ہے اور اپنے داہنے ہاتھ کو قبر پر رکھتا ہے تو یہ ہاتھ قبر پر رکھنے کا مطلب بیعت کرنا ہے یعنی انسان کا آئمہ معصومین(ع) کی ضریح کو ہاتھ سے پکڑنے یا مس کرنے کا مطلب یہ ہے کہ میں آپ سے اپنے کئے اس قدیم عہد و پیمان کی تجدید کررہا ہوں جو میں نے ’’ عالم الستُ‘‘ میں کیا تھا۔ اور اسی طرح اگر کوئی شخص قبر معصومین(ع) سے دور ہو تو وہ اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھے اس نیت کے ساتھ کے وہ تجدید عہد و بیعت کررہا ہے چونکہ مؤمنین کے سینے محبت اہل بیت(ع) کا مرکز ہوتے ہیں لہذا پوری تاریخ میں ہم ،علماء کو اسی سیرت کا اتباع کرتے ہوئے پاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ علماء کی یہ سیرت روایات سے مأخوذ ہے ۔
مؤمن کا دل معصوم(ع) کا مسکن
چنانچہ بہت سے عرفاء سے حکایت ہے کہ جب وہ زیارت کے لئے اپنے ہاتھوں کو سینوں پر رکھتے تھے تو ملائکہ ان کے قلوب پر نازل ہوتے تھے چونکہ محبت اہل بیت(ع) پاک دلوں میں رہتی ہے اور شیعہ معصومین(ع) کی بچی ہوئی مٹی سے خلق ہوئے ہیں تو کیوں نہ شیعوں کے قلوب ان بزرگواروں کے مسکن قرار پائیں۔لہذا اگر کوئی شخص اس نگاہ سے اپنے گھر میں مجلس برپا کرے کہ ہمارے یہاں امام حسین(ع) یا آئمہ کرام(ع) تشریف لائیں گے تو پھر وہ کبھی گناہ کے قریب نہیں جاسکتا۔
محبت اور نفرت زمان و مکان کے حدود سے بلند و برتر
اہل بیت(ع) کی عطا بہت زیادہ ہے لیکن ہمارے حاصل کرنے کی قوت محدود ہے چونکہ ہمارے اندر اہل بیت(ع) کی عطا کو درک کرنے کا پختہ عقیدہ نہیں پایا جاتا لہذا ہم جتنی بھی مرتبہ ان بزرگواروں پر درود و سلام بھیجیں تو ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے کو معصیت و گناہوں سے دور رکھیں تاکہ اس  عطا کے حصول کی ہماری ظرفیت بڑھتی چلی جائے۔
ہم انسانوں میں بہت سی حس(Senses ) ایسی ہیں جو معروف ہیں اور سب لوگ ان کے بارے میں جانتے ہیں جبکہ ہمارے اندر بہت سی ایسی حسیں بھیں پائی جاتی ہیں جن سے ہم واقف نہیں ہوتے یہی وجہ ہے کہ ہم ان کا صحیح استعمال کرنا بھی نہیں جانتے ۔چنانچہ انہیں قوتوں اور حسوں میں سے محبت و نفرت کرنے کی حس بھی ایسی ہی ہے جسے ہم بہتر طور پر نہیں جانتے اور نہ ہی اس کے استعمال کے صحیح طریقہ سے ہم لوگ واقف ہیں۔
محبت اور نفرت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ انسان کو زمان و مکان کی حدود سے نکال کر ابدیت و ازلیت سے متصل کردیتی ہے جیسا کہ ہم امام حسین علیہ السلام کے لئے کہتے ہیں:’’یا لیتنا کنت معک‘‘۔ظاہر ہے ہم اس وقت نہیں تھے جب امام حسین(ع) نے قیام کیا تھا لیکن ہماری یہ آرزو اور امام حسین(ع) سے محبت اور آپ کے دشمنوں سے نفرت  ہمیں اس بلندی پر لے جاتی ہے کہ زمانہ کا گذرنا ہمارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ البتہ یہ ذہن نشین رہے کہ وہ ’’ازلیت و ابدیت‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفت ہے ہم اس سے انسان کی ازلیت و ابدیت کا مقائسہ و موازنہ نہیں کررہے ہیں۔
محبت والدین کے سائے میں اہل بیت(ع) کی محبت کا حصول
جیسا کہ قرآن مجید نے ہمیں بارہا آگاہ کیا ہے کہ ہم پر ذاتی ولایت اللہ کی ہے اور اس کے بعد اسی کے اتباع میں ہمارے اولیاء پیغمبر اکرم(ص) اور آپ کے معصوم(ع) جانشین ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ہم اس ولایت(یعنی ولایت اہل بیت(ع)) تک کیسے پہونچے اس کی سب سے آسان راہ والدین کی ولایت ہے چونکہ اس دنیا میں والدین کی ولایت خدا کی ولایت کے مانند ہے چنانچہ قرآن مجید کی کئی آیات میں توحید الہی اور اس کی ولایت کے ساتھ ساتھ والدین کی ولایت کو بھی واضح طور پر بیان کیا گیا ہے اور ان کے ساتھ صلہ رحم کرنے کی تأکید کی گئی ہے اور اس کا اتم و اکمل مصداق اہل بیت (ع) ہیں درحقیقت اہل بیت(ع) کو انسان کی کی نظر میں اس سے،سب سے قریب ہونا چاہیئے اس کا مطلب بالکل صاف ہے کہ وہی شخص اہل بیت(ع) کے ساتھ ’’ صلہ رحم‘‘ کرسکتا ہے اور وہی شخص اہل بیت(ع) کی ولایت کو بغیر چوں چرا کے قبول کرسکتا ہے جو اپنے والدین کی ولایت کو قبول کرتا ہو اور ان کے فرمان سے سرپیچی نہ کرتا ہو۔پس جو اپنے والدین کی محبت کے وزن کو اٹھا سکتا ہے وہی اہل بیت(ع) سے عشق کرنے کے لائق بن سکتا ہے۔
اسی طرح بہت سی روایات میں آیا ہے کہ جو شخص اپنے والدین کی طرف سے معتوب قرار پاتا ہے وہ ولایت اہل بیت(ع) کے نظام سے بطریق اولی اور رحم الہی سے خارج ہوجاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خداوند عالم ’’ارحم الراحمین‘‘ ہونے کے باوجود اس سے منھ موڑ لیتا ہے اور اہل بیت(ع) بھی اسے اپنا سچا پیرو نہیں مانتے۔پس اگر کوئی شخص رحم ولائی تک پہونچنا چاہتا ہے اسے آغاز اپنے رحم بدنی یعنی والدین سے کرنا پڑے گا ۔یہی وجہ ہے کہ روایات کی روشنی میں اس شخص کا کوئی بھی عمل خیر قابل قبول نہیں ہوتا جو اپنے والدین کی طرف سے عاق قرار پاجاتا ہے چونکہ جو والدین کی طرف سے عاق ہوتا ہے اللہ بھی اسے اپنی رحمت سے عاق کردیتا ہے۔
روایت میں والدین کی محبت کی تأثیر
ایک شخص پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ(ص)! کوئی ایسی بدی نہیں ہے جو میں نے اپنے والدین کے حق میں نہ کی ہو! اب اس نقصان کی تلافی کیسے کروں؟ حضرت نے فرمایا: کیا تیرے والدین باحیات ہیں؟ عرض کیا: صرف میرے باپ زندہ ہیں!۔ فرمایا: تم اپنے باپ کے پاس جاؤ اور ان کے حق میں اتنی نیکیاں کرو کہ وہ تم سے خوش ہوجائیں اور تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں۔ جب یہ شخص بزم سے جانے لگا تو آپ(ص) نے اپنے اصحاب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: کاش اس کی ماں بھی زندہ ہوتی !
ایک دوسری روایت ایسے شخص کے بارے میں ہے کہ جس کے والدین انتقال کرگئے تھے آنحضرت(ص) اسے سے فرماتے ہیں:’’ جاؤ تم اپنے بچوں کے ساتھ نیکی کرو چونکہ اپنے بچوں کے ساتھ نیکی کرنا اپنے والدین کے حق میں نیکی کرنا شمار ہوتا ہے اور اس کے سبب انسان کی مغفرت ہوجاتی ہے‘‘۔
ایک مرتبہ کی بات ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) کی بزم، اصحاب سے چھلک رہی تھی آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جس کے پاس کوئی بچہ ہو اور وہ اس کا بوسہ نہ لیتا ہو‘‘؟ اس بزم میں ایک ایسا شخص تھا جس نے سوچا کہ ایسا کرنا( یعنی اپنے بچے کا بوسہ نہ لینا) مردانگی کی نشانی ہے ، وہ کھڑا ہوگیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ، تو سرکار رسالتمآب(ص) نے فرمایا:’’ ہماری بزم سے چلے جاؤ ! چونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تمہاری قساوت اور دل کی سختی کے سبب ہم پر بھی اللہ کا عذاب نازل نہ ہوجائے‘‘۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम