Code : 2208 159 Hit

امام زمانہ(عج) کی محبت کا ایک جلوہ

علامہ سید بحرالعلوم نے فرمایا:’’جناب شیخ حسین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ حج سے لوٹنے کے بعد فلاں منزل پر قیام کے دوران جب آپ اپنے خیمہ میں بیٹھے گوشت کھانے بیٹھے تھے جسے آپ نے خود بنایا تھا کہ اچانک صحرا سے عربی لباس پہنے ایک خوبصورت جوان خیمہ میں داخل ہوا اور جس نے آپ کے ہمراہ آپ ہی کے برتن میں کھانا تناول کیا؟ وہ جوان،کوئی اور نہیں، بلکہ قطب عالم امکان حضرت صاحب العصر والزمان (عج) تھے‘‘۔

ولایت پورٹل: آیت اللہ شیخ اسد اللہ زنجانی فرماتے ہیں: میں نے اس واقعہ کو ایسے 12 معتبر افراد سے سنا کہ جنہوں نے خود ایک ایسی شخصیت و عالم سے نقل کیا جو سید بحر العلوم(قدس سرہ) کے حلقہ احباب میں تھے وہ بزرگوار کہتے ہیں کہ:’’ جس وقت جناب آیت اللہ شیخ حسین نجفی بیت اللہ سے حج کرکے واپس نجف اشرف تشریف لائے تو نجف کے جید علماء اور اساتذہ شیخ کو مبارکباد دینے کے لئے ان کے دولت کدہ پر پہونچے۔ ان میں عالم تشیع کی مایہ ناز شخصیت اور اپنے زمانے کے مشہور فقیہ و عارف حضرت علامہ سید بحر العلوم(قدس سرہ) بھی تھے چونکہ علامہ بحر العلوم کی شیخ حسین نجفی کے ساتھ گہری دوستی و رفاقت تھی چنانچہ باتیں ہوتی رہیں اسی اثنا میں علامہ بحرالعلوم نے اپنا رُخ شیخ کی طرف کرکے فرمایا:’’ شیخ حسین! اب آپ اتنے عظیم و باکمال ہوگئے ہیں کہ آپ کو تو حضرت امام زمانہ(عج) کا ہمنوالہ و پیالہ ہونا چاہیئے!‘‘۔
شیخ حسین نجفی یہ سن کر مبہوت رہ گئے اور ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا ۔یہ سن کر حاضرین کو بھی سید بحرالعلوم سے اصل واقعہ کو سننے کا اشتیاق ہوا اور انہوں نے سید بحرالعلوم سے سوال کر ہی لیا کہ جناب عالی اصل واقعہ سے ہمیں بھی مطلع فرمائیے!
علامہ سید بحرالعلوم نے فرمایا:’’جناب شیخ حسین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ حج سے لوٹنے کے بعد فلاں منزل پر قیام کے دوران جب آپ اپنے خیمہ میں بیٹھے گوشت کھانے بیٹھے تھے جسے آپ نے خود بنایا تھا کہ اچانک صحرا سے عربی لباس پہنے ایک خوبصورت جوان خیمہ میں داخل ہوا اور جس نے آپ کے ہمراہ آپ ہی کے برتن میں کھانا تناول کیا؟ وہ جوان،کوئی اور نہیں، بلکہ قطب عالم امکان حضرت صاحب العصر والزمان (عج) تھے‘‘۔
ایک عالم دین بیان کرتے ہیں کہ میں ہر بدھ کو کوفہ کی مسجد سہلہ میں جایا کرتا تھا(چونکہ مسجد سہلہ کے لئے ملتا ہے جو شخص مسلسل بدھ کی 40 راتیں مسجد سہلہ میں عبادت کرتے ہوئے گذارے اسے امام زمانہ(عج) کی زیارت نصیب ہوتی ہے)اور میں اس دوران بہت کم کھانا کھاتا تھا اور حیوانی کھانے (گوشت وغیرہ ) سے مکمل پرہیز کرتا تھا تقریباً 34 یا 35 ویں شب بدھ تھی اور میں مسجد میں نماز و عبادت میں مشغول تھا تو میں نے دیکھا ایک عربی شخص آیا اور میرے قریب آکر بیٹھ گیا۔ اس نے پہلے قرآن پڑھا اور پھر مجھ سے بات کرنا شروع کردی ۔ میں اس کی باتوں کا با دل نخواستہ جواب دیتا رہا چونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اسے باتیں کرکے میں اپنے وظیفہ میں خلل ڈالوں اسی اثنا میں اس نے دسترخوان بچھایا اور بہت ہی مرغّن  اور گوشت سے بنی غذا کھانے میں مصروف ہوگیا اور اس نے مجھ سے بھی کھانا کھانے کے لئے اصرار کیا۔
اس کا اصرار تھا اور میرا انکار،آخرکار میں نے اس سے کہا کہ میں حیوانی غذا(گوشت وغیرہ) نہیں کھاؤں گا ۔ اس شخص نے کہا: آجائیں کھانا کھا لیں یہ آپ کیسی شرط لگائے بیٹھے ہیں (حیوانی غذا نہ کھاؤ) بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حیوان کی طرح کھانا نہ کھاؤ!



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम