Code : 839 12 Hit

نہج البلاغہ میں آرزؤوں کے پیچھے دوڑنے والے کی مذمت

انسان اس لئے آرزؤوں تک نہیں پہنچ سکتا چونکہ زندگی مختصر ہے اور یہ چند آرزؤوں میں الجھتے اور انہیں پورا کرتے ختم ہوجائے گی۔اور پھر موت کی منزل آجائے گی جس سے بہر حال اسے سامنا کرنا ہے جس طرح اس سے پہلے لوگوں کے ساتھ ہوا۔دنیا کی طبیعت اور قانون یہی ہے اور ہر انسان کو اسی کے مطابق چلنا ہے۔

ولایت پورٹل: انسان دنیا میں  بہت زیادہ  آرزئیں رکھتا  ہے،کچھ چھوٹی کچھ بڑی،کچھ قریب کی تو کچھ دور کی،کچھ ممکن کچھ ناممکن ۔لیکن کیا انسان ہر آرزو کو پاسکتا ہے؟ہر خواہش کی تکمیل کرسکتا ہے؟کیا اس دنیا میں اتنی ظرفیت پائی جاتی ہے کہ وہ انسان کو اس کی تمام آرزؤوں تک پہنچاسکے؟غالب کے بقول:
                                                   ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
                                                    بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

انسان کے اندر خواہشوں اورآرزؤوں کا ایک سمندر ہے جس کے اندر گہرائی بھی بہت زیادہ  ہے اور وسعت بھی۔اس لئے امیر المؤمنین علیہ السلام نے اپنے بیٹے امام حسن علیہ السلام کو نصیحت فرمائی ہے: ’’وَاعْلَمْ يَقِيناً أَنَّكَ لَنْ تَبْلُغَ أَمَلَكَ وَ لَنْ تَعْدُوَ أَجَلَكَ وَ أَنَّكَ فِي سَبِيلِ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ ‘‘۔اے بیٹا! یہ بات یقین کے سا تھ سمجھ لو کہ تم نہ ہر امید کو پاسکتے ہو اور نہ اجل سے آگے جاسکتے ہو۔ تم اگلے لوگوں کے راستہ ہی پر چل رہے ہو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان آزرؤوں کے پیچھے نہ بھاگے ،وہ کتنا بھی بھاگنے کی کوشش کرے ان تک نہیں پہنچ سکتا۔غور کیجئے کہ یہاں امام علی علیہ السلام تأکید کے ساتھ فرمارہے کہ میں یہ بات یقین کےساتھ کہہ رہا ہوں ،یہ محض گمان نہیں ہے۔
انسان کیوں  آرزؤوں تک نہیں پہنچ سکتا ؟اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ زندگی چند آرزؤوں  میں الجھتے اور انہیں پورا کرتے ختم ہوجائے گی۔اور پھر موت کی منزل آجائے گی جس سے بہر حال اسے سامنا کرنا ہے جس طرح اس سے پہلے لوگوں کے ساتھ ہوا۔دنیا کی طبیعت اور قانون یہی ہے اور ہر انسان کو اسی کے مطابق چلنا ہے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम