Code : 2538 44 Hit

اسلام کو دہشتگردی کے ساتھ جوڑنا سراسر غلط ہے:ترک صدر

ترکی کے صدر نے بعض یورپی اور مغربی ممالک میں اسلامو فوبیا میں اضافے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یورپی اور مغربی ممالک کے کچھ ذرائع ابلاغ اور کچھ سیاستداں اسلام کےخلاف تعصب سے کام لیتے ہیں۔

ولایت پورٹل:اناطولیہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز ترک صدر جب طیب اردگان نے ان مغربی ممالک کی مذمت کی جو "دہشت گردی" کے ساتھ ساتھ "اسلام" کا لفظ استعمال کرتے ہیں،ترکی کےصدر نے نیٹو اجلاس کے ذیل میں  لندن میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  اسلام کو امن وصلح کا مذہب قرار دیا اور کہا کہ حال ہی میں یورپ میں نسل پرستی ، امتیازی سلوک اور اسلام دشمنی میں اضافہ ہوا ہے اور مسلم معاشروں  کی انتہا پسند دائیں بازو کی تحریکوں کونشانہ بنایا جاتا ہے،انہوں نے اسلام مخالف تعصب کو مزید بڑھاوا دینے میں مغربی  میڈیا اور کچھ یورپی سیاستدانوں کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے وضاحت کی: "یوروپی پارلیمنٹ کے حالیہ انتخابات نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ یورپ میں شناخت کی سیاست تیزی سے مروجہ ہوچکی ہے،ترک صدر نے ملک کے اندرونی معاملات اور فوجی کارروائیوں کے سلسلہ  میں مغربی مداخلت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ، "جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ دہشت گردی اور دھمکیوں کے ذریعہ ترکی کو نظم و ضبط دے سکتے ہیں وہ غلطی پر ہیں ،ہماری خارجہ پالیسی آزادانہ ہے اور  نہ ہی ہم  کسی کو اپنی حفاظت کرنے کے لیے سوچنے کی اجازت دیتے ہیں،اردگان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جب تک شمالی شام کو کرد ملیشیا سے پاک نہیں کیا جاتا امن کے چشمے کا آپریشن جاری رہے گاانھوں نے  پناہ گزینوں کے لئے انقرہ کو ،مالی اعانت دینے کے اپنے وعدے کو پورا نہ کرنے پر یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ترکی پہلے ہی سرحد پر واقع کیمپوں میں چار ملین سے زائد شامی مہاجرین کو پناہ دے چکا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین