Code : 2222 121 Hit

چلو کربلا چلیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ زائر امام حسین(ع) کے نامہ اعمال میں ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کے ایک ہزار گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ جب کہ ایک دوسری روایت میں زائر کے نامہ اعمال میں ایک لاکھ نیکیاں لکھ جانے اور اس کے ایک لاکھ گناہ بخش دئیے جانے کا تذکرہ ملتا ہے۔ظاہر ہے یہ جو الگ الگ نیکیوں کا ثواب اور گناہوں کی بخشش کا ذکر ملتا ہے یہ کوئی احادیث میں تضاد نہیں ہے بلکہ یہ اس زائر کی معرفت اور سفر کے دوران پیش آنے والی مشقتوں کے حساب سے ہے۔

ولایت پورٹل: جیسے جیسے اربعین کے دن قریب آرہے ہیں ہر طرف امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی تیاریاں اپنے زور و شور اور عروج پر ہیں یہ اس امام مظلوم علیہ السلام کے چہلم و اربعین کی تیاریاں ہیں جس کے جسم اقدس کو شامیوں و کوفیوں نے پامال سم اسپاں کرکے بغیر کفن و دفن کے کربلا کے تپتے صحرا میں چھوڑ دیا تھا۔
آج الحمد للہ! امام حسین(ع) کی زیارت کو جانے کے لئے امڈتا ہوا سیلاب ہے اور دور و دراز سے لوگ آسانی کے ساتھ کربلا جا سکتے ہیں لیکن ایک دور تو ایسا بھی آیا کہ جب امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنے پر اتنی شدید پابندیاں تھیں کہ بغیر اپنا قیمتی مال قربان کئے کوئی زیارت کے لئے نہیں جاسکتا تھا،کچھ بزرگ علماء کی اگر مانیں تو اپنے گود کے پالوں کی گردنیں کٹوا کر بھی لوگوں نے امام حسین(ع) کی زیارت کی ہے یہاں تک کہ ابھی کچھ برس پہلے تک سامراجی طاقتوں کے نوکر صدام جیسے ظالموں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی جیسا کہ ہمارے کچھ بزرگ دوستوں اور ساتھیوں نے بیان کیا ہے کہ جس وقت وہ صدام کی ظالمانہ حکومت کے دور میں زیارت کو گئے تو صدام کی فوج کے رائیفل بردار اور دوسرے اسلحوں سے لیس سپاہی امام حسین(ع) کے روضے کے اندر کھڑے رہتے تھے تاکہ کوئی امام عالی مقام کی مظلومیت کو یاد کرکے رو نہ سکے اور اگر کسی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے یا وہ کچھ بے چینی و اضطراب کا مظاہرہ کرتا تو اسے امام علیہ السلام کے روضے کے اندر ہی مارتے تھے اور پھر اسے پکڑ کر گاڑی میں ڈال کر کسی نامعلوم جگہ پر لیکر چلے جاتے تھے۔
ظالم اور ستمگروں نے اپنی حد سے بڑھ کر امام حسین علیہ السلام کی زیارت سے روکنے کی بہت کوششیں کی ہیں لیکن امام حسین علیہ السلام نے جس اللہ کے نام اور اس کے دین کو زدہ رکھنے کے لئے یہ عظیم قربانی دی تھی اس نے اپنے وعدے کو پورا کیا اور لاکھ پابندیوں اور مظالم کے باوجود امام حسین علیہ السلام کے چاہنے والوں کے دل میں اس گرمی کو باقی رکھا جو انہیں کھینچ کر کربلا لے جاتی رہی اور اب جب صدام اور داعش جیسے ظالم اپنے انجام تک پہونچ چکے ہیں تو اب حال کچھ ایسا ہے کہ اسی مظلوم امام(ع) کی زیارت کرنے والوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
اور پیدل زیارت کو آنے والوں کا منظر تو بیان سے باہر ہے ، میں خود جب پہلی بار اس قافلہ عشق کا حصہ بنا تو کئی لوگ پیدل چلنے والے زائرین کے درمیان ایسے بھی ملے جو 500 کیلومیٹر یا اس سے بھی زیادہ دور سے پیدل چل کر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو آئے تھے اور یہ پیدل زیارت کوئی نئی رسم یا نئی روایت نہیں ہے بلکہ اس کے متعلق کثیر تعداد میں روایات موجود ہیں جیسا کہ’’نورالعین فی مشی زیارت قبر الحسین(ع)‘‘ نامی کتاب میں 21 حدیثیں پیدل زیارت کو جانے کی فضیلت میں موجود ہیں۔
اسی طرح کتاب وسائل الشیعہ میں ایک مکمل باب ہے جس کا نام :’’باب وجوب زیارت الحسین و الآئمۃ‘‘ ہے چنانچہ اس کتاب میں نقل ہوا ہے کہ پیدل زیارت کے لئے جانے والے کے ہر قدم کے بدلے ملنے والے ثواب کا اجمالی خاکی اس طرح ہے: نیکیاں دوگُنا ہوجاتی ہیں،گناہ معاف ہوجاتے ہیں،درجات بلند ہوتے ہیں ایک حج اور ایک عمرہ مقبولہ کا ثواب ملتا ہے پیغمبر اکرم(ص) یا امام معصوم(ع) کے ہمراہ جہاد کرنے کا ثواب نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے کہ جس کا خون راہ خدا میں زمین پر بہہ جائے۔(وسائل الشیعہ،ج14، ص17)
اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری حدیثوں میں پیدل زیارت کرنے والے کے ہر قدم کے بدلے ثواب کی الگ الگ تعداد بیان ہوئی ہے جیسا کہ زائر کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے  اور اس کا ایک گناہ بخش دیا جاتا ہے۔(کامل الزیارات ،ص 134) اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہے اور دس گناہ بخش دیئے جاتے ہیں(کامل الزیارات،ص187) اس کے نامہ اعمال میں ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اس کے ایک ہزار گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔(کامل الزیارات،ص 132) زائر کے نامہ اعمال میں ایک لاکھ  نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کے  ایک لاکھ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔(بحار الانوار،ج101 ،ص 202) غرض یہ سب کچھ زائرین کے لئے بیان ہوا ہے۔
ظاہر ہے یہ جو الگ الگ نیکیوں کا ثواب اور گناہوں کی بخشش کا ذکر ملتا ہے یہ کوئی احادیث میں تضاد نہیں ہے بلکہ یہ اس زائر کی معرفت اور سفر کے دوران پیش آنے والی مشقتوں کے حساب سے ہے۔
شیخ مرتضٰی انصاری(رح) جیسے عظیم فقیہ بھی اس سنت کو زندہ رکھنے والوں میں شامل تھے اور وہ خود بھی نجف سے کربلا پیدل جایا کرتے تھے ۔ میرزا حسین نوری(رح) ہر سال پیدل امام حسین(ع) کی زیارت کو جایا کرتے تھے ،علامہ محمد مہدی بحرالعلوم(رح) بھی طویرج سے پیدل زیارت کو آنے والے لوگوں میں آگے آگے رہتے تھے۔ علامہ شیخ کاشف الغطاء(رح) بھی ہر سال زیارت کو جاتے تھے اور اسی طرح آیت اللہ العظمٰی مرعشی نجفی(رح) کی زندگی کے حالات میں ملتا ہے کہ آپ نے 20 بار کربلا کی پیدل زیارت کی ۔(فرہنگ زیارت،ص 56)
پچھلے کچھ سالوں میں شب برأت (14 شعبان،امام زمانہ(عج) کی ولادت کی شب) اور اربعین پر زائرین کی تعداد کو کوریج کرنے کے لئے پوری دنیا سے میڈیا والے آتے ہیں اور دنیا اس منظر کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوجاتی ہے کہ آخر یہ کون ہستی ہے جس کی قبر پر پوری دنیا سے ہر سال کروڑوں کی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد کا ایک چھوٹے سے شہر میں جمع ہوجانا اور ان کے کھانے پینے کا انتظام اور دوسری ضرورتوں کا پورا ہونا ایک معجزہ ہے!
اور ان سب کے ساتھ ساتھ عراق کے وہ مؤمنین بھی شکرئے اور دعا کے حقدار ہیں جو اپنی محنت کی کمائی امام حسین(ع) کی عزاداروں اور زائروں پر بڑی مہربانی سے خرچ کردیتے ہیں، جو جاچکے ہیں انہوں نے دیکھا ہے کہ کس طرح منت و سماجت اور التماس کرتے ہیں کہ ان کے کھانے کے اسٹال سے آپ کچھ کھا لیجئے۔
ان ساری باتوں کے ساتھ ساتھ ان آداب کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے جو امام  حسین(ع) کی زیارت کے لئے خاص طور سے بیان کئے گئے ہیں جن میں سے کچھ اہم اس طرح سے ہیں۔
1۔زیارتی سفر شروع کرنے سے پہلے 3 دن روزہ رکھنا۔
2۔لذیذ کھانوں سے پرہیز کرنا اور سادے کھانے پر راضی رہنا۔
3۔دکھ اور غم کی حالت میں زیارت کرنا۔
4۔خوشبو کے استعمال سے پرہیز کرنا۔
5۔جس حالت میں کربلا وارد ہوئے ہیں انہیں کپڑوں اور اسی حالت میں جاکر زیارت کو جانا۔
6۔زیارت سے پہلے فرات پر جاکر غسل کرنا۔
7۔پیدل زیارت کے لئے جانا۔(مفاتیح الجنان)
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम