معروف سعودی سماجی کارکن کی جیل میں موت؛عالمی برادری کا رد عمل

ایک سعودی سماجی کارکن کی طبی غفلت کی وجہ سے جیل میں موت پر ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سمیت سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد کی جانب سے اس طرح کی غیر قانونی اور غیر عدالتی پھانسیوں پر ردعمل کا اظہار کیاگیا ہے۔

ولایت پورٹل:اناتولی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق 2013 سے جیل میں بند سعودی سیاسی اور سماجی کارکن عبد اللہ الحامد کی طبی غفلت کی وجہ سے  جیل میں موت کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل  اوراقوام متحدہ کے خاص رپورٹر سمیت متعدد سوشل میڈیا صارفین نے اس طرح کی  غیر قانونی اور غیر عدالتی پھانسیوں پر رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر ایگنس کالمارنے قانون سے بالاتر اس طرح کی سزاؤں کوافسوسناک قرار دیتے ہوئے رمضان المبارک کے ابتدائی دنوں میں مذکورہ سعودی سماجی کارکن کی کو غم انگیز قرار دیا۔
انہوں نے ایک ٹویٹر پوسٹ میں لکھا کہ  رمضان کے پہلے دن کی افسوسناک خبر سعودی جیل میں عقیدہ کی بنا پر قید، شاعر اور سماجی  کارکن ڈاکٹر عبد اللہ الحامد کی موت ہے۔
یادرہے کہ شعبہ حقوق میں ڈاکریٹ  کیے ہوئے سعودی شہری عبداللہ الحامدجو 2013 سے جیل میں حال ہی میں برین ہیمریج کی وجہ سے کوما میں چلے گئے اور کل صبح انتقال کرگئے۔
وہ سعودی عرب میں سول اور سیاسی حقوق کی انجمن کے بانی اور معاصر سعودی تاریخ میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لئے ملک میں اصلاحات کے حامی تھے۔
ادھر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد سعودی عرب میں عقیدہ کے بنا پر قید کیے جانے والے افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مذکورہ سعودی سماجی اور سیاسی کارکن کی جیل میں  موت ہونے کے بعد  ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا اسے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ الحامد کی نظربندی کے دوران موت ہوگئی ۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین