Code : 3465 34 Hit

شب قدر اور حضرت موسی کی خواہشیں

رسول اللہ(ص) کا ارشاد ہے:اللہ تعالیٰ نے میری امت کو شب قدر کا عطیہ دیا ہے اور ایسا تحفہ اللہ نے ان سے پہلے والے لوگوں کو نہیں دیا۔یعنی گزشتہ انبیاء کی امتوں کو اس نعمت عظمیٰ سے محروم رکھنا اور امت محمدیہ(ص) کو اس نعمت سے نوازنا یہ ایک جانب سے اس امت کی شرافت اور برتری پر دالت کرتا ہے اور دوسری جانب سے اس امت کے امتحان کو بھی سخت کر دیتا ہے چونکہ اگر نعمت کی قدر نہ کی جائے اور اس سے صحیح استفادہ نہ کیا جائے تو اس پر حساب و کتاب بھی اتنا سخت ہوتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! شب قدر رمضان المبارک کا قلب ہے اس میں کی جانے والی دعائیں مستجاب ہوتی ہیں اگرچہ بعض روایات میں اس جانب اشارے ملتے ہیں کہ شب قدر، صرف امت پیغمبر اکرم(ص) سے مخصوص ہے اور یہی وجہ ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  اس شب کو اپنی امت کے لئے اللہ کا خاص عطیہ  بتلایا ہے :’’ اِنَّ اللّه َ وَهَبَ لاُمَّتی لَیْلَهَ الْقَدْرِ لَمْ یُعْطِها مَنْ کانَ قَبَلَهُمْ ‘‘۔(جامع الصغیر، ج۱، ص۲۷۸ ؛ الدرّ المنثور ، ج 8 ، ص 570 . ۱)۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے میری امت کو شب قدر کا عطیہ دیا ہے اور ایسا تحفہ اللہ نے ان سے پہلے والے لوگوں کو نہیں دیا۔یعنی گزشتہ انبیاء کی امتوں کو اس نعمت عظمیٰ سے محروم رکھنا اور امت محمدیہ(ص) کو اس نعمت سے نوازنا یہ ایک جانب سے اس امت کی شرافت اور برتری پر دالت کرتا ہے اور دوسری جانب سے اس امت کے امتحان کو بھی سخت کر دیتا ہے چونکہ اگر نعمت کی قدر نہ کی جائے اور اس سے صحیح استفادہ نہ کیا جائے تو اس پر حساب و کتاب بھی اتنا سخت ہوتا ہے۔
ایک طرف تو یہ روایت ہے اور دوسری طرف یہ روایت بھی موجود ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہ پروردگار میں دست دعا بلند کئے اور عرض کیا:
خدایا! میں تیرا قرب چاہتا ہوں۔ ارشاد ہوا: میرا قرب اس شخص کے لیے ہے جو شب قدر کو بیدار رہے۔
حضرت موسی (ع) نے کہا:
خدایا! تیری رحمت چاہتا ہوں۔ ارشاد ہوا: میری رحمت اس شخص کے لیے ہے جو شب قدر کو مسکینوں پر رحم کرے۔
کہا: خدایا! میں پل صراط سے گزرنا چاہتا ہوں۔ ارشاد ہوا: پل صراط سے وہ گزر سکتا ہے جو شب قدر کو صدقہ دے۔
کہا: خدایا! میں جنت کے پھلوں کا مشتاق ہوں۔ ارشاد ہوا: جنت کے پھل اس شخص کے لیے ہیں جو شب قدر کو تسبیح بجا لائے۔
کہا: بارلٰہا! آتش جہنم سے نجات چاہتا ہوں۔ ارشاد ہوا: یہ اس شخص کے لیے ہے جو شب قدر کو طلب مغفرت کرے اور توبہ کرے۔
حضرت موسی (ع) نے کہا: خدایا! تیری خشنودی کا طالب ہوں۔ اللہ نے فرمایا: میری خشنودی اس شخص کے لیے ہے جو شب قدر کو دو رکعت نماز بجا لائے۔( الاقبال، ج۱، ص۳۴۵، بحار الانوار،ج۹۸، ص ۱۴۵، ح۳۔ مراقبات ماہ رمضان، س ۳۵۲ ح ۲۴۵)۔
پس اس روایت سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ شب قدر ہر امت میں موجود تھی چونکہ روزے اس امت کی طرح سابقہ امتوں پر بھی فرض تھے۔ اور ہو سکتا ہے کہ شب قدر کی اتنی عظمت سابقہ امتوں میں نہ رہی ہو جتنی اس امت کے لئے قرار دی گئی ہے۔
بہر حال چاہے یہ مان لیا جائے کہ شب قدر سابقہ امتوں میں بھی موجود تھی تو یہ ایک قطعی امر ہے کہ اس شب قابل عظمت تھی ، اس میں دعائیں مستجاب ہوتی تھیں اور اللہ کا قرب اسی میں حاصل کیا جاتا تھا۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین