Code : 2405 62 Hit

کیم جونگ ان پر ٹرمپ کا جادو چل گیا ہے:ٹرمپ کےداماد کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر اعلی نے دعوی کیا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ ٹرمپ کو اپنے باپ کی جگہ سمجھتے ہیں اور ان سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔

ولایت پورٹل:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اعلیٰ اور داماد جیرڈ کوچنرنے دعوی کیا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کیم جونگ ان ٹرمپ کو اپنے باپ کی طرح سمجھتے ہیں،کوچنر کا یہ دعوی ڈونگ ویڈ کی کتاب ’’ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس کے اندر‘‘ میں نقل ہوا ہے ،یہ کتاب عنقریب امریکہ سے شائع ہوگی، فاکس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس کتاب کے ایک حصے میں کیم  اور ٹرمپ کے تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ کتاب کے مصنف نے دونوں سربراہوں کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کے بعض خطوط کو پڑھا ہے اور وائٹ ہاؤس کے اعلی عہدے داروں سے اس سلسلے میں گفتگو بھی  کی ہے، کتاب میں جیرڈ کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ کیم  اس وقت باپ کی کیم جونگ ایل کی وصیت اور ٹرمپ کی تجویز کردہ سفارتکاری کے درمیان کھڑے ہیں،جیرڈ نے کہا ہے کہ یہاں پر باپ بیٹے کا مسئلہ ہے کیم کی طرف سے آنے والے خطوط میں واضح ہے کہ وہ ٹرمپ کے دوست بننا چاہتے ہیں لیکن ان کے باپ نے ان کو وصیت کی تھی اسلحہ سے کبھی بھی دستبردار نہ ہوں اس لیے اسلحہ امن قائم کرنے کا واحد ذریعہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ ٹرمپ میرے لیے باپ کی حیثیت رکھتے ہیں، کتاب کے اگلے حصے میں باراک اوباما کے بارے میں ٹرمپ کے اظہارات خیال کا حوالہ دیتے ہوئے  لکھا گیا  ہے کہ جب اوباما وائٹ ہاؤس چھوڑ رہے تھے تو انھوں نے ٹرمپ کو انتباہ دیا تھا کہ شمالی کوریا کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے تیاری کر لیں کتاب میں ٹرمپ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے اوبامہ نے مجھ سے کہا کہ جب میں صدر بنوں گا تو میرے سامنے سب سے بڑا مسئلہ شمالی کوریا کے ساتھ ممکنہ جنگ کا ہوگا،دراصل انہوں نے خصوصی طور پر مجھ سے کہا  کہ تمہارے سامنے شمالی کوریا کے ساتھ جنگ ہوگی،ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اوباما نے کبھی بھی کیم کے ساتھ بات کرنے کی کوشش نہیں کی اس لیے کہ وہ انھیں ایک ڈکٹیٹر سمجھتے تھے جبکہ اوباما کا یہ احمقانہ خیال تھا ویڈ نے وائٹ ہاؤس کے اعلی عہدیداروں کے انٹرویوز نیز کیم اور ٹرمپ کے درمیان رد بدل ہونے والے خطوط کو پڑھ کر یہ دعوی کیا ہے کہ کیم پر ٹرمپ کا جادو چل چکا ہے اس لیے کہ  وہ انھیں دنیا کی تاریخ کا اکیلا  انسان سمجھتے ہیں،وہ ٹرمپ کے ساتھ مل کر رکھنا چاہتے ہیں ۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम