Code : 979 10 Hit

ایک یہودی کے مقابل امیرالمؤمنین(ع) کا عدالتی کردار

دنیا نے ایسا حکمراں کہاں دیکھا کہ اگر جسے ساتوں اقالیم کی حکومت بھی دیدی جائے تو وہ اس بات پر تیار نہ ہو کہ کسی چیونٹی کے منھ سے ایک جو کے دانے کا چھلکا بھی ناحق چھینے،ایسی شخصیت کی ولادت پر کائنات کے ہر مظلوم و ستم رسیدہ کی خدمت میں مبارکباد پیش ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! مقام فخر اور لائق تأسی ہیں امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام  کی با کمال ذات کہ جن کے پرچم ولایت کے سائے میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام ہیں:’’آدم ومن دونه تحت لوائی‘‘۔ اور دوسری طرف آپ ایک عظیم اسلامی حکومت کے فرمانروا تھے۔یعنی آج عالم اسلام کے تقریباً 30 ممالک تک آپ کا اقتدار تھا۔ ایک مرتبہ ایک یہودی باشندہ کہتا ہے کہ یا علی! یہ زرہ میری ہے۔لیکن علی(ع) نے فرمایا: یہ میری زرہ ہے فلاں جنگ میں چھوٹ گئی تھی ۔لیکن یہودی اصرار کرتا ہے کہ نہیں یہ تو میری ہے۔اور میں اس وقت تک اپنے دعوے سے دستبردار نہیں ہونگا جب تک کہ آپ عدالت میں قاضی کے سامنے حاضر ہوکر اپنے مقدمے کی پیروری نہ کرلیں۔
قارئین! یہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے! وہ علی جو خلیفہ و حاکم وقت ہوں اور ان کے سامنے آکر کوئی اپنا نہیں،کوئی مسلمان نہیں بلکہ آپ ہی کی مملکت میں آباد یہودی جو اس وقت عرب کا کافر ذمی اور اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والا تھا وہ یہ مطالبہ کرتا ہے کہ میں اپنے دعوے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا جب تک آپ بھی عدالت میں آکر اپنے حق کے لئے دلیل و گواہ پیش نہ کردیں۔
حضرت علی علیہ السلام نے منع نہیں کیا اور یہودی کے مطالبہ پر عدالت میں آگئے جہاں عدالت بھی آپ کی اور وہاں بیٹھا ہوا قاضی بھی آپ ہی کی حکومت کا ایک شخص۔ جیسے ہی اس نے یہودی کے ساتھ امیرالمؤمنین(ع) کو دیکھا اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا ۔آپ نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا اور جاکر اس جگہ کھڑے ہوگئے جہاں یہودی کھڑا تھا چنانچہ قاضی نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! آپ حکم کرتے تو میں خود حاضر خدمت ہوجاتا۔آپ نے عدالت میں آنے کی زحمت کیوں فرمائی،فرمایا:شریح! یہ ایک قاضی کو زیب نہیں دیتا کہ جب سامنے دو مدعی ہوں ایک سے اچھا برتاؤ کرے لہذا میں یہاں خلیفہ وقت اور امیرالمؤمنین بن کر نہیں آیا ہوں بلکہ آج میں اپنے حق کے اثبات کے لئے ایک مدعی بن کر آیا ہوں لہذا یہ سب چھوڑو اور اپنے منصب کے تقاضے کے پیش نظر ہم دونوں سے ایک جیسا برتاؤ کرو۔
اب قاضی نے یہودی سے پوچھا کہ تمہاری دلیل کیا ہے کہ یہ زرہ تمہاری ہے؟ یہودی کہتا ہے چونکہ یہ میرے پاس ہے اور میرے قبضہ میں ہے اور قبضہ دلیل ملکیت ہوتا ہے۔
اب قاضی علی(ع) کی طرف متوجہ ہوتا ہے:یا علی(ع) آپ گواہ پیش کیجئے کہ یہ زرہ آپ ہی کی ہے؟
حضرت علی(ع) نے فرمایا: میرے پاس تو کوئی گوہ نہیں ہے۔
لہذا قاضی نے اس یہودی کو زرہ کا حقدار ٹہراتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔
اب حضرت امیر علیہ السلام یہ فیصلہ تسلیم کرکے اپنے بیت الشرف کی طرف قدم زن ہوتے ہیں ایک مرتبہ یہودی کا ذہن چکرا گیا کہ علی اس مملکت کے فرمانروا ہیں،یہ زرہ بھی ان کی، یہ عدالت بھی ان کی یہ قاضی بھی ان کا اور پھر بھی میرے حق میں فیصلہ ہوگیا۔قدموں میں گرگیا۔یا علی! یہ زرہ آپ ہی کی تھی اور میں نے تو یہ سبب اس وجہ سے کیا کہ میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا یہ وہی دین ہے جس کی بشارت موسیٰ(ع) نے دی تھی۔میرا دعویٰ ابتداء سے باطل تھا اور مجھے معاف کردیجئے کہ میں نے آپ جیسے عظیم المرتبت شخص کو عدالت میں لاکھڑا کیا۔معاف کیجئے میں تو ایمان لانے سے پہلے مکمل طور پرمطمئن ہونا چاہتا تھا کہ کیا اسلام ہی دین حق ہے اور کیا آپ ہی رسول اللہ(ص) کے حقیقی جانشین ہیں؟ اور اب بے ساختہ زبان پر کلمہ توحید جاری کردیا:’’ أشهد ان لا اله الا الله و  أشهد ان محمداً عبدہ و رسولہ‘‘۔
جہاں یہودی کو حضرت علی(ع) کا انداز عدل پسند آیا وہیں امیر کائنات(ع) کو بھی اس شخص کا انداز جستجو اور تحقیق اتنا پسند آیا کہ آپ نے اس زرہ کو یہودی کو بخش دیا اور ساتھ میں 700 درہم بھی بطور ہدیہ اسے عنایت فرمائے ۔اب وہ علی(ع) کا اتنا شیدائی ہوگیا کہ وہ جنگ صفین میں حاضر ہوا اور حضرت کی رکاب میں لڑتا ہوا شہید ہوگیا۔
قارئین آپ نے ملاحظہ فرمایا علی کا منشور حکومت کیا تھا اور آپ نے کس طرح عملی عدالت کا ثبوت پیش کیا۔
دنیا نے ایسا حکمراں کہاں دیکھا کہ اگر جسے ساتوں اقالیم کی حکومت بھی دیدی جائے تو وہ اس بات پر تیار نہ ہو کہ کسی چیونٹی کے منھ سے ایک جو کے دانے کا چھلکا بھی ناحق چھینے،ایسی شخصیت کی ولادت پر کائنات کے ہر مظلوم و ستم رسیدہ کی خدمت میں مبارکباد پیش ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम