Code : 1542 39 Hit

انہدام جنت البقیع ایک تاریخی المیہ(3)

آج قبر زہرا(س)کی گمشدگی آپ کے عقیدتمندوں کے لئے ایک ناقابل تحمل درد کا احساس ہے۔ کاش دریگانہ نبوت کی قبر مطہر پر ایک عالیشان روضہ تعمیر ہوتا اور خاندان رسول و آل رسول(ص) سے عقیدت رکھنے والے پروانہ وار اس کے گرد چکر لگا کر عقیدتوں کے پھول نچھاور کرتے اور اپنا دامن مراد بھرتے لیکن فسق و فجور اور کفر و نفاق نے اسلام کے نام پر یہ گوہر گرانبہا ہماری نگاہوں سے اوجھل کردیا اور بقیع کے روضے مسمار کرکے فرزندان زہرا کی قبروں کو ویران کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی آج مایوسی غربت اور بے کسی جنت البقیع کی داستان الم کو بیان کرتے ہوئے قبر زہرا(س)کی گمشدگی کا مرثیہ پڑھ رہی ہے۔


                                                                             گوہر گمشدہ
ولایت پورٹل: اس حقیقت سے  کسی طرح بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نبی اکرم(ص)نے اپنی ۶۳ سالہ حیات برکت میں جس طرح کے آزار و اذیت کا نشانہ بن کر انسانیت کو جس پستی اور ذلت سے نجات دی تھی اس کے نتیجہ میں آپ کی آل پاک کو امت مسلمہ کے سر کا تاج ہونا چائیے تھا لیکن افسوس نبی اکرم(ص) کی وفات کے فوراً بعد آپ کی اکلوتی دختر حضرت فاطمہ زہرا(س) جنہیں نبی اکرم(ص)نے اپنا جزء قرار دیا تھا جن کی تعظیم کے لئے اپنی جگہ سے اٹھ جاتے تھے، جنہیں ام ابیہا کے لقب سے نوازا تھا،اسی امت مسلمہ نے انہیں نہ صرف یہ کہ وہ احترام نہیں دیا جس کی وہ حقدار تھیں بلکہ انہیں یکسر نظر انداز کردیا، شہزادی کونین(س) ان کے شوہر نامدار، مدافع اسلام، علی مرتضیٰ(ع) اور ان کے دونوں شہزادوں کے ساتھ امت مسلمہ نے جو برتاؤ کیا وہ تاریخ اسلام کےجگر کا ناسور ہے۔
یہ بھی پڑھئے:
انہدام جنت البقیع ایک تاریخی المیہ(1)
انہدام جنت البقیع ایک تاریخی المیہ(2)
نبی اکرم(ص) کی وفات کے بعد  آپ کےدروازہ پر آگ اور لکڑیوں کا اکٹھا ہونا، پہلوئے مبارک کا شکستہ کیا جانا ۱۸؍برس کے سن میں عصا کے سہارے چلنا ۷۵یا۹۵ دن مسلسل گریہ کرنا وہ مصائب و آلام میں جن پر ہر درد مند دل قیامت تک آنسو بہاتا رہے گا لیکن ان سب سے عظیم مصیبت اس دریگانہ کی یادگار قبر مطہر کا معلوم نہ ہونا ہے۔ امت مسلمہ کے نام نہاد سربراہوں کے مظالم سے تنگ آکر آپ نے تنہائی میں جنازہ اٹھانے کی وصیت فرمائی تھی جنازہ رات کی تاریکی میں اٹھ گیا اور قبر مطہر مصلحت الٰہی کے پردہ میں گم ہوگئی جس کی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ دنیا کے مظالم کا سلسلہ رکنے والانہیں تھا۔ شاید قدرت کو معلوم تھا کہ ایسا دور بھی آئے گا جب ظلم و ستم کی انتہا ہوجائےگی جہاں قبریں بھی ظالموں کے ظلم سے محفوظ نہ رہیں گی۔ جیسا کہ وہابی دہشت گردوں نے سن ۱۳۴۴ھ میں جنت البقیع کے قبے منہدم کرکے اس نئے ظلم و ستم کی بنا ڈالی اور پھر داعشی دہشت گردوں نے حجر بن عدی کی قبر مبارک کو کھود کر اس ظلم و ستم کی عمارت میں آخری کیل ٹھونک دی جس سے کم از کم قبر زہرا(س) پر مصلحت الٰہی کے پردہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب وہ کسی امر مقدس کی حفاظت کا ارادہ کرتا ہے تو اسے اپنی مصلحتوں کے پردہ میں چھپا لیتا ہے۔ وہ چاہے شہیدہ شہزادی کونین(س) کی قبر مطہر ہو یا ان کے لال زمانے کے امام(عج) کی حیات بابرکت۔ آج قبر زہرا(س)کی گمشدگی آپ کے عقیدتمندوں کے لئے ایک ناقابل تحمل درد کا احساس ہے۔ کاش دریگانہ نبوت کی قبر مطہر پر ایک عالیشان روضہ تعمیر ہوتا اور خاندان رسول و آل رسول(ص) سے عقیدت رکھنے والے پروانہ وار اس کے گرد چکر لگا کر عقیدتوں کے پھول نچھاور کرتے اور اپنا دامن مراد بھرتے لیکن فسق و فجور اور کفر و نفاق نے اسلام کے نام پر یہ گوہر گرانبہا ہماری نگاہوں سے اوجھل کردیا اور بقیع کے روضے مسمار کرکے فرزندان زہرا کی قبروں کو ویران کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی آج مایوسی غربت اور بے کسی جنت البقیع کی داستان الم کو بیان کرتے ہوئے قبر زہرا(س)کی گمشدگی کا مرثیہ پڑھ رہی ہے۔ اور ظالموں سے انتقام لینے والے غیب میں موجود امام کی بارگاہ میں استغاثہ کر رہی ہے۔ مولا آپ آئیں ہماری مایوسیوں کی شام ہو مقامات مقدسہ خاص طور پر مکہ مدینہ کی رونقیں واپس آئیں جنت البقیع پر عالیشان روضے تعمیر ہوں اور قبر صدیقہ طاہرہ جو پوری صالح امت اسلامیہ کا گوہر گمشدہ ہے اسے واپس مل جائے، ظلم و ستم کی شام ہو مظلومیت کو اس کا حق مل جائے، اور پوری دنیا میں امن و امان قائم ہو۔


تحریر: سید حمید الحسن زیدی

٥شوال١۴۴۰مطابق ۹جون۲۰١۹


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम