Code : 1528 85 Hit

انہدام جنت البقیع ایک تاریخی المیہ(2)

تاریخی حوالوں اور زایرین کے اقوال کے مطابق جنت البقیع میں اولاد رسول(ص) کی قبروں پر قبے اور روضے تعمیر تھے اس کے علاوہ شہزادی کونین حضرت فاطمہ(ص) کی یادگار بیت الحزن بھی تعمیر تھا استعماری سازشوں کے نتیجے میں وجود میں آنے والی سعودی حکومت نے وہابی نظریات کے اتباع میں ان مقدس بارگاہوں کو منہدم کردیا۔انہدام کی یہ کاروایی دو مرتبہ دہرایی گئی۔ پہلی بار سن۱۲۲۰ھ اور دوسری بارسن ۱۳۴۴ھ ۔ پہلی بار انہدام کے بعد سن۱۲۳۴ھ میں عثمانی حکومت کے فرماںروا سلطان محمود ثانی کے حکم سے ان میں سے بعض بارگاہیں دوبارہ تعمیر ہوئیں۔

ولایت پورٹل:
                                                       قبرستان جنت البقیع کا ایک مختصر تعارف
بقیع کے معنی
عربی میں بقیع ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں مختلف قسم کے جنگلی درخت پائے جاتے ہوں۔بقیع غرقد کی وجہ تسمیہ یہی ہے کہ یہاں کانٹے دار غرقد نامی درخت کی کثرت تھی جس کی وجہ سے اس جگہ کا نام بقیع غرقد پڑگیا۔
جنت البقیع
مدینہ منورہ کا قدیمی قبرستان، سر زمین بقیع کو قرار دیا گیا جسے بعد میں بعد قبرستان جنت البقیع کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔

اسے بھی پڑھئے:

انہدام جنت البقیع ایک تاریخی المیہ(1)
محل وقوع
قبرستان جنت البقیع مدینہ منورہ کی آبادی سے باہر مسجد نبوی کے مشرقی سمت میں واقع ہے۔ پہلے اس کے اطراف میں مکانات و باغات تھے، تیسری صدی میں جب مدینہ منورہ کی فصیل (چوطرفہ دیوار)تعمیر ہوئی تو یہ قبرستان اس سے ملا ہوا تھا۔ اس فصیل کی متعدد بار تجدید ہوئی جن میں آخری تجدید عثمانی ترکوں کے دور میں سلطان سلیمان کے زمانے میں ہوئی۔ پھر اس ملک میں امن و امان قائم ہوجانے کے بعد اس فصیل کو منہدم کر دیا گیا۔
موجودہ حدود
عصر حاضر میں شہر مدینہ کی توسیع کے بعد جنت البقیع شہر کے وسط میں قرار پاگیا ہے۔ مسجد نبوی(ص) اور جنت البقیع کے درمیان صرف ایک سڑک کا فاصلہ ہے۔بقیع کے موجودہ حدود میں وہ علاقہ بھی شامل کر لیا گیا ہے جہاں خلیفہ سوم عثمان بن عفان کی قبر تھی جو اصل جنت البقیع کے حدود کے باہر ہے۔
جنت البقیع میں مدفون پہلی اسلامی شخصیت
عام طور پر مشہور یہ ہے کہ جنگ بدر کے بعد سب سے پہلے صحابی رسول عثمان بن مظعون کی وفات کے موقع پر نبی اکرم(ص) نے انہیں بقیع میں دفن کرنے کا حکم دیا۔ آپ ایک جلیل القدر صحابی تھے۔ ان کی قبر مبارک پر علامت کے طور پر ایک پتھر رکھا اور حکم دیا کہ اس کے اطراف میں اور مرحومین کو دفن یا جائے۔
بعض مورخین نے بقیع میں مدفون پہلی شخصیت اسعد ابن زرارہ کی بیان کی ہے جس کی توجیح اس طرح ممکن ہے کہ شاید بقیع میں دفن ہونے والی انصار کی پہلی شخصیت اسعد بن زرارہ کی تھی۔
قبر جناب ابراہیم ابن رسول(ص)
جب پیغمبر اسلام(ص) کے فرزند جناب ابراہیم کی وفات ہوئی تو آپ نے انہیں بھی جناب عثمان بن مظعون کے پہلو میں دفن کرنے کا حکم دیا اس طرح قبرستان بقیع میں نسل پیغمبر اسلام(ص) کے دفن کا سلسلہ شروع ہوا۔
بقیع میں مدفون آئمہ معصومین(ع)
پیغمبر اسلام(ص) کے بارہ جانشینوں میں سے چار معصوم امام یعنی امام حسن(ع) امام زین العابدین(ع) امام محمد باقر(ع) اور امام جعفر صادق(ع) کی قبریں جنت البقیع میں ہیں۔ ایک احتمال کے مطابق صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی قبر مطہر بھی اسی قبرستان میں ہے ان قبروں پر بنے ہوئے قبہائے مطہرہ کو آل سعود کے ظالم و جابر حکمرانوں نے منہدم کر دیا۔ عالم اسلام اس عظیم سانحہ پر سوگوار ہے۔
بقیع میں مدفون دیگر شخصیات
پیغمبر اسلام(ص) کے اعزاء مثلاً آپ کے چچا جناب عباس بن عبد المطلب، آپ کے چچا زاد بھائی، جناب عقیل بن ابیطالب، آپ کے اصحاب مقداد ابن اسود، خزیمہ ذوالشہادتین، زید ابن حارثہ، جابر ابن عبداللہ انصاری کے علاوہ بہت سے اصحاب تابعین مدفون ہیں ان کے علاوہ پیغمبر اسلام(ص) کی ازواج آپ کی پھوپھیاں وغیرہ اور جناب عباس علمدار کی والدہ جناب ام البنین بھی اسی قبرستان میں مدفون ہیں۔
جنت البقیع کے منہدم قبوں اور روضوں کی تاریخ
تاریخی حوالوں اور زایرین کے اقوال کے مطابق جنت البقیع میں اولاد رسول(ص) کی قبروں پر قبے اور روضے تعمیر تھے اس کے علاوہ شہزادی کونین حضرت فاطمہ(ص) کی یادگار بیت الحزن بھی تعمیر تھا  استعماری سازشوں کے نتیجے میں وجود میں آنے والی سعودی حکومت نے وہابی نظریات کے اتباع میں ان مقدس بارگاہوں کو منہدم کردیا۔انہدام کی یہ کاروایی دو مرتبہ دہرایی گئی۔ پہلی بار سن۱۲۲۰ھ اور دوسری بارسن ۱۳۴۴ھ ۔ پہلی بار انہدام کے بعد سن۱۲۳۴ھ  میں عثمانی حکومت کے فرماںروا سلطان محمود ثانی کے حکم سے ان میں سے بعض بارگاہیں دوبارہ تعمیر ہوئیں۔
انہدام کے اسباب
استعماری طاقتوں نے اپنے ناپاک مقاصد کے لئے ہمیشہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے، ان کے درمیان نفرتیں پھیلانے اور ان کی صفوں میں اختلاف پیدا کرنے کے لئے نئے نئے اعتقادات اور نظریات کا سہارا لیا ہے چنانچہ ابن تیمیہ کے نظریات کو بنیاد بناکر وہابیت کی شکل میں ایک نیا مذہب پیدا کیا۔محمد ابن عبدالوہاب نامی خود سر جوان کو اپنے مشن کی کامیابی کے لئے آلہ کار بنایا درعیہ کے حاکم کو پورے علاقہ کی حکومت کا لالچ دیکر عبد الوہاب کا تابع بنایا اور اس طرح مسمانوں میں ایک طویل مدت کشمکش پیدا کر دی۔ شروع شروع میں پوری دنیا کے عام مسلمانوں نے اس غیر اسلامی حرکت کے خلاف احتجاج کیا  پھر آہستہ آہستہ دولت کی بنیاد پر وہابیت کی ترویج کے ذریعہ پوری دنیا میں اپنے ہمنوا پیدا کرلئے اگرچہ انصاف پسند مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی آج تک وہابیت کے اس اقدام کی مذمت کر رہے ہیں  وہابیوں نے طائف، جدہ، مکہ اور مدینہ میں مذہبی مقامات کے علاوہ کربلا اور نجف میں بھی اس قسم کے اقدامات کی کوشش کی لیکن وہاں کے بہادر عاشقان اہل بیت(ع) کی مزاحمت کے سامنے کامیاب نہ ہو سکے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر:سید حمید الحسن زیدی
۴شوال المکرم ١۴۴۰مطابق ۸جون ۲۰١۹


1
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम